ٹرمپ کا خفیہ دورۂ عراق: نیوی سیلز، راز، سیلفیاں اور شور شرابا

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کرسمس کے موقعے پر امریکی فوجیوں سے ملنے کے لیے عراق کا دورہ ان فوجیوں کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے کامیاب رہا، وہاں جس قسم کی پذیرائی صدر کو ملی اس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

لیکن دوسری جانب اس دورے میں کئی متنازع لمحات بھی تھے، اور ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا سے وابستگی کا اس میں بھی کچھ عمل دخل رہا ہے۔

توثیق: ’ہم اب جلد دھوکہ کھانے والے نہیں رہے‘

صدر ٹرمپ نے بغداد کے مغرب میں واقع الاسد فضائی اڈے کا دورہ کیا تھا، جہاں انھوں نے مسلح افواج کے اہلکاروں کا عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں پر شکریہ ادا کیا۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’دو سال قبل جب میں صدر بنا وہ ایک اثر و رسوخ والا گروہ تھا، آج ایسا نہیں ہے۔ گریٹ جاب۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اب جلد دھوکہ کھانے والے نہیں رہے، لوگو۔ ہماری دوبارہ اب ایک قوم کے طور پر عزت کی جاتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بطور صدر کسی بھی جنگ زدہ علاقے میں اپنے پہلے دورے کے دوران صدر ٹرمپ کے ہمراہ ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ بھی تھیں۔

دونوں نے فوجیوں کے درمیان وقت گزارا، سیلفیاں بنوائیں اور آٹوگراف دیے۔

خیال رہے کہ عراق میں 5000 سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں جو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف برسرپیکار مقامی فوجوں کی تربیت اور مشاورت کے موجود ہیں۔

انکشاف: کیا نیوی سیلز جانتے تھے کہ ان کے مسکراتے چہرے دنیا دیکھے گی؟

عراق کی فضائی حدود سے باہر نکلنے کے کچھ دیر پہلے ہی صدر ٹرمپ نے اپنے دورے کے حوالے سے ایک ویڈیو شیئر کی۔ لیکن جلد ہی اس جانب توجہ دلائی گئی کہ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم سے شاید کچھ بھول ہوئی ہے۔

جریدے نیوزویک کے مطابق ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ویڈیو میں یو ایس نیوی سیلز کی ٹیم کے کچھ ارکان بھی شامل تھے۔ جریدے کے مطابق اس ٹیم کے ارکان عام طور پر اپنی شناخت خفیہ رکھتے ہیں۔

امریکی نیوی کے سابق انٹیلی جنس ماہر میلکم نینس نے نیوزویک کو بیایا کہ ان کو اتنی واضح تصاویر میں دکھانے کا فیصلہ بہت معمولی ہو سکتا ہے کیونکہ اگر ان میں سے کوئی بھی پکڑا کیا تو ’اس سے انکار نہیں کیا جا سکے گا وہ کون ہے اور کیا کرتا ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے امریکی نیوی لیفٹیننٹ کمانڈر کیو لی کے ساتھ بھی سیلفی لی جنھوں نے انھیں بتایا تھا کہ وہ سیل ٹیم فائیو کا حصہ ہیں، اس بارے میں صدر کے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں نے بھی بتایا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا کہ انھوں نے ایسے حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے جیسے ان کے پیش رو صدور کرتے رہے تھے۔

فسانہ: تنخواہ کتنی بڑھی؟

صدر ٹرمپ نے فوجیوں کی تنخواہ میں خاطر خواہ اضافے کا بھی اعلان کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے کچھ مشیروں کے مطابق دو، تین یا چار فیصد کی تجویز دی تھی لیکن انھوں نے واضح طور پر کہا یہ کافی نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’نہیں۔ اسے دس فیصد کریں۔ دس فیصد سے زیادہ کریں۔ کیونکہ یہ بہت لمبا وقت ہے، دس سال سے زائد کا وقت ہو چکا ہے۔‘

لیکن کئی امریکی تجزیہ کاروں کے خیال میں مسلح افواج کے اہلکاروں کی گذشتہ دس سال کے دوران ہر سال تنخواہ بڑھتی رہی ہے۔

سنہ 2019 کے لیے بڑھائی گئی تنخواہ کانگریس کی جانب جانب سے منظور ہو چکی ہے اور صدر نے اگست میں اس پر دستخط کیے تھے اور یہ اضافہ 2.6 فیصد ہے۔

یہ سنہ 2010 کے بعد ایک واضح اضافہ ہے لیکن گذشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے جو 2.4 فیصد تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ALAN MELOY
Image caption ایلن میلوئے نے برطانیہ کے علاقے شیفیلڈ کی فضا میں پرواز کرتے اس جہاز کی ایک بہترین تصویر بنا لی تھی

راز کھل گیا: ٹرمپ کا طیارہ دیکھ لیا گیا تھا

امریکی صدر کے کسی بھی دورے کی منصوبہ بندی انتہائی باریک بینی سے کی جاتی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کی سکیورٹی کے انتظامات میں کوئی خلا نہ رہ جائے۔

جنگ زدہ علاقے کے دورے کے لیے یہ منصوبہ بندی خصوصی احتیاط اور رازداری کے ساتھ کی جاتی ہے۔

صدر ٹرمپ بظاہر بہت خوش تھے، صحافیوں کو قصے سنا رہے تھے کہ انھوں نے طیارے کی بند کھڑکیوں اور روشنیاں بجھا کر سفر کیا تاکہ وہ کوئی توجہ نہ حاصل کر سکے۔

لیکن بد قسمتی سے جب آپ ایک ایسے جہاز میں سفر کررہے ہوں جسے آسانی سے پہچان لیا جائے تو اس کو دیکھے جانے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

اور اس موقع پر باکسنگ ڈے پر ایلن میلوئے نے برطانیہ کے علاقے شیفیلڈ کی فضا میں پرواز کرتے اس جہاز کی ایک بہترین تصویر بنا لی۔

یہاں سے ہوابازی کے شعبے میں رکھنے والے افراد نے جہاز کو ٹریک کرنا شروع کر دیا اور کئی لوگوں نے یہ اندازہ لگانا شروع کر دیا ہے کہ یورپ سے گزرتا ہوا عراق کی جانب کہاں جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کسی جنگ زدہ علاقے میں ایئرفورس ون پر سفر کرنے والے پہلے امریکی صدر نہیں ہیں۔ سابق امریکی صدور بھی ایسا کر چکے ہیں۔

عراق اینڈ افغانستان ویٹرنز آف امریکہ کے بانی پال ریکخوف نے ٹویٹ کیا کہ 'ذرائع مجھے بتایا رہے ہیں کہ ٹرمپ فوجیوں سے ملنے جا رہے ہیں۔۔۔ ممکنہ طور پر عراق میں۔ دیر سے آنا کبھی نہ آنے سے بہتر ہے۔'

انھوں نے مزید لکھا کہ ’لیکن کچھ پریشان کن بات یہ ہے کہ بظاہر بہت سے لوگ اس بارت میں جانتے ہیں۔‘

تصادم: عراقی میزبان زیادہ خوش نہیں تھے

اس دورے میں صدر ٹرمپ نے عراقی وزیراعظم عدل عبدل مہدی سے ملاقات کرنا تھی لیکن ملاقات منسوخ کر دی گئی جس کے بارے میں وزیراعظم مہدی کے دفتر کا کہنا تھا کہ ایسا ملاقات کے انتظام پر 'اختلافات' پر کیا گیا۔

عراقی ارکان پالیمان نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے الاسد فوجی اڈے پر ملاقات کے لیے کہا تھا اور یہ پیشکش وزیراعظم نے رد کر دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کو اس دورے کے حوالے سے کچھ خدشات تھے تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'بالکل۔ مجھے صدارتی ادارے کے حوالے سے خدشات تھے، ذاتی طور پر اپنے لیے نہیں۔ مجھے خاتون اول کے حوالے سے خدشات تھے، میں آپ کو بتا دوں گا۔'

وزیراعظم مہدی کے دفتر کا کہنا تھا کہ امریکی حکام نے صدارتی دورے کے بارے میں پہلے سے مطلع کر دیا تھا لیکن طاقتور مقامی شخصیات نے واضح طور پر ناراضی ظاہر کی۔

پارلیمان میں شیعہ بلاک اصلاح کے سربراہ صباح الساعدی نے اسے 'عراق کی خودمختاری کی کھلے عام خلاف ورزی' قرار دیا۔

عراقی شیعہ ملیشیا کے کمانڈر قیس الخزعلی نے بھی دورے پر اعتراض کیا۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں خبردار کیا کہ وہ پارلیمان اس دورے کا جواب ’امریکی فوجوں کو عراق سے بے دخل' کرنے کے طور پر دے سکتی ہے۔ ‘

اسی بارے میں