انڈونیشیا میں سونامی: ہلاکتوں کی تعداد 429 ہوگئی، درجنوں تاحال لاپتہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سونامی نے انڈونیشیا میں ایک بار پھر تباہی تباہی مچا دی

انڈونیشیا میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق انک کراکاٹوا آتش فشاں کے پھٹنے سے آنے والے سونامی میں ہلاکتوں کی تعداد 429 ہوگئی ہے۔

سنیچر کو سنیچر کو جزیرہ سماترا اور جاوا پر ساحلی قصبوں سے انتہائی اونچی سمندری لہروں کے ٹکرانے کے باعث درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

ٰڈیزاسٹر میجنمنٹ ایجنسی کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق زخمیوں کی تعداد 1459 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 150 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ حکام کے مطابق 16000 افراد اب تک بے گھر ہو چکے ہیں۔

آتش فشاں کے قریب سمندر کے آس پاس بسنے والے رہائشیوں کو نئے سونامی کے خطرے کے پیش نظر ساحل سے دور رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔

اتوار کو انک کراکاٹوا آتش فشاں میں ایک بار پھر ہلچل کے ساتھ ساتھ راکھ اور دھواں اٹھتا دیکھا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جس کے بعد ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے سربراہ سٹوپو پروہ نگورو نے نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’محکمہ موسمیات، کلائمیٹالوجی اور جیو فیزیکل ایجنسی کی سفارشات کے تحت لوگوں کو کچھ عرصے کے لیے ساحل سے دور رہنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔‘

ایک چارٹر طیارے سے بنائی گئی ویڈیو میں آبنائے سنڈا میں پیش آنے والے اس واقعے کی شدت کو دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters/AntraFoto
Image caption اتوار کو انک کراکاٹوا آتش فشاں میں ایک بار پھر ہلچل کے ساتھ ساتھ راکھ اور دھواں اٹھتا دیکھا گیا تھا

تازہ صورت حال

صدر جوکو وڈوڈو نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور لوگوں سے صبر کی تلقین کی ہے۔

دوسری جانب سڑکوں کی بندش کے باعث امدادی کارروائیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں تاہم ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری متاثرہ علاقوں تک پہنچا دی گئی ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے سنچیر اور اتوار کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے نو بجے آنے والی سونامی میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

زیادہ تر ہلاکتیں پینڈگلینگ، جنوبی لامپنگ اور سیرانگ علاقوں میں ہوئی ہیں۔ سونامی کی زد میں آنے والے علاقوں میں مغربی جاوا کا معروف سیاحتی ساحل تانجنگ لیسنگ بھی شامل ہے۔

انڈونیشیا میں بی بی سی کی نمائندہ ریبیکا ہنشکے نے بتایا ہے کہ صرف لیمپنگ صوبے میں ہی سینکڑوں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی فوٹیج میں اونچی اونچی لہریں ریزارٹ کے اس مقام سے ٹکراتی نظر آئی ہیں جہاں معروف بینڈ 'سیونٹین' اپنا پروگرام پیش کررہا تھا۔

پرنم آنکھوں سے گلوکار ریفائن فجرسیہ نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ ان کے بینڈ کے باس (کھرج) نواز اور روڈ منیجر کا اس سونامی میں انتقال ہو گيا ہے جبکہ ان کے بینڈ کے تین دوسرے افراد اور خود ان کی اہلیہ لاپتہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ OYSTEIN LUND ANDERSEN
Image caption کراکاٹوا کا آتش فشاں جمعے کو پھٹا تھا اور یہ تصویر سنیچر کو لی گئی ہے

ملک کی ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ وہ اس عمارت کے نیچے دبے لوگوں کی تلاش میں ہیں جو سونامی کے سبب منہدم ہو گئی ہے۔

ریڈ کراس کی اہلکار کیتھی میولر نے بی بی سی کو بتایا: 'زمین ملبے، کچلی ہوئی کاروں اور موٹر سائیکل سے بھری پڑی ہے، ہمیں منہدم عمارتیں نظر آ رہی ہیں۔'

بظاہر پینڈگلینگ کی اہم سڑک کو شدید نقصان پہنچا ہے اور امدادی کارکنوں کو لوگوں تک پہنچنے میں دشواری ہو رہی ہے۔

عینی شاہد آصف پیرانگکت نے بتایا کہ 'کاریں اور کنٹینرز دس دس میٹر دور بہہ گئی ہیں۔ (کیریٹا) ساحل کے کنارے کی عمارتیں تباہ ہو گئيں ہیں، پیڑ اور بجلی کے کھمبے زمین پر آ گئے ہیں۔'

انڈونیشیا کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ترجمان سوتوپو پوروو نوگروہو نے لیمپنگ میں ہونے والی تباہی کا فوٹیج جاری کیا ہے۔

دو لہریں آئیں

مغربی جاوا میں اینیار ساحل پر ناروے کے آتش فشاں کی تصویریں لینے والے فوٹوگرافر اویسٹین لنڈ اینڈرسن موجود تھے۔

انھوں نے کہا: 'میں ساحل پر تنہا تھا، میرے گھر کے لوگ ایک کمرے میں سو رہے تھے۔ میں کراکاٹوا آتش فشاں کے پھٹنے کی تصاویر لینے کی کوشش کر رہا تھا۔

'شام کو آتش فشاں کے پھٹنے کی شدید سرگرمی تھی۔ لیکن سمندری لہروں کے ساحل سے ٹکرنے سے قبل آتش فشاں میں کوئي سرگرمی نہیں تھی۔ وہاں مہیب اندھیرا تھا۔

'اور پھر میں نے ایک لہر اٹھتی ہوئی دیکھی اور مجھے بھاگنا پڑا، دو لہریں تھیں۔ پہلی بہت تیز نہیں تھی اور میں دوڑ کر اس سے بچ نکلا۔

'میں دوڑتا ہوا سیدھا ہوٹل پہنچا جہاں میری بیوی اور میرا بیٹا سو رہا تھا۔ میں نے انھیں جگایا اور پھر میں نے بڑی لہر کے آنے کی آواز سنی۔ میں نے کھڑکی سے دیکھا وہ بہت اونچی تھی۔ لہر ہوٹل سے ہو کر گزری جس سے کاریں سڑک سے نچے چلی گئيں۔

تصویر کے کاپی رائٹ OYSTEIN LUND ANDERSEN

'ہم اور دوسرے ہوٹل والے ہوٹل کے پاس ہی جنگل میں اونچی جگہ کی تلاش میں بھاگے اور ابھی تک پہاڑی پر ہی ہوں۔'

سونامی کا سبب کیا ہو سکتا ہے؟

ایمرجنسی سروسز کے حکام سونامی کے آنے کی وجوہات کی جانچ کررہے ہیں۔ بظاہر یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آْنائے سُنڈا میں انک کراکاٹوا جزیرے کے آتش فشاں پھٹنے کے سبب سمندر میں سونامی پیدا ہوئی ہے۔

آتش فشاں کے مطالعے کی ماہر جیس فینکس نے بی بی سی کو بتایا کہ 'جب آتش فشاں پھٹتا ہے تو گرم لاوا زمین سے ابل پڑتا ہے جو کہ زیر زمین ٹھنڈی چٹانوں کو بھی توڑ پھوڑ کر نکل پڑتا ہے اور یہ لینڈسلائڈ کا موجب بنتا ہے۔'

انھوں نے مزید کہا: 'کراکاٹوا آتش فشاں کا کچھ حصہ زیر آب ہے اس لیے صرف لینڈ سلائڈ کے بجائے زیر آب بھی لینڈ سلائڈ ہوتا ہے اور وہ جب آگے بڑھتا ہے تو پانی کو بھی دھکا دیتا ہے جس سے سونامی پیدا ہو سکتی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ GALLO IMAGES/ORBITAL HORIZON/COPERNICUS SENTIN

حالیہ مہینوں کے دوران انک کراکاٹوا آتش فشاں کی حرکت میں اضافہ نظر آیا ہے۔

انڈونیشیا کی ارضیاتی ایجنسی نے کہا کہ آتش فشاں جمعے کو دو منٹ اور 12 سیکنڈ کے لیے پھٹا تھا جس کے سبب پہاڑ پر راکھ کا بادل اٹھا جو 400 میٹر کی بلندی تک گیا۔

ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ اس اتش فشاں کے دہانے کے آس پاس دو کلومیٹر کے رقبے میں کسی کو نہیں ہونا چاہیے۔

انڈونیشیا زمین کے اس حصے میں واقع ہے جہاں مسلسل زلزلے اور آتش فشاں کے پھٹنے کا خطرہ بنا رہتا ہے اور بحر الکاہل کے اس علاقے کو رنگ آف فائر کہتے ہیں۔

ستمبر میں انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے پر زلزلے کے سبب دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس سے پیدا ہونے والی سونامی کی زد میں پالو شہر بھی آ گيا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں