نسل پرستی یا نسلی علیحدگی: کوسوو کی وہ وادی جہاں پڑوسی کافی تک نہیں بانٹتے ہیں

سربیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیا آپ کوسوو کی سرحد کے قریب واقع سربیا کے قصبے بوجانووک میں کافی پی سکتے ہیں؟ اس بات کا تعین آپ کی قومیت کی بنا پر ہوگا۔

والون عارفی، ایک نسلی البانوی، بتاتے ہیں: ’البانوی اور سربین ایک بار استعمال نہیں کرتے ہیں۔‘

اس قصبے کی آبادی کی اکثریت سرب ہے، تاہم خطے میں البانوی زیادہ ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ وادی پریسیوو میں قیاس آرائیاں جاری ہیں: کیا یہ سربیا اور کوسوو کے درمیان دشمنی کا خاتمہ کرنے کے لیے زمین کے تبادلے کا حصہ بن سکتی ہے؟

یہ بھی پڑھیے

باسک خطے کے عسکری گروہ ایٹا نے ہتھیار پھینک دیے

قسطنطنیہ کی فتح، جسے یورپ آج تک نہیں بھولا

پہلی جنگِ عظیم کا آخری محاذ

والون کا کہنا ہے ’لوگ یہاں کاروبار کے غرض سے ایک ساتھ کافی پیتے ہیں۔ لیکن یہاں دوستوں کی طرح ایک ساتھ کافی نہیں پی جاتی۔‘

اور اگر آپ غلطی سے بوجانووک کی کسی ’غلط‘ کیفے میں کافی آرڈر کر دیں تو آپ کو جلد ہی لگ پتا جائے گا۔

والون کے مطابق ’یہاں کا وائی فائی کا پاس وورڈ کچھ ایسا ہوگا: یہاں البانیوں کو آنے کی اجازت نہیں۔‘ اور البانیوں کی بار میں یہی سلوک سربین افراد کے ساتھ بھی ہوگا۔

وادی پریسوو سربیا کا ایک ایسا حصہ ہے جو کہ سالوں سے مفلسی کا شکار ہے اور یہاں نسلی علیحدگی زندگی کی ایک بڑی حقیقت ہے۔

جہاں آپ رہتے ہیں، جس سکول میں آپ کے بچے پڑھتے ہیں، جو زبان آپ بولتے ہیں اور آیا آپ گرجا گھر جاتے ہیں یا مسجد، یہ تمام چیزیں آپ کی نسل اور تاریخ کی عکاسی کرتی ہیں۔

زمین کا تبادلہ کیوں کریں؟

سربیا اور کوسوو کے درمیان خونریز جنگ کا خاتمہ سنہ 1999 میں ہوا اور اسی وجہ سے دونوں کے تعلقات اب بھی کشیدہ ہیں۔

سربیا نے کبھی بھی کوسوو کی آزادی کو تسلیم نہیں کیا۔

لیکن یورپی یونین چاہتی ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ سربیا کو رکنیت دیں، سربیا اور کوسوو آپس میں صلح کر لیں۔

دوسری جانب کوسوو کی خواہش ہے کہ اسے اقوام متحدہ کی سطح پر باقاعدہ طور پر تسلیم کیا جائے، جسے سربیا کے اتحادی روس نے بلاک کیا ہوا ہے۔

اگر زمین کا تبادلہ ہو جاتا ہے تو کوسوو وادی پرسووو تک رسائی حاصل کر لے گا اور شمالی کوسوو کے زیادہ تر سرب علاقے سربیا کا حصہ بن جائیں گے۔

لیکن ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور کسی کو معلوم نہیں کہ نئی سرحدیں کہاں کھینچی جائیں گی۔

مزید پڑھیے

کن ممالک میں لوگ اجنبیوں کی زیادہ مدد کرتے ہیں؟

بوسنیا سربیا کے خلاف پھر عدالت میں جائے گا

سربیا میں سردی اور پناہ گزینوں کی مشکلات

برسلز میں ہونے والے مذاکرات کے باوجود کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور کوسوو نے سربین اشیا پر 100 فیصد محصول عائد کر دیا ہے۔

اس مسئلے پر اب واشنگٹن سے بھی دباؤ آ رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سربیا اور کوسوو کے رہنماؤں سے امن قائم کرنے کی براہ راست اپیل کی ہے۔

بوجانووک کے شمال مغرب میں کوسوو کی سرحد کے قریب ٹرونوویک برادری بستی ہے جو کہ نسلی البنانی ہے۔

پرسووو وادی کو کوسسوو کے ساتھ الحاق کرنا چاہیے، یہ تجویز نئی نہیں۔ سربیا اور کوسوو کے درمیان جنگ کے بعد ٹرونوویک ایک فوجی مرکز بن گیا اور یہاں کی افواج نے سنہ 2001 تک سربیا کے ساتھ جنگ کی۔

ایریدونا شبانی، جو کہ البانیہ کے دارالحکومت ترانا میں ایک میڈیکل کالج کی طالب علم ہیں اور چھٹیوں پر واپس آئی ہیں، بھی یہی چاہتی ہیں۔

سربیا میں پلنے بڑھنے والی شبانی کی کوئی سرب دوست نہیں ہے اور وہ سربیائی زبان کم ہی بولتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’مجھے یہ زبان پسند نہیں ہے۔ یہ انگریزی یا فرانسیسی کی طرح دلچسپ نہیں ہے۔‘

ان کی والدہ جواہر سربیوں کے ساتھ شاید کافی نہ پیئیں لیکن وہ سربی بول لیتی ہیں۔

جواہر نے کہا ہم سابق یوگوسلاویہ میں رہتے تھے جب سربیوں اور البانیوں کو متحد ہونا چاہیے تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا ’یہ نسل جنگ کے وقت پلے بڑھی ہے جب نفرت کو فروغ دیا جاتا تھا۔ سخت تجربات نے نوجوانوں کو ایک دوسرے سے دور رکھا۔‘

یہاں سے چند کلومیٹر دور مشرق میں گوبھی کے درختوں کے ساتھ راکوویک ہے۔

راکووک سربیا کا بہت پرانا گاؤں ہے۔ 20 سالہ وکاسن جو اپنا خاندانی نام استعمال نہیں کرنا چاہتے کا کہنا ہے ’ہم کوسوو کا حصہ نہیں بننا چاہتے ہیں۔‘

اگر سرحد کو دوبارہ کھینچا گیا اور راکوویک کوسوو کا حصہ بن گیا تو وہاں تشد کا خطرہ ہو گا؟

سربیا میں دوسرے بہت سے بے روز گار افراد کی طرح ڈریگوسلاو کا کہنا ہے کہ ’یہ ہو سکتا ہے‘

سیاست سے بے زار سٹجکو جینک کمیونیٹیز کے درمیان بڑھنے والے فاصلے پر تاسف کا اظہار کرتے ہیں۔

’میں نے 17 سال تک البانیوں کے ساتھ کام کیا۔ سربیا کے دوستوں کے مقابلے میں میرے البانی دوست زیادہ اچھے تھے۔ وہ اب بھی میرے دوست رہنا چاہتے ہیں تاہم وہ میرے ساتھ دیکھے جانے پر خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ اپنی کمیونٹی میں غدار کے طور پر دیکھے جائیں گے۔‘

پرسووو وادی کو تقسیم کرنے والے ایک میدان میں اب بھی سرب، البانی اور رومی نسل کے لوگ باسکٹ بال کی اکھٹے ٹریننگ کرتے ہیں۔

سربیا میں کلب کے بانی نینڈ سٹیجک کہتے ہیں ’جب میں بڑھا ہو رہا تھا تب ہم اکھٹے کھیلتے تھے لیکن جنگ کی وجہ سے چیزیں بدل گئی ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’میرے ایک فلسفہ ہے، دنیا میں ہر جگہ، بچے ایک جیسے روتے ہیں، ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ یہاں نوجوان لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں، اکھٹے کام کرتے اور دوست بناتے ہیں۔‘

البانی نسل کے ہیفزی امیری اور سربین نسل کے ڈینیلو ڈیبٹک دونوں پیشہ ور کھلاڑی اور عظیم دوست ہیں۔

اچھی سربیائی بولنے والے ہیفزی کا کہنا ہے ڈینیلو میرے البانی دوست جیسے ہیں صرف وہ دوسری زبان بولتے ہیں۔

اور یہی وہ شراکت ہے جو بوجانووک میں گریٹ کافی ثقافت کو تقسیم کرتی ہے۔

ڈینیلو کا کہنا ہے ’ہم اکھٹے کافی پینے جاتے ہیں، سالگرہ کی تقریبات میں اکھٹے جاتے ہیں۔

لیکن یہ سب اس وقت بدل سکتا ہے جب پرسووو وادی کی سرحدوں کو دوبارہ کھینجا جائے۔

اسی بارے میں