وینزویلا: اپوزیشن رہنما خوان گوئیدو نے صدر مدورو کو اقتدار چھوڑنے کے بدلے معافی کی پیشکش کر دی

وینزویلا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وینزویلا کے ہزاروں شہریوں نے بدھ کو ہونے والے احتجاج میں گوئیدو کی حمایت کی تھی

وینزویلا کے اپوزیشن رہنما خوان گوئیدو نے کہا ہے کہ اگر صدر نِکولس مدورو اقتدار چھوڑ دیں تو اُن کو معافی دی جا سکتی ہے۔

گوئیدو نے بدھ کو اپنی نگران صدارت کا اعلان کر دیا تھا۔ ہسپانوی زبان کے امریکی چینل یونی وژن سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ وہ اِس بحران کو ختم کرنے کے لیے فوج سمیت تمام اداروں سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

’جب موقع آئے گا تو اِن سب چیزوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔ یہ معافیاں اُن سب کو دی جا سکتی ہیں جو کہ آئینی نظام کو بحال کرنے کو تیار ہوں۔‘

گوئیدو نے صاف شفاف انتخابات کا بھی وعدہ کیا ’تاکہ اِس بحران سے جلد از جلد نکلا جا سکے۔‘

فوج نے فی الحال صدر مدورو کی حمایت کی ہے۔ امریکہ کے گوائیدو کو نگران صدر تسلیم کرنے کے بعد مدورو نے امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے اور امریکی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دے دی۔

اس کے جواب میں امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی حکومت صدر مدورو کے ذرائع آمدن پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سفارتی تعلقات منقطع

صدر مدورو نے امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے بعد امریکی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی جس کے بعد یہ اعلان سامنے آیا ہے۔

بُدھ کے روز اپوزیشن رہنما خوان گوئیدو نے اپنے آپ کو ملک کا عبوری صدر قرار دیا، جس کو امریکہ نے تسلیم کیا۔

جان بولٹن نے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ 'پیچیدہ' ہے۔

ٹرمپ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ مدورو پر دباؤ بڑھاتے رہیں گے جبکہ عالمی برادری کی رائے ابھی تک منقسم ہے۔

روس نے غیر ملکی قوتوں کو گوئیدو کی حمایت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ اِس سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور اِس سے 'یقینی طور پر خون خرابہ ہوگا'۔

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے اقوامِ متحدہ کے سلامتی کونسل سے درخواست کی ہے کہ ہفتے کو اِس مسئلے پر بات کرنے کے لیے اجلاس بلایا جائے۔

امریکی ریاستوں کی تنظیم (او اے ایس) کی جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں صدر مدورو کی حکومت کو 'غیر اخلاقی' اور 'غیر جمہوری' قرار دیا۔

وینزویلا صدر مدورو کے دور حکومت میں معاشی بدحالی کا شکار رہا ہے۔ افراط زر میں ہوشربا اضافہ، بجلی کی بندش اور بنیادی ضروریات زندگی کی اشیاء کی قلت نے لاکھوں افراد کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر مدورو نے امریکی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی ہے

کاراکس کے احتجاج میں کیا ہوا تھا؟

وینزویلا کے ہزاروں شہریوں نے بدھ کو ہونے والے احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے سربراہ گوئیدو کی حمایت کی تھی۔

گوائیدو نے احتجاج میں عبوری حکومت کے قیام اور آزادانہ انتخابات کروانے کا وعدہ کرتے ہوئے اپنا دائیاں ہاتھ اٹھایا اور کہا کہ 'میں باقاعدہ طور پر قائم مقام صدر کا حلف اٹھاتا ہوں'۔

انھوں نے فوج سے مطالبہ کیا، جس نے ابتک صدر مدورو کی حمایت کی ہے، کہ وہ موجودہ حکومت کے احکامات ماننے سے انکار کر دے۔

وینزویلا کی این جی اوز کا کہنا ہے کہ منگل اور بدھ کو ہونے والے احتجاج میں 14 افراد کو مارا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکہ نے کیسے ردعمل دیا؟

وینزویلا کے 35 سالہ رہنما گوائیدو کی جانب سے قائم مقام صدر بننے کے اعلان کے 35 منٹ بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ طور پران کو صدر تسلیم کر لیا۔ صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں صدر مدورو کی حکومت کو 'غیرقانونی' قرار دیا۔

بیان میں مدورو کو کہا گیا کہ وہ وینزویلا کے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں مت ڈالیں ورنہ ان پر مزید پابندیاں عائد کی جا سکتیں ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائی پر غور نہیں کر رہے لیکن 'تمام آپشنز موجود ہیں'۔ انھوں نے دیگر ممالک سے بھی صدر گوائیدو کی حمایت کرنے کا کہا ہے۔

دیگر ممالک کا اس کال پر ردعمل کیا تھا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سات جنوبی امریکی ریاستوں برازیل،کولمبیا،چلی، پیرو، ایکواڈور، ارجنٹینا اور پیراگوائے نے گوائیدو کو قانونی صدر تسلیم کر لیا ہے۔ کینیڈا بھی ان کی حمایت کر رہا ہے جبکہ یورپی یونین نے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکی ریاستوں کی تنظیم (او اے ایس) نے بھی گوائیدو کو صدر تسلیم کر لیا ہے۔ وینزویلا نے سنہ2017ء میں اس تنظیم کو اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے الزامات لگاتے ہوئے چھوڑ دیا تھا۔ میکسیکو،بولیویا اور کیوبا نے صدر مدورو کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

صدر مدورو کا جواب کیا تھا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

صدر مدورو نے امریکہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن وینزویلا پر دور سے حکمرانی کرنا چاہتا ہے اور اپوزیشن حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وینزویلا کے وزیر دفاع ولادمیر پدرینوں نے اپوزیشن رہنما گوائیدو کی جانب سے فوج کو وفاداری تبدیل کرنے کے بیان کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے ٹوئیٹ کیا کہ 'ملک کی فوج خفیہ طور پرمسلط کیے جانے والے صدر کو تسلیم نہیں کر سکتے اور نا ہی جو خودساختہ اور قانون سے بالاتر ہو'۔

قومی اسمبلی کی جانب سے کی گئی تحقیق میں نومبر 2018 تک گذشتہ 12 ماہ میں افراط زر 1,300,000 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔

صدر مدورو نے سنہ2013ء میں ہوگو شاویز کی وفات کے بعد بحیثیت صدر ملک کا اقتدار سنبھالا تھا۔مئی 2018 کے انتخابات کے بعد اس ماہ کے آغاز پر صدر مدورو نے دوسری مرتبہ اپنے عہدے کا حلف لیا تھا۔ ان انتخابات کا اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا تھا اور بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات بھی لگائے تھے۔

اسی بارے میں