2018: ٹرمپ کی پالیسیاں پھر سے قلابازی کھا گئیں

Trump تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty

2018 کا پہلا سورج چڑھتے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی افغانستان پاکستان پالیسی دی تھی جس نے کم از کم اس خطے میں کافی ہلچل مچا دی تھی۔ مگر اس سال ان کی داخلی پالیسیوں کے لیے کیسا رہا؟ کیا وہ اپنی کانگریس سے وہ سب کرواسکے جس کے بلند و بالا وعدے انھوں نے گذشتہ دو سالوں میں کیے ہیں؟

ایسا کچھ زیادہ 2018 میں تو نہیں ہو سکا اور نومبر ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابات میں قدرے بہتر کارکردگی نے ان کے لیے حالات اور مشکل کر دیے ہیں۔

اسی تناظر میں ان کی جانب سے اعلان کردہ دو اہم پالیسیوں سے ان کی ہی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے داروں نے گذشتہ چند روز میں ’یوٹرن‘ کر لیے ہیں۔

شام سے فوجیوں کی واپسی

سرکردہ رپبلکن سینیٹر لنڈزی گراہم نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شام سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو ختم کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ سے اتوار کو ہونے والی ملاقات کے بعد وہ اب صدر کے عزم کے حوالے سے مطمئن ہیں۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کو اس وقت حیران کر دیا تھا جب انھوں نے گذشتہ ہفتے شام سے دو ہزار امریکی افواج کے انخلا کا حکم دیا۔

ان کے اس حیران کن اقدام کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکی وزیر دفاع جم میٹس اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ مخالف اتحاد کے خصوصی ایلچی بریٹ مک گرک مستعفی ہوگئے تھے۔

لنڈزی گراہم کے بیان سے لگتا ہے کہ یہ اہم فیصلہ کرنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو خیال آیا کہ اعلان کے برعکس اس انخلا کی رفتار کو کم ہی رکھا جائے۔

شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے بعد صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس نے ابھی تک اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ٹرمپ کے شام سے امریکی فوج واپس بلانے کے فیصلے پر امریکی سینیٹرز کے علاوہ ان کے اتحادی ممالک کی جانب سے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا جن میں امریکی سینیٹر لینڈس گراہم بھی شامل تھے۔

ٹرمپ نے سینیٹر کو کیا کہا؟

اس فیصلے کے سخت ناقد سینیٹر لنڈزی نے صحافیوں کو بتایا ’صدر نے مجھے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ اس کام کو پورا کریں گے۔ انھوں نے دولت اسلامیہ کو ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے اور وہ اپنا وعدے پر عمل کرتے ہیں۔‘

امریکی ریاست کیرولینا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کے مطابق صدر ٹرمپ شام سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا عمل سمارٹ طریقے سے کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا ’میرے خیال سے ہم اس وقت رکے ہوئے ہیں اور صدر کے مقاصد بہترین طریقے سے حاصل کرنے کے لیے ہمیں صورت حال کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا۔‘

صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد سی این این سے بات کرتے ہوئے لنڈسی گراہم نے شام سے امریکی افواج کے انخلا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے شام کے شمال میں موجود ہمارے کرد اتحادی ترکی کے حملوں کی زد میں آ جائیں گے۔

’اگر ہم اب شام سے نکلے تو کردوں کو ذبح کر دیا جائے گا۔ صدر اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ہم ایسا کیسے کریں گے، مجھے لگا کہ صدر مایوس ہیں۔‘

میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کا خیال ترک؟

دوسری جانب امریکی صدر کے رخصت ہونے والے چیف آف سٹاف جان کیلی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی صدارت کے شروع میں میکسیکو کی سرحد کے ساتھ 2000 کلومیٹر لمبی دیوار تعمیر کرنے کا خیال ترک کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 26 جنوری سنہ 2018 کو ایک حکم نامے میں امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس منصوبے کے سو فیصد اخراجات بھی میکسیکو سے لیے جائیں گے۔

ٹرمپ نے سرحدی دیوار کی تعمیر کے حکم نامے پر دستخط ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے میں منعقد ایک تقریب میں کیے۔

لیکن جان کیلی کی جانب سے یہ کہنا کہ میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار تعمیر کرنے کا خیال بہت پہلے ہی ترک کر دیا تھا بظاہر صدر ٹرمپ کی تردید کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دن پہلے ہی شام سے امریکی افواج کی واپسی کا اعلان کیا تھا

جان کیلی نے کیا کہا؟

امریکی صدر کے چیف آف سٹاف جان کیلی بدھ کو سترہ ماہ کے بعد اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔

جان کیلی نے رخصت ہونے سے پہلے لاس ایجنلس ٹائمز کو انٹرویو دیا جسے اخبار نے اتوار کو شائع کیا ہے۔ جان کیلی نے اس منصوبے کو 'بہت مشکل کام قرار دیا۔'

جب جان کیلی سے انٹرویو میں میکسیکو سے ساتھ دیوار تعمیر کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا 'ایمانداری سے کہوں، یہ دیوار نہیں ہے۔'

انھوں نے لاس اینجلس ٹائمز کو بتایا 'جیسے ہی صدر ٹرمپ نے ایسا کہا، میں نے ان لوگوں سے مشورہ کیا جنھوں نے اصل میں سرحد کو محفوظ کرنا تھا۔'

جان کیلی کا کہنا تھا 'ان لوگوں نے کہا، ہمیں چند جگہوں پر باقاعدہ دیوار چاہیے، ہمیں ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے اور ہمیں زیادہ افراد کی ضرورت ہے۔'

اب یہ منصوبہ صدر ٹرمپ کے وعدوں کے مطابق مکمل ہو پائے گا یا اس کے مخالفین کامیاب رہیں گے؟ اور زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ صدر ٹرمپ سرحد پر کسی قسم کی رکاوٹ کھڑا کر کے کہیں کہ دیوار سے میرا مطلب یہی تھا!

اسی بارے میں