’چین امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے روس سے بھی بڑا خطرہ ہے‘

چین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بل ایونینا کا کہنا تھا کہ چین کی اقتصادی کامیابی کی بنیاد کمرشل رازوں کی چوری پر رکھی گئی ہے جس کی قیمت امریکی عوام نے چکائی ہے

امریکہ کے ایک انتہائی اعلیٰ انٹیلی جنس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے چین سب سے بڑا خطرہ ہے۔

نیشنل کاؤنٹر انٹیلی جنس اور سکیورٹی سینٹر کے سربراہ بل ایونینا کا کہنا ہے کہ چین کے مقابلے میں روس سے لاحق خطرہ ماند پڑ چکا ہے۔

چین امریکہ پر گمراہ کن بیانات اور اقدامات کا الزام عائد کرتا ہے تاہم بل ایونینا کا کہنا تھا کہ چین کی اقتصادی کامیابی کی بنیاد کمرشل رازوں کی چوری پر رکھی گئی ہے جس کی قیمت امریکی عوام نے چکائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

’روس نہیں اب چین امریکہ کا عسکری حریف‘

چین: امریکہ سرد جنگ کی ذہنیت کو ترک کرے

تجارتی جنگ پر چین کی امریکہ کو سخت تنبیہ

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بل ایونینا نے کہا کہ ’اگر آپ رواں سال جون یا جولائی سے اب تک نظر دوڑائیں تو محکمۂ انصاف نے 20 چینی افراد یا کاروباروں پر اقتصادی جاسوسی پر فرد جرم عائد کی ہے، صرف جولائی سے اب تک۔ اور یہ صرف وہ ہیں جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا نقصان ہو چکا ہے؟ امریکی ٹیکس دہندہ نے طویل مدت میں کیا قیمت چکائی ہے؟ تحقیق اور اداروں کی ترقی کو، یونیورسٹیوں کو، کاروباروں کو اور مالکانہ ڈیٹا اور تجارتی رازوں کی جوری سے کتنی ملازمتوں کا نقصان ہوا ہے؟‘

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکہ نے چین کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

رواں سال کے آغاز میں امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے دفاعی حکمتِ عملی کا اعلان کرتے ہوئے تھا کہا کہ امریکہ کے لیے 'چین اور روس جیسے ممالک سے خطرات بڑھ رہے ہیں۔'

جیم میٹس نے کہا کہ 'امریکہ کے لیے نظریاتی طور پر چین اور روس جیسے ممالک سے خطرہ بڑھ رہا ہے جو کہ دنیا کو اپنے آمریت پسند طرزِ حکومت سے ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ ملک کی اقتصادی ترقی سے قطع نظر چین 'کبھی بھی عالمی بالادستی نہیں چاہے گا'

اس کے علاوہ رواں سال فروری میں لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اب روس کی بجائے چین وہ ملک بن گیا ہے جس سے امریکہ اپنی فوج کا تقابل کر کے اس کی ضروریات کا تعین کرتا ہے۔

دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے حال ہی میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک دوسرے ممالک کے بل بوتے پر ترقی نہیں کرے گا۔

چین میں اہم اقتصادی اصلاحات کے 40 سال مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ملک کی اقتصادی ترقی سے قطع نظر چین ’کبھی بھی عالمی بالادستی نہیں چاہے گا۔‘

شی جن پنگ نے اس موقع پر چین اور امریکہ کے درمیان حالیہ تجارتی کشیدگی کا ذکر نہیں کیا تاہم تاہم ان کا یہ کہنا تھا کہ ایک عالمی سپرپاور کو کوئی نہیں یہ بتا سکتا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں