مصر میں سیاحوں پر حملے کے بعد 40 جنگجو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مصر کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس نےخفیہ ٹھکانوں پر حملہ کر کے درجنوں جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا ہے۔

اس حملے میں غزہ اور شمالی سینائی میں سنیچر کی صبح ہونے والے حملے میں ’40 جنگجوؤں‘ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگجو سیاحتی علاقوں، چرچ اور فوجی اہلکاروں پر حملوں کا سلسلہ شروع کرنا چاہتے تھے۔

مزید پڑھیے

مصر کے صوفی مسلمان کون ہیں؟

’قطر کا دہشت گردی کے خلاف معاہدہ ناکافی ہے‘

مصر: ٹرینوں کے تصادم میں درجنوں افراد ہلاک

خیال رہے کہ حالیہ کارروائی جمعے کو غزہ میں ایک سڑک کے کنارے سیاحوں کی بس پر حملے کے بعد کیے گئے ہیں۔

ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس حملے کے نتیجے میں تین ویتنامی سیاح اور ان کا ایک مصری گائیڈ ہلاک ہو گیا تھا۔

اس سے قبل کئی بار دولت اسلامیہ مصر میں سیاحوں کو نشانہ بنا چکی ہے۔

وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق پولیس نے صبح سویرے دو حملوں میں 30 جنگجوؤں کو غزہ میں ہلاک کیا جبکہ باقی ماندہ 10 العرش میں کارروائی کے دوران مارے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کا ایک گروہ ریاستی اداروں خاص طور پر معاشی اور ساتھ ہی ساتھ سیاحتی مقامات۔۔۔ اور مسیحی مقامات پر سلسلہ وار حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران پولیس کو بم بنانے والا سامان، آتشیں مواد اور بھاری تعداد میں اسلحہ ملا ہے۔

مصر میں سیاحت کے سیزن کی وجہ سے سکیورٹی پہلے ہی سخت کر دی گئی تھی۔

مصر میں آرتھڈاکس یعنی کٹر مذہبی عقائد پر عمل کرنے والے مسیحی سات جنوری کو کرسمس مناتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سڑک کے کنارے غزہ کی گلی ماریوتیا میں مقامی وقت کے مطابق سوا چھ بجے بم دھماکہ ہوا تھا۔ یہ ضلع حرم کا علاقہ ہے جہاں اس وقت 14 ویتانمی شہریوں کو لے کر سیاحوں کی ایک بس گزر رہی تھی۔

اس حملے میں چار افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے تھے۔ یہ سال بھر سے زیادہ عرصے میں مصر میں غیر ملکی سیاحوں پر ہونے والا پہلا حملہ ہے۔

ملک کے وزیراعظم مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ بس اپنے طے شدہ روٹ سے مختلف راستے پر سفر کر رہی تھی تاہم بس کے ڈرائیور نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔

سنہ 2010 میں مصر میں ایک کروڑ چالیس لاکھ سیاح آئے تھے لیکن پھر عرب سپرنگ کی وجہ سے آنے والے برس میں یہ تعداد تیزی سے کم ہوگئی۔

بدترین وقت سنہ 2015 میں تھا جب روسی مسافروں کی ایک بس کو شرم الشیخ میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 224 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

عالمی بینک کا کہنا اگلے برس میں 53 لاکھ سیاحوں نے وہاں کا سفر تھا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق سنہ 2017 میں 83 لاکھ افراد نے مصر کا دورہ کیا۔

اسی بارے میں