برطانوی شہری میتھیو ہیڈجز کو جاسوسی کے الزام میں معاف کر دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Daniela Tejada
Image caption میتھیو ہیڈجز کی اہلیہ نے ان کی رہائی کے لیے رحم کی اپیل کی تھی

متحدہ عرب امارات میں جاسوسی کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والے برطانوی طالب علم کو معافی کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

31 سالہ میتھیو ہیڈجز نے اس الزام سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی پی ایچ ڈی کے کیے تحقیق کر رہے تھے نہ کہ جاسوسی۔

ان کی اہلیہ نے اپنے شوہر کے لیے رحم کی اپیل کی تھی۔

جاسوسی سے متعلق دیگر خبریں پڑھیے

انڈیا کےخلائی راز آئی ایس آئی کو بیچنے کا جعلی پلاٹ

’ایران کے لیے جاسوسی کرنے پر‘ سابق اسرائیلی وزیر گرفتار

آئی ایس آئی کو راز دینے والی انڈین سفارتکار کو تین سال قید

متحدہ عرب امارات نے اپنے قومی دن کے موقع پر جاری کیے جانے والے کئی احکامات میں معافی کا یہ حکم بھی جاری کیا تاہم ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ مسٹر ہیڈجز 'سو فیصد ایک خفیہ اہلکار ہیں'۔

ایک پریس کانفرنس میں ایک ویڈیو دکھائی گئی جس میں مسٹر ہیڈجز کو یہ ’قبول‘ کرتے دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ایم آئی سِکس کے اہلکار ہیں۔

ان کی اہلیہ ڈینیئلا ٹیجیڈا نے اس الزام سے انکار کیا اور رہائی کے بعد بی بی سی ریڈیو فور کے ٹو ڈے پروگرام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'گذشتہ سات ماہ ایک ڈراونا خواب کی طرح تھے اور میں ان کی گھر واپسی کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہوں۔'

برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت نے 'کبھی کوئی ایسے شواہد نہیں دیکھے کہ وہ جاسوسی کے الزام کو درست کہہ سکیں'۔

ابوظہبی کی ایک عدالت میں استغثیٰ کا کہنا تھا کہ مسٹر ہیڈجز نے الزامات قبول کیے ہیں جن کے مطابق وہ 'برطانوی حکومت کے لیے جاسوسی' کر رہے تھے اور اس الزام میں انھیں گذشتہ ہفتے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مسٹر ہیڈجز نے ہمیشہ ان الزامات سے انکار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ڈرہم یونیوسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور متحدہ عرب امارات کی سکیورٹی سٹریٹجی پر ان کی تحقیق اسی کا حصہ تھی۔

جیریمی ہنٹ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ 'ہم ان الزامات سے متفق نہیں تھے لیکن ہم پھر بھی اس معاملے کو تیزی سے حل کرنے کے لیے متحدہ عرب امارت کی حکومت کے شکر گزار ہیں'

مسٹر ہیزجز کو مئی میں دبئئ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ان کے خاندان کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے بعد پہلے چھ ہفتوں تک ان سے وکیل کی موجودگی کے بغیر تفتیش کی جاتی رہی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہیڈجز عربی زبان نہیں جانتے لیکن اس کے باوجود ان سے ایک عربی میں لکھی گئی دستاویز پر دستخط کروائے گئے تھے جسے بعد میں ان کے اقبالیہ بیان کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption متحدہ عرب امارت کے ترجمان جبل ال لامکی ہیڈجز کو ’سو فیصد خفیہ اہلکار‘ کہتے ہیں

متحدہ عرب امارت کے ترجمان جبل ال لامکی کا دعویٰ تھا کہ مسٹر ہیڈجز 'اپنے ٹارگٹس سے معلومات اکٹھی کرنے کی غرض سے دو مختلف شناختوں کا استعمال کر رہے تھے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایک میں انھوں نے خود کو پی ایچ ڈی کا تحقیق کار اور دوسری میں کاروباری شخصیت ظاہر کیا ہوا تھا۔ وہ پارٹ ٹائم تحقیق کار اور پارٹ ٹائم بزنس مین لیکن سو فیصد خفیہ سروس کے اہلکار تھے'۔

ال لامکی کا کہنا تھا کہ مسٹر ہیڈجز کی فیملی کی جانب سے معافی کی درخواست منظور کر لی گئی ہے 'یہ مدنظر رکھتے ہوئے کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور قریبی تعلقات ہیں'۔

اسی بارے میں