ڈونلڈ ٹرمپ عراق کے غیراعلانیہ دورے پر: ’امریکی فوجیں واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں‘

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کا عراق سے فوجیں واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کرسمس کے موقع پر عراق کا غیراعلانیہ دورہ کیا ہے جہاں انھوں نے امریکی فوجیوں سے ملاقات کی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ انھوں نے فوجیوں کا ’ان کی سروس، ان کی کامیابی اور ان کی قربانیوں کے لیے شکریہ ادا کرنے اور انھیں کرسمس کی مبارک باد دینے‘ کے لیے ’کرسمس کی رات گئے‘ سفر کیا۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کا عراق سے فوجیں واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

دولت اسلامیہ وحشی دشمن ہے: امریکی جنرل

عراق میں یزیدیوں کا مستقبل

مس عراق اور مس اسرائیل، ’بہنوں کا ملن‘

خیال رہے کہ چند روز قبل ہی امریکی سیکریٹری دفاع جم میٹس نے علاقائی سٹریٹیجی پر اختلافات پر استعفی دے دیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے ایئرفورس ون طیارے پر بغداد کے مغرب میں واقع الاسد ایئربیس کا سفر کیا جہاں انھوں نے فوجی اڈے کے ریستوران میں فوجی اہلکاروں سے ملاقات کی۔

صدر ٹرمپ کا خطے کا یہ پہلا دورہ ہے۔

صدر ٹرمپ نے کرسمس فلوریڈا کے ایک نجی کلب میں منانا تھی تاہم وہ موجودہ سیاسی صورتحال کی وجہ سے واشنگٹن میں ہی رکے رہے۔

خیال رہے کہ عراق میں تقریباً 5000 امریکی فوجی تعینات ہیں جو عراقی حکومت کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے ایئرفورس ون طیارے پر بغداد کے مغرب میں واقع الاسد ایئربیس کا سفر کیا

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ’ہم شام میں کچھ کرنا چاہتے ہیں‘ تو امریکہ عراق کو اگلے محاذ کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

اس موقع پر انھوں نے شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’بہت سارے لوگ اب میری طرح سوچ رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں نے شروع سے ہی یہ واضح کیا تھا کہ شام میں ہمارا مشن دولت اسلامیہ کو اس کے مضبوط ٹھکانوں سے اکھاڑنا ہے۔‘

’آٹھ سال قبل، ہم وہاں تین ماہ کے لیے گئے اور کبھی واپس نہ لوٹے۔ اب، ہم صحیح کر رہے اور ہم اس کو مکمل کر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی حالات کے پیش نظر وہ کئی ہفتے پہلے امریکی فوجیوں سے ملنے کے لیے نہیں آسکے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے شام سے امریکہ فوجیں واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں