ماں کے امریکہ آنے کے چند روز بعد ہی وہاں زیرِ علاج عبدُاللہ انتقال کر گیا

عبدُاللہ حسن اور ان کے والد تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عبدُاللہ حسن کے والد علی حسن اپنے بیٹے کے ساتھ

امریکی اسلامی تعلقات کی کونسل کا کہنا ہے کہ امریکہ میں زیر علاج یمنی بچے عبدُاللہ حسن انتقال کر گیا ہے۔ اس کی ماں کو اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے ایک طویل مدت کے بعد اجازت ملی تھی لیکن وہ اپنے بیٹے کے ساتھ زیادہ وقت نہ گزار سکیں۔

دو سالہ عبدُاللہ دماغی مرض کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔

اس کی والدہ شائما سویلہ مصر میں رہتی ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے مسلم اکثریت والے ممالک سے امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی کے باعث انہیں اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے بہت طویل عرصہ تک انتظار کرنا پڑا۔

عبدُاللہ حسن کی وفات سے چند روز قبل ہی انہیں امریکہ آنے کی اجازت ملی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

شمالی کوریا سمیت تین ملکوں پر سفری پابندی عائد

شام: کینسر میں مبتلا بچے علاج کے لیے صدر کی اجازت کے منتظر

سفری پابندی کے صدارتی حکم کی معطلی کا فیصلہ برقرار

عبدُاللہ حسن کا کیلیفورنیا کے شہر کے ایک ہسپتال میں علاج ہو رہا تھا اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔

عبدُاللہ کے والد علی حسن نے کہا کہ ’ہم انتہائی غم و الم میں ہیں۔ ہمیں اپنے بیٹے کو الوداع کہنا پڑا۔ وہ ہماری زندگی کا نور تھا۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
اس یمنی ماں نے اپنی زندگی کا سب سے مشکل سفر طے کیا

عبدُاللہ اور ان کے والد امریکی شہری ہیں تاہم عبدُاللہ کی والدہ یمنی شہری ہیں۔

یمن میں جاری خانہ جنگی کے باعث ان کے خاندان کو ملک چھوڑ کر مصر جانا پڑا۔ اس وقت عبدُاللہ آٹھ ماہ کا تھا۔

پیدائش کے وقت سے ہی عبدُاللہ کو دماغی مرض ’ہائپومائلینیشن‘ لاحق تھا جس کی وجہ سے اسے سانس لینے میں مشکل درپیش آتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ CBS
Image caption عبدُاللہ حسن

تقریباً تین ماہ قبل علی حسن اپنے بیٹے کو علاج کے لیے کیلیفورنیا لے گئے تھے۔

وہاں ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ امریکہ میں زیر علاج دو سالہ عبدُاللہ کی حالت خاصی سنجیدہ ہے۔ یہ معلوم ہونے کے بعد عبدُاللہ کی والدہ شائمہ نے ویزا کی درخواست دائر کی۔

امریکی وزارت خارجہ نے ان کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ اور ان کے بقول اس کی وجہ صدر ٹرمپ کی جانب سے عائد اس پابندی کو بتایا گیا جس کے تحت مسلم اکثریت والے ممالک کے شہری امریکہ کا سفر نہیں کر سکتے ہیں۔

تمام کوششوں کے بعد بالآخر انیس دسمبر کو انہیں ویزا دے دیا گیا۔

صدر ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے عائد پابندی کے مطابق سات ممالک کے شہری امریکہ میں قدم نہیں رکھ سکتے ہیں۔ ان میں سے پانچ وہ ممالک ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔

وزارت داخلہ نے کہا کہ یہ ایک بے حد افسوس ناک معاملہ تھا اور امریکہ نے قومی سلامتی کے تمام زاویوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے انہیں امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دی۔

اسی بارے میں