سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل: کینیڈا کی بھی 17 سعودی شہریوں پر پابندیاں

خاشقجی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کینیڈا نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے مبینہ تعلق پر سعودی عرب کے 17 شہریوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

کینیڈا کی وزیر خارجہ کے بیان کے مطابق پابندیوں کا سامنا کرنے والے سعودی شہریوں کے ملک میں اثاثے کو منجمد کر دیا جائے گا اور ان کے ملک میں داخلے پر پابندی ہو گئی۔

کینیڈا سے پہلے فرانس، امریکہ اور جرمنی سعودی صحافی کے قتل کے بعد ٹارگٹڈ پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔

کینیڈا کی جانب سے سعودی شہریوں پر پابندیوں کا اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں جی 20 کا سربراہی اجلاس شروع ہو رہا ہے جس میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان بھی شرکت کر رہے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’محمد بن سلمان کو ہٹانے کا مطالبہ ایک سرخ لکیر ہے‘

خاشقجی کے قتل کی آڈیو ٹیپ نہیں سنوں گا: ٹرمپ

خاشقجی قتل: سعودی ولی عہد کے مبینہ کردار کی تحقیقات کا مطالبہ

خاشقجی کا قتل ایک سنگین غلطی تھی: سعودی وزیرِ خارجہ

کینیڈا کی وزیر خارجہ کرسٹیا فری لینڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پابندیوں کا ہدف ان سعودی شہریوں کو بنایا گیا ہے جو کینیڈا کی حکومت کے خیال میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار یا ملوث ہیں۔

تاہم سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان ان 17 سعودی شہریوں میں شامل نہیں ہیں جن پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

وزیر خارجہ کرسٹیا فری لینڈ کے بیان کے مطابق سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل نفرت انگیز ہے اور تمام انفرادی شخصیات کی آزادی رائے پر ناقابل جواز حملہ ہے۔ خاشقجی کے قتل میں ملوث افراد کو لازمی انصاف کے کٹہرے میں لانا ہو گا۔‘

کینیڈا نے حال ہی میں سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت کے معاہدوں پر نظرثانی کا اعلان کیا ہے جبکہ دنیا کی سات بڑی اقتصادی طاقتوں اور دیگر عالمی رہنماؤں نے خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں

سعودی صحافی جمال خاشقجی کو گذشتہ ماہ ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں قتل کر دیا گیا تھا اور سعودی حکومت کا کہنا تھا کہ اس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ملوث نہیں ہیں۔

مبینہ طور پر 15 سعودی ایجنٹس اکتوبر میں ایک سرکاری طیارے میں استنبول پہنچے تھے اور انھوں نے سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کا قتل ہے، جہاں وہ کچھ دستاویزات لینے آئے تھے۔ خاشقجی سعودی حکمرانوں کے بڑے ناقدین میں سے ایک تھے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے ناقدین کہتے ہیں کہ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ انہیں اس آپریشن کے بارے میں کچھ پتہ نہ ہو۔

اس معاملے میں گرفتار ہونے والے 21 افراد میں سے کئی کو ان کی ذاتی سکیورٹی عملے کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔ دو اعلیٰ سطحی مشیروں کو اس واقعے کے بعد نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردووان نے بھی کہا ہے کہ 'خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی حکومت کی اعلیٰ ترین سطح سے آیا ہے۔'

شہزادہ محمد نے اس قتل میں کسی بھی طرح کے کردار سے انکار کیا ہے اور اسے ایک 'بہیمانے جرم' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'جیت انصاف کی ہوگی۔'

اسی بارے میں