وانواتو میں ویکیسین پہنچانے کے لیے ڈرون کا کامیاب استعمال

Drone being unloaded تصویر کے کاپی رائٹ unicef
Image caption دوائیں ایک پلاسٹک کے ڈبے میں برف کے ساتھ رکھ کر بھیجا گیا

بحرالکاہل میں واقع جزیرے وانواتو کا ایک بچہ وہ پہلا انسان بن گیا ہے جسے ایک کمرشل ڈرون کی مدد سے پہنچائی جانے والی ویکسین دی گئی ہے۔

اس ویکسین کی فراہمی کا انتظام بچوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارے یونیسف کی جانب سے کیا گیا۔

ڈرون یہ ویکسین لے کر دشوارگزار پہاڑی علاقے پر سے 40 کلومیٹر کی پرواز کے بعد مذکورہ بچے تک پہنچا۔ عام صورتحال میں یہ پہاڑ عبور کر کے دوا پہنچانے میں کئی گھنٹے کا وقت لگ سکتا تھا۔

وانواتو میں 20 فیصد بچوں کو اہم ویکسینیشن صرف اس لیے نہیں ملتی کیونکہ یہاں دواؤں کی فراہمی کا عمل کافی دشوار ہے۔

یونیسف کو امید ہے کہ مستقبل میں بھی ڈرون کی یہ پروازیں دور دراز علاقوں میں اہم دوائیں پہنچانے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیے

ڈرون نے ڈوبتے لڑکوں کو کیسے بچایا؟

دبئی میں جلد مسافر بردار ڈرون سروس شروع ہو گی

برطانیہ: ڈرون کے ذریعے سمگلنگ پر متعدد گرفتار

یونیسیف کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہینریٹا فور کا کہنا تھا ’آج ڈرون کی یہ چھوٹی سی پرواز عالمی صحت کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے میں جب دنیا بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہے ڈرون کی ٹیکنالوجی تمام بچوں تک دوا پہنچانے کے لیے تمام تر راستے عبور کرنے میں معاون ہو گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Unicef
Image caption ڈرون کی مدد سے جزیرے پر آنے والے دوا لینے والا پہلا بچہ

اگرچہ ڈرون کو پہلے بھی دوائیں پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کسی حکومت نے کمرشل ڈرون کمپنی سے دواؤں کو دوردراز علاقوں تک پہچانے کے لیے معاہدہ کیا ہو۔

آسٹریلیا کی کمپنی سووپ ایرو نے رواں ماہ کامیاب تجرباتی پروازوں کے بعد یہ کنٹریکٹ حاصل کیا ہے۔

دوائیں ڈرون کے ساتھ سٹائروفوم کے ڈبے میں برف کے ساتھ رکھ کر پہنچائی گئیں۔ یہ دوائیں 13 بچوں اور پانچ حاملہ خواتین کو دی گئیں۔

ڈرون کے علاوہ اس گاؤں تک جانے کا راستے یا تو پیدل تھا یا کشتی پر اور ان دونوں طریقوں سے گھنٹوں لگ جاتے تھے جبکہ ڈرون نے اسے 25 منٹ نے پہنچا دیا۔

مقامی نرس مریم نیمفل کا کہنا تھا ’دواؤں کو ایک خاص ٹھنڈے درجۂ حرارت پر رکھنا بھی نہایت ضروری ہے اور دریاؤں اور پہاڑوں پر یا بارش کے دوران سفر کرتے ہوئے انتہائی مشکل کام ہے۔‘

’چونکہ یہ سفر انتہائی طویل اور مشکل تھا اس لیے میں مہینے میں ایک ہی مرتبہ بچوں کو ویکسین دینے جاتی لیکن اب ان ڈرونز کی مدد سے ہم جزیرِے کے مزید دور دراز علاقوں کے بچوں تک دوائیں پہنچا سکیں گے۔ ‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں