ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی دوبارہ ملاقات آئندہ چند ہفتوں میں متوقع

ٹرمپ اور کم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرمپ اور کم

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فروری کے مہینے میں، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے دوسری ملاقات کریں گے۔

اس اعلان سے پہلے، شمالی کے مذارات کار کم یانگ چول نے صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے ملاقات کی۔

ممکن ہے کہ دونوں رہنما ویت نام میں ملاقات کریں۔

گذشتہ برس جون میں سنگاپور میں ہونے والے تاریخی میٹنگ میں امریکی صدر نے شمالی کوریا سے جوہری ہتھیار ڈالنے کی بات تھی لیکن اس کے بعد سے اس سمت میں بہت کم پیش رفت ہوئی۔

اسی بارے میں

’کم سے ایمانداری سے لگی لپٹی رکھے بغیر بات ہوئی‘

’اکیسویں صدی کا سب سے اہم سیاسی جوا‘

بی بی سی کے نمائندے باربرا پلیٹ یوزر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن تک کم یانگ چول کی آمد ایک اچھی علامت ہے، جس میں جوہری سفارت کاری میں پیش رفت کا اشارہ ملا ہے۔

جنرل کم یانگ چول ایک سابق انٹیلیجنس آفیسر ہیں، اور انہیں کم جونگ اُن کا دایاں ہاتھ کہا جاتا ہے۔

شمالی کوریا کے ساتھ ایک حالیہ بات چیت میں، جنرل کم اہم مذاکرات کار کے طور پر سامنے آ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جنرل کم یانگ چول ایک سابق انٹیلیجنس آفیسر ہیں، اور انہیں کم جونگ ان کا دایاں ہاتھ کہا جاتا ہے۔

وہ صدر ٹرمپ کے لیے کوریائی رہنما کا حظ بھی لائے ہیں۔ اگرچہ یہ واضح نہیں کہ خط میں کیا ہے تاہم ہمارے نامہ نگار کے مطابق اس میں آئندہ ملاقات کا منصوبہ ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ انہیں اس ملاقات کا انتظار رہے گا۔

صدر ٹرمپ کی پریس سیکرٹری سارہ سینڈرز نے کہا کہ ایک طرفہ جوہری توانائی سے چھٹکارے پر بات چیت جاری رہے گہ تاہم ’امریکہ شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں اور دباؤ بنائے رکھے گا۔‘

اس سے پہلے سنگاپور کے تفریحی جزیرے سینٹوسا میں ہونے والی ملاقات میں منگل کو دونوں رہنماؤں نے پہلے مصافحہ کیا اور پھر 38 منٹ تک پرائیوٹ ملاقات کی جس میں مترجمین کے علاوہ کوئی شریک نہ تھا۔

اس موقع پر کم جونگ نے کہا کہ 'ہم نے ماضی کو پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور دنیا کو اہم تبدیلیاں نظر آئیں گی۔' جبکہ صدر ٹرمپ نے پریس کانفرس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہ ہر کوئی جنگ کر سکتا ہے لیکن صرف بہادر ہی امن لا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں