#10YearChallenge: مارک زکربرگ کا جھانسہ یا ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں آگاہی پھیلانے کا انمول موقع؟

#10YearChallenge تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بیشک نظر نہ آئے، لیکن 2019 اور 2009 کے مارک زکربرگ میں بھی خاصہ فرق ہے

مجھے دیکھ کر اس نے پھیر لیا چہرہ

تسّلی ہوگئی دل کو چلو پہچانتے تو ہیں

جب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے #10YearChallenge کے ذریعے صارفین کو اپنی پرانی اور نئی تصاویر اپلوڈ کرنے کا کہا تو کئی لوگوں نے اس ٹرینڈ کی پیروی کرتے ہوئے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی دس سال پرانی تصاویر کا مُوازنہ نئی تصویروں کے ساتھ کرنا شروع کر دیا۔

کئی لوگوں کا خیال تھا کہ یہ مارک زکربرگ اور فیس بک کی جانب سے اپنے ’فیشل ریکوگنشن ایلگوردم‘ کو فعال کرنے کی ایک کوشش ہے، جس کے ذریعے وہ انسانی چہرے کو پہچاننے والے اپنے سافٹ ویئر میں بہتری لا سکیں گے۔

لیکن مشہور ماڈلز، فنکاروں اور گلوکاروں سمیت کئی سیاست دانوں نے اپنی نئی اور پرانی تصاویر اس ہیش ٹیگ کے ساتھ شیئر کیں۔ کچھ نے اسے سنجیدگی سے لیا جبکہ چند افراد نے اس ٹرینڈ کو مذاق میں اڑا دیا۔

فیس بک کے حوالے سے دیگر مضامین

’ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں‘، فیس بک کے بانی کا اعتراف

ڈیٹا چوری ہونے والے صارفین کے لیے فیس بک کی تنبیہ

کیا فیس بک کی ریگولیشن ممکن ہے؟

ماحولیات

لیکن سوشل میڈیا پر گفتگو نے ایک سنجیدہ موڑ تب لیا جب مختلف سماجی کارکنوں سمیت کئی فلاحی اداروں کے اکاؤنٹس نے بھی اس ہیش ٹیگ میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے چند پتے کی باتیں کیں۔

ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ’ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ‘ کے ماتحت ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی جانے والی اس تصویر کو کئی صارفین نے سراہا۔

اسی طرح ڈبلیو ڈبلیو ایف کے برطانوی چیپٹر نے بھی ایک ایسی ہی تصویر ٹویٹ کی جس بظاہر میں انسان کی جانب اٹھائے گئے اقدامات سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی تباہی کی طرف توجہ دلائی گئی۔

بین الاقوامی ماحولیاتی ادارے ’گرین پیس‘ نے بھی ایک ایسی ہی تصویر ٹویٹ کی جس میں ایک آرکٹک سرکل پر پڑی برف کا 100 سال پرانا منظر پیش کیا گیا اور ساتھ ہی موازنے کے لیے حال ہی میں کھینچی گئی ایک تصویر بھی لگائی گئی۔

صرف ادارے نہیں، بلکہ چند سلیبرٹیز نے بھی اس موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ مشہور بالی وڈ اداکارہ جوہی چاولہ نے انسٹاگرام پر جب یہ تصاویر شیئر کیں تو ایک صارف نے تبصرہ کیا: ’آپ کی سوچ بہت اچھی ہے میڈم لیکن لوگوں کو یہ سب سمجھ میں نہیں آتا۔‘

انڈیا میں بھی اس ٹرینڈ کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی پر بحث چھڑی تو ’گرین پیس‘ ہی کی ایک کارکن روحی کمار نے دہلی کے مشہور انڈیا گیٹ کی یہ تصاویر شیئر کیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تصاویر 2009 اور 2015 کی ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ BlueSkies#یعنی ’نیلا آسمان‘ محض ایک خواہش ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے نیلے آسمان کی تصاویر ایک حقیقت بننی چاہییں۔

سائنس

سائنسدانوں نے بھی موقع غنیمت جان کر اس ہیش ٹیگ کے ذریعے چند معلوماتی ٹویٹس شیئر کیں۔

کھیل

کرکٹ کے عالمی ادارے آئی سی سی کے اکاؤنٹ سے بھی #10YearChallenge ہیش ٹیگ کے حوالے سے کئی موازنے کیے گئے، لیکن پاکستانی شائقین میں سب سے مقبول ’اپنے لڑکوں‘ کی میمز رہیں۔

اے ٹی پی کی جانب سے ٹینس سٹار رافیل نڈال کی ہر جیتی ہوئی ٹرافی کو دانتوں سے کاٹ کر چیک کرنے کی عادت کا بھی مذاق اڑایا گیا۔

طنز و مزاح

کوئی مزاحیہ ٹرینڈ چلے اور پاکستانی سوشل میڈیا صارفین اسے اپنی تفریح کے لیے نہ استعمال کریں، ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا! ملاحظہ کیجیے ایسی ہی چند پوسٹس:

اسی بارے میں