تائیوان میں بیش قیمت فراری گاڑیوں کو ٹکر مارنے والے نوجوان کے لیے ہمدردی کا سیلاب

فراری تصویر کے کاپی رائٹ NEW TAIPEI CITY POLICE DEPARTMENT
Image caption لنچِن ہسیانگ کی اس مشکل نے تائیوان کے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے اور لوگ ملک میں پائے جانے والے دولت کی اس خلیج پر برہمی کا اظہار کر رہے ہیں جس سے لنچن جیسے نوجوان بری طرح متاثر ہوئے ہیں

تائیوان کے ایک نوجوان کو، جو گاڑی چلاتے ہوئے سو گئے تھے اور ان کی کار تین بیش قیمت فراری کاروں سے جا ٹکرائی تھی، کہا گیا ہے کہ وہ نقصان کے ہرجانے کے طور پر تین لاکھ 90 ہزار ڈالر دیں۔

لیکن اس کے بعد اس 20 سالہ نوجوان کے لیے لوگوں میں ہمدردی کا جذبہ امڈ آیا اور لوگوں نے 20 سالہ نوجوان کے لیے رقم اکٹھی کرنا شروع کر دی ہے کیوں کہ انھیں احساس ہو گیا کہ ان کے لیے یہ رقم ادا کرنا ناممکن ہے۔

لنچِن ہسیانگ کی اس مشکل نے تائیوان کے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے اور لوگ ملک میں پائے جانے والے دولت کی اس خلیج پر برہمی کا اظہار کر رہے ہیں جس سے لنچن جیسے نوجوان بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ماں کا دودھ اب سوشل میڈیا پر بھی دستیاب

چین: سپر کاروں پر دس فیصد اضافی ٹیکس

سمندری آلودگی، ارب پتی کا عطیے کا اعلان

لنچن کی کہانی کچھ یوں ہے کہ وہ اس سال کے شروع میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹانے کے لیے کالج چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ان کی ماں کی دکان ہے جہاں وہ لوبان اور مذہبی تقریبات میں استعمال ہونے والا سنہرا کاغذ بیچتی ہیں۔

ان کے والد چند سال قبل فوت ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NEW TAIPEI CITY POLICE DEPARTMENT
Image caption لنچن کی گاڑی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے

اس کے علاوہ لنچن ایک ریستوران میں نائٹ شفٹ میں کام کرنے لگے۔ جب اتوار کو وہ رات تین بجے کام سے فارغ ہونے کے بعد گھر لوٹے تو معلوم ہوا کہ ماں بیمار ہیں، چنانچہ لنچن ایک قریبی معبد میں ہونے والی مذہبی تقریب کے لیے سامان دینے چلے گئے۔

یہی لنچن کی لیے مصیبت کی گھڑی تھی۔ صبح پونے چھ ان کی حالت نیند کے مارے غیر ہو رہی تھی کہ گاڑی چلاتے ہوئے آنکھ لگ گئی اور ان کی گاڑی فراری گاڑیوں سے ٹکرا گئی۔

یہ گاڑیاں چند نوجوانوں کی تھیں جو قریب ہی کھڑے تھے۔ ان میں سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔

لنچن نے بی بی سی کو بتایا: 'میں نے سوچا، ارے میں بڑی مشکل میں پھنس گیا ہوں۔ مجھے اپنی ماں کا خیال آیا اور یہ کہ ہم اتنی رقم کیسے ادا کریں گے۔'

پولیس نے کہا کہ اس وقت انھوں نے شراب نہیں پی رکھی تھی۔

مقامی میڈیا کے مطابق ان گاڑیوں کی مرمت پر سوا کروڑ تائیوانی ڈالر کے قریب خرچ آئے گا۔

اس کے بعد جو ہوا اس کی لنچن اور ان کی ماں کو توقع نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ NEW TAIPEI CITY POLICE DEPARTMENT
Image caption فراری کے مالکان نے لنچن سے کہا ہے کہ وہ بے شک قسطوں میں پیسے ادا کریں

درجنوں لوگوں نے تھانے فون کر کے مدد کی پیشکش کی۔ بعض ان کی دکان پر پہنچ گئے اور مرمت کے خرچ کے لیے کسی نے پانچ ہزار تو کسی نے دس ہزار تائیوانی ڈالر کا عطیہ دیا۔

اب تک 100 سے زیادہ عطیات آ چکے ہیں، سب سے چھوٹا عطیہ 120 تائیوانی ڈالر کا اور سب سے بڑا ساڑھے چھ ہزار ڈالر کا ہے۔ کل ملا کر اب تک سوا سات لاکھ تائیوانی ڈالر (24 ہزار امریکی ڈالر) کے قریب رقم اکٹھی ہو چکی ہے۔

مزید یہ کہ لنچن کے سابقہ کالج نے انھیں دوبارہ تعلیم شروع کرنے کی دعوت دی ہے کیونکہ انھیں پچھلے سال اپنے والد کی وفات کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی تھی۔

اس واقعے پر سوشل میڈیا بھی حرکت میں آ گیا ہے اور لوگوں نے فراری مالکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لنچن سے معاوضہ نہ لیں۔

تاہم ایک مالک نے کہا ہے کہ انھوں نے فراری خریدنے کے لیے بڑی محنت کی تھی اور وہ اپنے نقصان کا ازالہ چاہتے ہیں۔

فراری کے مالکان نے لنچن سے کہا ہے کہ وہ بے شک قسطوں میں پیسے ادا کریں۔

لنچن کی ماہانہ آمدن 1100 تائیوانی ڈالر ہے اور انھیں اپنی جیب سے تاوان بھرنے میں 28 سال لگیں گے۔ تاہم وہ کہتے ہیں 'مجھے افسوس ہے کہ میری وجہ سے گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ مجھے اس میں لمبا وقت لگے گا، لیکن میں یہ رقم ادا کروں گا۔'

اسی بارے میں