ایک دن میں دنیا بھر میں کتنی عورتیں قتل ہوتی ہیں؟

An average of 137 women across the world are killed by a partner or family member every day

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرم کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ہر روز شریکِ حیات یا خاندان کے ارکان کی طرف سے اوسطاً 137 خواتین کو قتل کر دیا جاتا ہے۔

کہتے ہیں کہ عورت کے لیے قتل ہونے کی سب سے ممکنہ جگہ اس کا گھر ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2017 میں قتل ہونے والی 87000 خواتین میں سے نصف سے زائد کی موت ان کے عزیزوں کے ہاتھوں ہوئی۔

اسی بارے میں

بی بی سی 100 خواتین

وہ جنھوں نے 2017 کو خواتین کا سال بنایا

اس میں سے تقریباً 30 ہزار خواتین کی ہلاکت کی وجہ ان کے شریکِ حیات تھے اور 20 ہزار خواتین کو ان کے عزیزواقارب نے قتل کیا۔

Short presentational grey line

بی بی سی 100 خواتین ان اعداد و شمار کے پیچھے چھپی خواتین کے بارے میں مزید جاننا چاہتا تھا۔ ہم نے اکتوبر میں اس مہینے کے پہلے دن صنفی بنیادوں پر عورتوں کے قتل کی رپورٹوں کی جانچ کی۔ ہم ذیل میں ان کی کچھ کہانیوں کا ذکر کریں گے اور مزید جانیں گے کہ یہ ہلاکتیں کیسے رپورٹ کی گئیں۔

گراف

مردوں کی قتل کی شرح خواتین کے مقابلے میں پھر بھی زیادہ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرم کی طرف سے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق ’خواتین کے مقابلے میں مردوں کو جان بوجھ کر قتل کیے جانے کے واقعات چار گنا زیادہ ہوتے ہیں۔‘

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والی ہر دس میں سے آٹھ ہلاکتیں مردوں کی ہوتی ہیں۔

تاہم اسی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اپنے ہی ساتھی کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد میں ہر دس میں سے آٹھ خواتین ہوتی ہیں۔

گراف

47 خواتین، 21 ممالک، ایک دن

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار سال 2017 کے نتائج کا خلاصہ کرتے ہیں جو سرکاری ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ قتل کے اعداد و شمار پر مشتمل ہے۔ ’عورتوں اور لڑکیوں کے خلاف صنفی بنیادوں پر قتل ’فیمیسائیڈ‘ کے اعداد و شمار شریکِ حیات یا اقربا کی طرف سے کی گئ ہلاکتوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

بی بی سی 100 خواتین اور بی بی سی مانیٹرنگ نے ان اعداد و شمار کے پیچھے چھپی خواتین کے بارے میں جاننا شروع کیا ہے۔

ہم نے دنیا بھر میں یکم اکتوبر 2018 کو کسی مرد کے ہاتھوں قتل کی جانے والی خواتین کی پریس کوریج کی مانیٹرنگ کی۔ ہمارے علاقائی ماہرین نے شمار کیا ہے کہ 21 مختلف ممالک میں 47 خواتین کو صنف سے متعلقہ وجوہات کی بنا پر قتل کیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر ہلاکتوں کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔

پانچ کیسز مندرجہ ذیل ہیں جو ابتدائی طور پر مقامی میڈیا کی جانب سے رپورٹ کیے گئے اور پھر مقامی حکام نے بی بی سی کے رابطہ کرنے پر ان کی تصدیق کی۔

Judith Chesang تصویر کے کاپی رائٹ Family handout

جوڈتھ چیسنگ، 22، کینیا

پیر یکم اکتوبر کو جوڈتھ چیسنگ اور ان کی بہن نینسی کھیتوں میں اپنی سورگم کی فصل کی کٹائی کر رہی تھیں۔ تین بچوں کی ماں جوڈتھ نے حال ہی میں اپنے شوہر لبن کامورن سے علیحدگی اختیار کی اور ملک کے شمال میں اپنے والدین کے گھر لوٹنے کا فیصلہ کیا۔

جیسے ہی بہنیں اپنے کام میں مشغول ہوئیں، جوڈتھ کے شوہر نے کھیت میں حملہ کر کے انھیں قتل کر دیا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ گائوں والوں نے قاتل کو بھی مار ڈالا۔

گراف

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افریقہ میں خواتین کے شریکِ حیات یا خاندان کے رکن کی طرف سے ہلاکت کا خطرہ سب سے زیادہ تھا۔ موت کی شرح فی ایک لاکھ افراد 1.3 ہے۔

سال 2017 میں شریکِ حیات یا خاندان کے اراکین کی طرف سے ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد ایشیا میں سب سے زیادہ 20 ہزار تھی۔

Neha Chaudhary تصویر کے کاپی رائٹ Manohar Shewale

نیہا شرد چوہدری، 18، بھارت

نیہا شرد چوہدری اپنی 18 ویں سالگرہ پر مشتبہ ’غیرت کے نام پر قتل‘ کا نشانہ بنیں۔ وہ اپنے بوائےفرینڈ کے ساتھ سالگرہ منا رہی تھیں۔ پولیس نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ نیہا کے والدین کو یہ رشتہ منظور نہیں تھا۔

ان کے والدین اور ایک مرد رشتہ دار پر اس شام گھر میں انھیں قتل کرنے کا الزام ہے۔

تحقیقات جاری ہیں اور تینوں عدالتی حراست میں مقدمے کی سماعت کا انتظار کر رہے ہیں۔

والدین اور ان کے مرد رشتہ دار کے وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑکی کے والدین نے الزامات سے انکار کیا ہے۔

ہر سال خاندان کی خواہشات کے خلاف محبت یا شادی کرنے والے سینکڑوں افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل کے سرکاری اعداد و شمار ملنا مشکل ہے کیونکہ اس طرح کے جرائم اکثر درج نہیں ہوتے۔

Zeinab Sekaanvand تصویر کے کاپی رائٹ Private via Amnesty International

زینب سیکانون، 24، ایران

ایرانی حکام نے زینب سیکانون کو اپنے شوہر کو قتل کرنے کے جرم میں پھانسی دے دی۔

زینب ایران کے شمال مغرب میں ایک غریب قدامت پسند کرد خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ لڑکپن میں شادی کر کے بہتر زندگی گزارنے کی امید میں گھر سے بھاگ گئیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ان کا شوہر بدسلوکی کرتا تھا اور اس نے طلاق دینے سے انکار کر دیا تھا، اور زینب کی انہی شکایات کو پولیس نے نظر انداز کیا۔

17 سال کی عمر میں انھیں اپنے شوہر کو قتل کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔

ان کے حامیوں بشمول ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ ان کو شوہر کے قتل کا اعتراف کرنے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس کی طرف سے مارا گیا اور انھیں منصفانہ سماعت نہیں ملی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرم کی رپورٹ کہتی ہے کہ خواتین جو شریکِ حیات کو قتل کرتی ہیں وہ اکثر ’وسیع مدت تک جسمانی تشدد‘ کا سامنا کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عام طور پر مرد مجرموں کی طرف سے ’حق جتانے، حسد اور دستبرداری کے خوف‘ جیسے عوامل قتل کی وجہ بنتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ برازیل میں ایک اور طویل عرصے تک ساتھ رہنے والا جوڑا بھی اسی دن مردہ پایا گیا جس دن زینب کو پھانسی دی گئی۔

Sandra Lucia Hammer Moura تصویر کے کاپی رائٹ Reproduction / Facebook

ساندرا لوسیا ہیمر مورا، 39 سال، برازیل

ساندرا لوسیا ہیمر مورا کی شادی آگستو اگوآیر ریبیریو کے ساتھ 16 برس کی عمر میں ہوئی۔ دونوں میں پانچ ماہ تک علیحدگی رہی جس کے بعد وہ اپنے شوہر کے ہاتھوں ماری گئیں۔

جارڈم تکواری میں پولیس نے بی بی سی کو تصدیق کی انھیں گردن میں چاقو مارا گیا تھا۔

انھیں اپنے شوہر کی ایک ویڈیو موبائل میں ملی جس میں وہ اعتراف جرم کر رہے تھے۔ اس ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ساندرا کسی اور شخص سے مل رہی تھی اور اسے لگا کے اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔

انھوں نے ویڈیو میں یہ بھی کہا کہ کہ وہ گرفتار نہیں ہو سکیں گے کیونکہ دونوں جلد خالق حقیقی سے جا ملیں گے۔ پھر انھوں نے اپنے کمرے میں خود کو پھانسی لگا لی۔

ساندرا کے معاملے کو 'قتل و خود کشی' قرار دیا گیا جس میں کوئی فرد ایک یا زیادہ لوگوں کو قتل کرنے کے بعد خود کشی کر لیتا ہے۔

Marie-Amélie Vaillat تصویر کے کاپی رائٹ PHOTOPQR/LE PROGRES/Photo Jean-Pierre BALFIN

میری ایمیلی وائلیٹ 36 سال، فرانس

میری ایمیلی کو ان کے شوہر سبیسچیئن وائلیٹ نے چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا۔

یہ جوڑا شادی کے چار سال بعد الگ ہو گیا تھا۔

شوہر نے قتل کے بعد پولیس کے پاس جا کر اعتراف جرم کر لیا۔ چند دن بعد اس نے جیل میں خودکشی کر لی۔

میری ایمیلی کی دکان کے باہر علاقے کے مکینوں نے ان کی یاد میں جلوس نکالا اور پھول رکھے۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ میری کا قتل اسی روز ہوا جب فرانس کی حکومت نے گھریلو تشدد کو روکنے کے لیے نئے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

A march in memory of Marie-Amélie Vaillat تصویر کے کاپی رائٹ PHOTOPQR/LE PROGRES/Photo Jean-Pierre BALFIN
Image caption میری ایمیلی کی یاد میں ہونے والے مارچ کا ایک منظر
Short presentational grey line

عورت کے قتل کی خبر کرنے کے لیے اور کیا کیا جائے؟

ان تمام کہانیوں کو جمع کرنے کے لیے بی بی سی مانیٹرنگ کے بین الاقوامی نیٹ ورک کے صحافیوں اور محققین نے دنیا بھر میں ٹیلی وژن، ریڈیو، پرنٹ، آن لائن اور سوشل میڈیا کا جائزہ لیا جہاں جہاں بظاہر صنفی بنیادوں پر یکم اکتوبر 2018 تک خواتین کے قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

انھیں یہ پتا چلا کہ صرف اس ایک دن میں دنیا بھر میں 47 خواتین کے قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ہم نے ان میں بھی محض چند واقعات کا تذکرہ کیا ہے۔ ایسے کئی واقعات ہیں جن میں قتل کی وجوہاں واضح نہیں یا قاتل کا پتہ نہیں چلا۔

یو این او ڈی سی کی تازہ رپورٹ کے مطابق خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات بڑے پیمانے پر حکام کو رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے اور ایسے تشدد کا ایک بڑا حصہ کبھی سامنے ہیں نہیں آتا۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے اس منصوبے کی قیادت کرنے والے ریبیکا سکیپیج کو پتا چلا کہ ’جس انداز میں میڈیا خواتین کی زندگی اور موت کی خبریں نشر کرتا ہے اس سے بھی اس چیز کا اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے مختلف معاشروں میں خواتین کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

انھوں نے وضاحت کی ’اگرچہ ہم نے ایک دن میں ہونے والی اموات کا جائزہ لیا لیکن ہم نے اس پورے مہینے میں ہونے والی خبروں کو بھی دیکھا۔ ہمیں پتہ چلا کہ خبریں رپورٹ کرنے میں تاخیر، اس کی زبان و انداز اور نامکمل معلومات بتاتی ہیں کہ اس علاقے میں عورت کا کیا مقام ہے۔‘

بی بی سی مانیٹرنگ کے لیے کام کرنے والی مریم ازویر نے یہ اعداو شمار اکٹھے کیے۔

ان کا کہنا تھا ’یہ اعدادو شمار ان ہلاکتوں کے بارے میں نہیں جو رپورٹ ہوئی بلکہ ان کے بارے میں ہیں جو رپورٹ نہیں ہوئی۔‘

’جن ہلاکتوں کی کہانیاں میڈیا تک نہیں پہنچ پاتیں، یا ان کی خبر نہیں بنتی، یا غیر مصدقہ ہوتی ہیں یا جن کی تحقیقات نہیں کی جاتیں۔ آپ حیران ہوتے ہیں کہ ایک عورت کے قتل میں ایسا کیا ہونا چاہیے کہ اسے اہمیت دی جائے؟‘

Short presentational grey line

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

رپورٹر : کروپا پاڈھے

پروڈیوسر: جارجینا پیئرس

بی بی سی مانیٹرینگ کی تحقیق

ڈیٹا جرنلزم: کرسٹین جیونز ، کلارا گوئبرگ

ڈیزائن: زوئے باتھولومیو

ڈویلپمنٹ: الیگذینڈر لیوانوف

100 خواتین ہے کیا؟

بی بی سی کی 100 خواتین دنیا بھر کی ایسی 100 بااثر اور متاثر کن خواتین کے نام ہیں جن کی کہانیاں ہر سال آپ سے شیئر کی جاتی ہیں۔

یہ سال دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے لیے کافی اہم رہا ہے کہ اس لیہ بی بی سی کی 100 خواتین میں ایسی خواتین شامل ہوں گی جنہوں نے اپنے جذبے، ناراضگی اور غصے کو اپنے گرد کی دنیا میں تبدیلی لانے کے لیے استعمال کیا۔

اسی بارے میں