شام: ’اسرائیل نے دمشق میں اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا ہے‘

شام تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسرائیل کے جانب سے اس کارروائی کی تصدیق نہیں کی ہے

شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب زور دار دھماکوں کی آواز سنی گئی ہے جس کے بارے میں شامی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے میں ایک اسلحے کے‌ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

شامی فوج کے حکام نے سرکاری ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے اور تین فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ شام کا کہنا ہے کہ بیشتر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا۔

اسرائیل کے جانب سے اس کارروائی کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے اپنا فضائی دفاع کا نظام نافذ کر دیا ہے تاکہ شامی میزائلوں کو روکا جا سکے۔

فوج کا کہنا ہے اسرائیل میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔

منگل کی شب گئے شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں دمشق کی فضا میں کسی حرکت کرتی ہوئی چیز کو مار گرایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں!

شام پر حملے کا قانونی جواز کیا ہے؟

شام میں جنگ کیوں ہو رہی ہے؟

’دنیا کا پہلا گیت شام میں تیار کیا گیا تھا‘

اس کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا اور پھر گولہ باری کی آوازیں سنی گئیں۔

اسرائیلی ڈیفینس فورس نے ان مبینہ فضائی حملوں کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

تاہم انھوں نے بعد ازاں ایک ٹویٹ میں بتایا کہ شام کی جانب سے طیارہ شکن میزائلوں کے جواب میں اس نے اپنا ایئر ڈیفینس سسٹم نافذ کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل اس سے قبل کئی بار شام میں ایران اور حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا چکا ہیں جنھیں وہ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے ایسی کارروائیوں کے بارے میں شاذ و ناذر ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔

تاہم مئی میں اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس نے شام میں ایران کی تمام فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا جو سنہ 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی سے اب تک سب سے بڑی کارروائی ہے۔

یہ کارروائی مقبوضہ جولان کے علاقے میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر راکٹ حملوں کے بعد کی گئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں