ٹرمپ نے امریکہ۔ میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر پر ہنگامی صورتحال کے نفاذ کی دوبارہ دھمکی دے دی

ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے ایمرجنسی یعنی قومی ہنگامی صورتحال کا اعلان کرنے کی دوبارہ دھمکی دی ہے۔

انھوں نے میکسیکو کی سرحد کا دورہ کرنے سے پہلے صحافیوں کو بتایا کہ ’میرے پاس قومی سطح پر ہنگامی صورت حال کا اعلان کرنے کا مکمل اختیار ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میکسیکو ’بالواسطہ‘ دیوار کی تمعیر کے لیے فنڈنگ دے گا۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ اس دیوار کی تعمیر کے لیے ساڑھے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس مطالبے سے جو تنازع پیدا ہوا ہے اس کے نتیجے میں حکومت کے مختلف شعبوں کو گذشتہ 20 دنوں سے جزوی ’شٹ ڈاؤن‘ یا ہڑتال کا سامنا ہے۔ اس بندش کے نتیجے میں آٹھ لاکھ وفاقی ملازمین تنخواہ سے محروم ہیں۔

اس تعطل کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے حکومت کو پوری طرح فنڈ کرنے والے بل کی منظوری اس وقت تک روک دی ہے جب تک انھیں سرحد پر دیوار بنانے کے لیے پیسے نہیں مل جاتے۔

یہ بھی پڑھیے

سرحدی دیوار پر ملاقات، ڈیموکریٹ رہنماؤں کو ٹرمپ کا ’بائے بائے‘

ٹرمپ کی ’قومی ایمرجنسی‘ کے اعلان کی دھمکی

امریکہ میں حکومتی نظام جزوی طور پر ٹھپ

دیوارِ ٹرمپ دیگر دیواروں کے سامنے کیسی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ٹرمپ کا اصرار ہے کہ بجٹ میں کم از کم پانچ ارب ڈالر اس منصوبے کے لیے مختص کیے جائیں جس کے تحت وہ میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار بنا سکیں۔

تاہم بجٹ کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں اس وقت تعطل پیدا ہو گیا جب ڈیموکریٹس، جن کا ایوانِ نمائندگان پر کنٹرول ہے، نے دیوار کی تعمیر کے لیے رقم دینے سے انکار کر دیا۔

امریکہ میں حکومتی جماعت رپبلکن پارٹی اور حریف ڈیموکریٹس کا دیوار کی تعمیر پر ڈیڈ لاک جس کی وجہ سے امریکہ میں ’شٹ ڈاؤن‘ ہے اور سرکاری مشینری نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔

رپبلکن رہنما کا اصرار ہے ان کی جماعت صدر ٹرمپ کے پیچھے کھڑی ہے تاہم چند رپبلکنز نے شٹ ڈاؤن ختم کرنے کے حق میں بات کی کی۔

ٹرمپ کانگریس کے بغیر دیوار کی تعمیر کے لیے کس طرح ادائیگی کر سکتے ہیں؟

امریکی صدر نے جمعرات کو ٹیکسس کے دورے پر بات کرتے ہوئے کہا ’اگر کانگریس دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈنگ کی منظوری نہیں دیتی تو میں یقیناً قانون سازوں کو بائی پاس کر کے قومی ہنگامی صورت حال کا اعلان کروں گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدور جنگ یا قومی ہنگامی صورت حال کے دوران فوجی تعمیراتی منصوبوں کو براہ راست کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام یقینی طور پر قانونی چینلج کا سامنا کرے گا۔

صدر ٹرمپ کے ایک حمایت یافتہ رپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کا کہنا ہے ’صدر ٹرمپ کے لیے یہی وقت ہے کہ وہ دیوار کی تعمیر کے لیے ہنگامی اختیارات استعمال کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ڈیموکریٹ سینیٹر جو منچن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے قومی ہنگامی صورت حال کا اعلان ’غلط‘ ہو گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے کیا جانے والے ایسا اقدام حکومت کو پوری طرح فنڈ کرنے کے لیے انھیں سیاسی کور فراہم کرے گا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات حکومت کو دوبارہ کھولنے کے لیے سیاسی کور فراہم کریں گے جبکہ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہیں گے کہ وہ اپنے تمام اہم وعدوں میں سے ایک کو پورا کر سکتے ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر اور ڈیموکریٹ رہنماؤں کے درمیان میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے رقم جاری کرنے کے معاملے پر بات چیت ناکام رہی اور صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کو 'وقت کا ضیاع' قرار دیا تھا۔

امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی اور سینیٹ میں ڈیموکریٹ قائد چک شومر نے صدر ٹرمپ کے قوم سے خطاب کے بعد بدھ کو وائٹ ہاؤس میں ان سے ملاقات کی تاہم اس ملاقات میں وہ رقم نہ دینے کے فیصلے کو تبدیل کرنے پر راضی نہیں ہوئے۔

اس ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا کہ انھوں نے اہم ڈیموکریٹ رہنماؤں کو 'بائے-بائے' کہہ دیا ہے اور یہ ملاقات مکمل طور پر ان کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ثابت ہوئی۔

صدر ٹرمپ اس دیوار کی تعمیر کے لیے ساڑھے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس مطالبے سے جو تنازع پیدا ہوا ہے اس کے نتیجے میں حکومت کے مختلف شعبوں کو گذشتہ 19 دنوں سے جزوی ’شٹ ڈاؤن‘ کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں