شمالی کوریا کی جانب سے تازہ امریکی پابندیوں کی مذمت

شمالی کوریا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شمالی کوریا نے تازہ ترین امریکی پابندیوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان سے 'جزیرہ نما جنوبی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا راستہ ہمیشہ کے لیے مسدود ہو جائے گا۔'

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس نے تین اعلیٰ کوریائی حکام پر پابندیاں لگائی ہیں۔ اس سے قبل ایک رپورٹ منظرِ عام پر آئی تھی جس سے شمالی کوریا میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کا پتہ چلا تھا۔

رواں سال کے وسط میں امریکہ اور شمالی کوریا کے رہنماؤں کے درمیان ایک تاریخی ملاقات ہوئی تھی جس سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہیں۔

تاہم اس کے بعد سے صورتِ حال مسلسل خرابی کی طرف جاتی نظر آ رہی ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق دونوں ملکوں کے سربراہ ایک اور ملاقات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے اسی ہفتے کہا ہے کہ انھیں اس کی کوئی جلدی نہیں ہے۔

شمالی کوریا نے کیا کہا؟

ایک بیان میں شمالی کوریا کی انتظامیہ نے نئی امریکی پابندیوں پر 'غم و غصے' کا اظہار کیا۔

سرکاری خبررساں ادارے کے سی این اے پر جاری کردہ بیان میں شمالی کوریا نے امریکی محکمۂ خارجہ پر الزام لگایا کہ وہ 'دونوں ملکوں کے تعلقات کو گذشتہ سال کی اسی نہج پر لانے پر تلا ہوا ہے جب فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا۔'

یہ بھی پڑھیے

امریکی اقدامات ’تشویش ناک‘ ہیں: شمالی کوریا

شمالی کوریا کے اسلحہ خانے میں 'حسن کی فوج'

’جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لائحہِ عمل پر اتفاق‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دوسری بار ملاقات کے اشارے مل رہے ہیں لیکن ابھی اس پر رضا مندی نہیں ہوئی ہے

گذشتہ سال صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو 'لٹل راکٹ مین' کہا تھا جب کہ شمالی کوریا نے صدر ٹرمپ کو 'پاگل بڈھا' قرار دیا تھا۔

شمالی کوریا نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی اس کی سب سے بڑی غلطی ہو گی اور اسے ان اقدامات کی بجائے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

نئی پابندیاں کیوں لگیں؟

حال ہی میں امریکی محکمۂ خارجہ نے کانگریس کے کہنے پر شمالی کوریا کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی ہے۔

محکمۂ خارجہ کے ترجمان رابرٹ پیلاڈینو نے کہا: 'شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دنیا میں بدترین ہیں جن میں ماورائے عدالت قتل، جبری مشقت، تشدد، من مانی قید، ریپ، جبری اسقاطِ حمل اور جنسی تشدد شامل ہیں۔'

اس کے بعد امریکہ نے کہا ہے کہ وہ کم جونگ ان کے دستِ راست چو ریونگ ہائے، سلامتی کے وزیر جونگ کیونگ تائک اور پروپیگنڈا کے وزیر پاک کوانگ ہو کے امریکہ میں اثاثے منجمد کر رہا ہے۔

جون 2018 میں کم جونگ ان اور صدر ٹرمپ کے درمیان سنگاپور میں ملاقات ہوئی تھی جس میں جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ تاہم اس میں تفصیلات اور لائحۂ عمل طے نہیں کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں