برطانوی سیکریٹری داخلہ: بچوں کے ساتھ زیادتی کے مقدمات میں زیادہ تر پاکستانی نژاد ملوث ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ PA

برطانیہ کے پاکستانی نژاد سیکریٹری داخلہ ساجد جاوید نے بعض گرومنگ گینگز کی قومیت ظاہر کرنے کا دفاع کیا ہے۔

رواں سال کے آغاز پر سیکریٹری داخلہ کو ایک ٹویٹ میں ’بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے ذہنی بیمار ایشیئنز‘ کا ذکر کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

لیکن بی بی سی ریڈیو 4 میں بات کرتے ہوئے ساجد جاوید نے کہا: ’جنسی زیادتی کرنے والوں کے قومیت کو نظرانداز کرنے سے شدت پسندوں کو بڑھاوا ملتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیئے

’پاکستان میں ہر روز 9 بچے جنسی زیادتی کا شکار‘

ساجد جاوید کون ہیں؟

ٹمبلر کا تمام فحش مواد پر پابندی کا اعلان

ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ’گروہوں کی شکل میں جنسی زیادتی کرنے والوں کی تحقیق کرنے والے حکام کوئی بھی چیز نہ چھوڑیں۔‘

ساجد جاوید سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں یہ پریشانی تھی کہ ان کے اس قسم کے تبصرے سے نفرت کو ہوا ملے گی، جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ ’اس بات سے مکمل آگاہ ہیں کہ سیاستدانوں کو اپنی زبان کے حوالے سے محتاط ہونا پڑتا ہے۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جب بات گروہ کی بنیاد پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی آتی ہے تو یہ بالکل عیاں ہیں۔ اگر کسی کو پتہ کرنا ہے تو وہ حالیہ ہائی پروفائل کیسز کو دیکھیں جن میں زیادہ تر وہ افراد شامل ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔‘

سیکریٹری داخلہ نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے گروہوں کی ’شخصیت اور صورتحال‘ کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قومیت جیسے مسائل کو نظرانداز کرنے سے شدت پسندی کو ہوا مل سکتی ہے۔

’میرے لیے کسی چیز کو صرف اس لیے چھوڑ دینا کہ وہ حساس ہو سکتی ہے غلط ہو گا۔‘

’اگر میں نے اسے نظرانداز کر دیا یا کسی کو نظر انداز کرتے دیکھا، تو یہ وہی چیز ہوگی جو کہ شدت پسند اس ملک میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے انھیں بڑھاوا ملے گا جو کہ میں نہیں ہونے دوں گا۔‘

ساجد جاوید سے اس سوال کے بارے میں پوچھا گیا جس کے تحت دوہری شہریت رکھنے والے جنسی جرائم کے مرتکب افراد کی برطانوی شہریت ختم کر کے انھیں پاکستان بھیجا گیا، جہاں ایسے افراد کی فہرست نہیں رکھی جاتی۔

انھوں نے کہا: ’ایسے فیصلوں کے لیے ’اونچا معیار رکھا‘ ہے، جو عام طور پر دہشت گردی کے مقدمات میں ہی لیے جاتے ہیں۔‘

ساجد جاوید نے کہا کہ ’میں برطانیہ کا سیکریٹری داخلہ ہوں، اور میرا کام برطانوی عوام کو تحفظ دینا ہے، وہ کرنا جو میرے مطابق برطانوی عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے صحیح ہو۔ یہی میرا اولین کام ہے۔‘

اسی بارے میں