دوحا مذاکرات: امریکہ اور طالبان کے درمیان پیش رفت، امن معاہدے کی امید

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption طالبان کا ملٹری کمیشن اب افغانستان کے صوبے ہلمند میں منتقل ہو چکا ہے

افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مزاکرات دو دن میں نمٹنے کے بجائے آج پانچویں دن کے بعد بھی نامکمل رہے۔ دوحا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایک ایسے معاہدے پر کام کیا جا رہا ہے جس کے تحت 17 سال سے افغانستان میں تعینات امریکی فوج شاید بلآخر گھر لوٹ جائے۔

اِس کے بدلے وہ چاہتے ہیں کہ اِس ملک کی سرزمین کو کسی قسم کی دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں کیا جائے۔ لیکن اتنی طویل لڑائی اور لگاتار جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بعد یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا دونوں گروہ کسی قابلِ قبول معاہدے پر پہنچ پایئں گے یا نہیں۔

یہ مزاکرات دوحا میں طالبان کے سیاسی دفتر میں ہو رہے ہیں۔ ایک طرف اِن مذاکرات کی سربراہی افغان نژاد زلمے خلیل زاد کر رہے ہیں جن کو امریکہ کی جانب سے افغان امور کے مشیرِ خاص قرار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف طالبان کے سینیئر کمانڈر ملا عبدالغنی برادر ہیں جو کہ آٹھ سال پاکستان میں قید رہنے کے بعد گذشتہ اکتوبر میں رہا کیے گئے۔

امریکہ کو پاکستان کی افغانستان میں دوبارہ ضرورت کیوں؟

طالبان کے مسلسل حملوں سے امن مذاکرات رک جائیں گے؟

افغان مذاکرات: دباؤ، حربے اور مفادات

ملا عبدالغنی برادر طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ مقرر

’پاکستان کا طالبان پر پہلے جیسا اثر و رسوخ نہیں رہا‘

افغان امور کے تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کے خیال میں حالیہ مذاکرات سنجیدہ اور طویل اس لیے ہیں کہ دو اہم فریق امریکہ اور طالبان اس میں شامل ہیں۔ افغان حکومت اگرچہ طالبان کی مخالفت کی وجہ سے ان مذاکرات میں شامل نہیں تاہم انہیں ان میں شامل کرنا پڑے گا۔

بی بی سی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’یہ مذاکرات جولائی سے جاری ہیں اس میں تعطل آیا تاہم یہ ختم نہیں ہوئے۔ مذاکرات کی طوالت اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ ان میں کوئی پیشرفت ہو رہی ہے اور اس سے امیدیں بھی وابستہ ہو رہی ہیں۔‘

’طالبان کے اپنے مطالبات ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ غیر ملکی فوج کے انخلا کا فیصلہ ہو جائے، طالبان نے یہ یقین دہانی دی ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔‘

رحیم اللہ یو سفزئی کے بقول غیر ملکی فوج کے انخلا کے بارے میں امریکہ شاید اصولی طور پر اتفاق کر لے تاہم تب تک جنگ بندی ہونے پر بات چیت اہم ہے۔ اور امید ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اس حوالے سے پیش رفت ممکن ہے۔‘

رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ’پچھلے سال بھی جنگ بندی ہوئی تھی، افغان حکومت نے غیر مشروط جنگ بندی جکی۔ یہی کام عید پر طالبان نے کیا۔ اس سے امید پیدا ہوئی کہ طالبان کی شوری یا افغان حکومت کے فیصلہ پر عمل درآمد کی توقع ہے۔‘

تاہم ’اگر طالبان کو نتائج نہیں ملتے یا افغان حکومت مذاکرات سے باہر رہتی ہے اور اس کی باتیں نہیں مانی چاہتیں تو ایسی آوازیں اٹھیں گی جو ان کے خلاف جائی۔ تاہم امن معاہدے کے لیے زیادہ خطرہ عالمی شدت پسند تنظیمیں یا وہ ملک ہو سکتے ہیں جنہیں طالبان کے اس نظام کا حصہ بننے پر مسائل ہوں۔ تاہم یہ پہلی بڑی سنجیدہ کوشش ہے اس لیے اس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں