سی آئی اے کی بریفنگ کے بعد امریکی سینیٹرز خاشقجی قتل میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ملوث ہونے پر ’زیادہ پریقین ہیں‘

سینیٹر لنڈزی گراہم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سینیٹر لنڈزی گراہم نے کہا کہ وہ پریقین ہیں کہ محمد بن سلمان اس قتل میں ملوث تھے

امریکی سینیٹرز کا کہنا ہے کہ وہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بارے میں سی آئی اے کی بریفنگ کے بعد زیادہ پریقین ہو گئے ہیں کہ شہزادہ محمد بن سلمان کا ان کے قتل میں کردار تھا۔

سینیٹر لنڈزی گراہم نے کہا کہ وہ پریقین ہیں کہ محمد بن سلمان اس قتل میں ملوث تھے۔

جنوبی کیرولینا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نے سعودی شاہوں کے بارے میں کہا کہ وہ ایک پاگل پن اور خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ خاشقجی کا قتل اکتوبر میں استنبول کے سعودی قونصل خانے میں ہوا تھا۔ امریکی میڈیا نے یہ رپورٹ دی تھی کہ سی آئی اے نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ خاشقجی کے قتل کا حکم ممکنہ طور پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

خاشقجی کے قتل کی آڈیو ٹیپ نہیں سنوں گا: ٹرمپ

خاشقجی: ’اگر سعودی ہاتھ ہوا تو امریکہ سخت سزا دے‘

جمال خاشقجی قتل: امریکہ اور سعودی عرب کے بدلتے بیانات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سعودی عرب نے 11 افراد پر اس قتل کا الزام تو لگایا ہے اور مقدمہ بھی درج کیا ہے، تاہم ولی عہد کے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ محمد بن سلمان سعود القحطانی کے ساتھ رابطے میں تھے۔ سعود القحطانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی نگرانی میں ہی جمال خاشقجی کا قتل ہوا۔

منگل کو سی آئی اے سربراہ جینا ہیسپل نے جب سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو بریفنگ دی تو اس کے بعد بھی سینیٹرز کے الفاظ میں موجود سختی کم نہیں ہو سکی۔

لنڈزی گراہم نے خاشقجی کے قتل کے حوالے سے کہا کہ وہ سعودی عرب کی یمن میں جنگ کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کی موجودگی میں اسلحہ دینے کے حامی نہیں۔

سینیٹر بوب بیننڈز نے بھی ان کی حمایت کی اور کہا کہ امریکہ کو سعودی عرب کو واضح پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کے اقدامات دنیا کے لیے ناقابل قبول ہیں۔

ایک اور سینیٹر باب کورکر نے میڈیا کے نمائیندوں سے گفتگو میں کہا کہ میں ذہن میں اس حوالے سے کوئی سوال نہیں کہ محمد بن سلمان نے خاشقجی کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔

ٹنسی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نے کہا کہ اگر محمد بن سلمان کو عدالت میں پیش کیا جاتا تو انھیں 30 منٹ میں مجرم قرار دیا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے سعودی شہزادے کی مذمت کرنے سے انکار کر کے صحافی کے قتل کو معاف کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی تفتیشی ادارے کی سربراہ جینا ہیسپل مبینہ طور پر ادارے کی رپورٹ کے لیک ہونے سے ناخوش ہیں

ان کے ساتھی سینیٹر رچرڈ شیلبے جب کا تعلق الابامہ سے تھا نے کہا کہ اب سوال یہ ہے کہ آپ سعودی شہزادے کو اور ان کے گروہ کو قوم سے کیسے الگ کریں گے۔

امریکی سینیٹ اس تجویز پر ووٹ کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ یمن میں امریکی فوج کی شمولیت کو ختم کیا جائے۔ سینیٹر کرس مرفی اس بند کمرہ اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے تاہم انھوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کی کہ ہر چیز کو راز میں رکھنے کی ضرورت نہیں۔

’اگر ہماری حکومت جانتی ہے کہ سعودی رہنما امریکی شہری کے قتل میں ملوث ہے تو پھر عوام اس بارے میں کیوں نہیں جانتی۔

وزیر خارجہ مائک پومپیؤ اور وزیر دفاع جیمز میٹس نے گذشتہ ہفتے سینیٹروں کو بتایا تھا کہ اس قتل میں شہزادہ ولی عہد کے شامل ہونے کے براہ راست شواہد نہیں ہیں۔

جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شہزادہ ولی عہد کے ملوث ہونے کے متعلق سی آئی اے کی رپورٹ حتمی نہیں ہے۔ انھوں نے 20 نومبر کو کہا: 'بہت حد تک یہ ممکن ہے کہ شہزادہ ولی عہد کو اس المناک واقعے کا علم رہا ہو، ہوسکتا ہے رہا بھی ہو، ہو سکتا ہے نہیں بھی رہا ہو۔'

جینا ہیسپل مبینہ طور پر سی آئی اے کی رپورٹ کے میڈیا میں لیک ہونے پر بہت زیادہ ناراض ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جمال خاشقجی دو اکتوبر کو شادی کی دستاویزات لینے استنبول میں واقع اپنے ملک کے سفارت خانے گئے تھے

خاشقجی کون تھے؟

ایک زمانے میں خاشقجی سعودی عرب کے شاہی خاندان میں مشیر ہوا کرتے تھے لیکن پھر وہ تیزی سے سعودی حکومت کی نظرِ عنایت سے دور ہوتے گئے یہاں تک کہ گذشتہ سال سے وہ خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے لگے۔

جمال خاشقجی سنہ 1958 میں مدینہ میں پیدا ہوئے اور انھوں نے امریکہ کی انڈیانا یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی تھی۔

اس کے بعد وہ سعودی عرب لوٹ آئے اور ایک صحافی کے طور پر سنہ 1980 کی دہائی میں اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ انھوں نے ایک مقامی اخبار میں سوویت روس کے افغانستان پر حملے کی رپورٹنگ سے اپنی صحافت شروع کی۔

اس دوران انھوں نے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن پر قریب سے نظر رکھی اور سنہ 1980 اور 90 کی دہائیوں میں کئی بار ان سے انٹرویو کیا۔

اس کے بعد سے انھوں نے خطۂ عرب میں رونما ہونے والے دوسرے اہم واقعات کی رپورٹنگ بھی کی جن میں کویت کے معاملے پر ہونے والی خلیجی جنگ بھی شامل تھی۔

اسی بارے میں