’عثمان خواجہ بھائی کی گرفتاری کے معاملے کے باوجود انڈیا کے خلاف کھیلیں گے‘

Usman Khawaja (2nd R) poses with Rachel McLellan (C), brother Arsalan Khawaja (2nd L) and other family members at Crown Metropol after the Australian nets session on December 25, 2017 in Melbourne, Australia. تصویر کے کاپی رائٹ Michael Dodge/Getty Images
Image caption عثمان خواجہ دائیں جانب اپنے خاندان کے ہمراہ، ارسلان خواجہ بائیں جانب سے دوسرے نمبر پر ہیں

آسٹریلیا نے تصدیق کی ہے کہ عثمان خواجہ اپنے بھائی کی گرفتاری کے معاملے کے باوجود جمعرات کو انڈیا کے خلاف شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے ٹیم میں شامل ہوں گے۔

عثمان خواجہ کی پہلے ٹیسٹ میں شرکت ان کے بھائی کی گرفتاری کی وجہ سے مشکوک ہو گئی تھی۔

آسٹریلیا کے کرکٹر عثمان خواجہ کے بھائی کو ایک دوسرے شخص کو شدت پسندی کے حملے کے جھوٹے منصوبے کے الزام میں پھنسانے پر گرفتار کا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

آسٹریلیا: بنا فردِ جر 14 دن تک حراست میں رکھنے کا منصوبہ

بنگلہ دیشی کرکٹر شہادت حسین ملازمہ پر تشدد کے الزام سے بری

دہشت گرد حملے: پیرس میں سیاحوں کی تعداد میں کمی

پولیس نے ارسلان خواجہ کے خلاف جعل سازی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا مقدمہ قائم کیا ہے۔ سڈنی کی ایک عدالت میں پیشی کے بعد انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

اگست میں سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم کو سڈنی میں اس الزام پر گرفتار کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنی نوٹ بک میں آسٹریلین سیاستدانوں کو قتل کرنے کا منصوبہ تحریر کر رکھا تھا۔

محمد قمر نظام دین کو ایک ماہ تک حراست میں رکھنے کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔

پچیس سالہ پی ایچ ڈی کے طالب علم کا دعویٰ تھا کہ یونیوسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز میں ان کے ایک حریف نے انھیں اسے اس معاملے میں پھنسایا تھا۔

منگل کو پولیس کا کہنا تپا کہ ’ارسلان خواجہ نے یہ منصوبہ بہت سوچ سمجھ کر بنایا اور نظام دین کو پھنسایا‘۔

ارسلان خواجہ اور نظام دین یونیورسٹی کے ایک ہی شعبے میں کام کرتے تھے اور پولیس کے مطابق ایک خاتون کی وجہ سے ’ذاتی رنجش‘ اس معاملے کی وجہ بنی۔

نظام دین پر جس مبینہ حملے کی منصوبہ بندی کا الزام تھا اس میں سابق آسٹریلین وزیرِ اعظم میلکوم ٹرنبل اور سڈنی کے مشہور مقام سڈنی اوپرا ہاؤس شامل تھے۔

تاہم جب پولیس اس نوٹ بک میں موجود لکھائی کو نظام دین کی لکھائی سے ملانے میں ناکام رہی تو انھیں ایک ماہ حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

نظام دین اب واپس سری لنکا چلے گئے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ناجائز قید پر آسٹریلین حکام پر ہرجانے کا دعویٰ کریں گے۔

پولیس نے نظام دین کی حراست پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر مک ویلنگ کا کہنا تھا ’ہمیں ان کے لیے اور جو کچھ ہوا اس پر بہت افسوس ہے۔‘

پولیس نے ارسلان خواجہ سے گذشتہ ماہ اس نوٹ بک کے حوالے سے پوچھ گچھ کی تھی اور انہیں منگل کو سڈنی کے نواحی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔

ان کے بھائی عثمان خواجہ آسٹریلیا کے صف اول کے بلے باز ہیں۔ وہ جمعرات کو انڈیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز بھی کھیلنے والے ہیں۔

اس گرفتاری کے بعد انھوں نے اپیل کی ہے کہ ان کے خاندان کی پرائیویسی کا احترام کیا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں