امریکی شٹ ڈاؤن: صدر ٹرمپ کےہار ماننے کی چار وجوہات

شٹ ڈاؤن کے سنگین مالی اثرات عیاں ہونے شروی ہوگئے تھے۔ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شٹ ڈاؤن کے سنگین مالی اثرات عیاں ہونے شروع ہوگئے تھے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں جاری حکومتی شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے سے متعلق مسلسل دباؤ کی تاب نہ لا سکے اور تین ہفتوں سے معطل وفاقی حکومت کو بحال کرنے والے معاہدے کی مجبوراً حمایت کردی۔

یہاں بزنس کی دنیا سے وہ چار وجوہات پیش کی جا رہی ہیں جن کی بنیاد پر وائٹ ہاؤس نے پہلے آنکھیں جھپکی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

امریکی حکومت نے کام کرنا کیوں بند کیا؟

امریکہ میں طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کا ریکارڈ قائم

امریکی حکومت کی جزوی بندش، 300 برگر کا آرڈر

سرحدی دیوار پر ملاقات، ڈیموکریٹ رہنماؤں کو ٹرمپ کا ’بائے بائے‘

1۔ سفری صنعت دباؤ کا شکار رہی

جمعے کو ملک کے اہم ایئرپورٹس پر تاخیر کو سب سے بڑا مسئلہ بتایا گیا جو کہ کئی ہفتوں سے ایئرپورٹس کے کام کاج کو متاثر کر رہا تھا۔

مسائل کا تمام تر الزام سٹاف کی کمی کے سر آیا۔ ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور سکریننگ آفیسرز جن کو دسمبر کے آغاز سے تنخواہیں نہیں مل رہی تھیں انھوں نے کام پر آنا بند کردیا۔

ایجنسی کے مطابق ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی کے انتظامی افسران کی غیر متوقع غیر حاضری میں گذشتہ سال کی نسبت دگنا اضافہ دیکھا گیا جبکہ سات فیصد سے زیادہ اہلکاروں نے غیرحاضری کی وجہ مالی مشکلات بتائی۔

اسی دوران ایئرلائنز کے اعلی افسران نے متنبہ کیا کہ حکومتی کاروبار میں کمی اور سفر سے متعلق وسیع خدشات نے بُکنگز کو بھی متاثر کیا ہے۔

مثال کے طور پر ساؤتھ ویسٹ نے بتایا کہ شٹ ڈاؤن کی وجہ سے ایک تخمینے کے مطابق جنوری کی ان کی آمدن میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ انھیں ہوائی کے لیے اپنی ایک نئی سروس کو بند بھی کرنا پڑا ہے۔

2. واشنگٹن لڑکھڑا گيا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کوسٹ گارڈ کہ گھرانے کھانے کی اشیا توشہ خانے سے خرید رہے ہیں

شٹ ڈاؤن سے متاثرہ 800,000 وفاقی ملازمین شاید ایک ماہ کی تنخواہ نہ ملنے کو برداشت کرلیتے۔

مگر دوسرے ماہ کی تنخواہ کے بغیر گزارا کرنا مشکل ہوجاتا اور بطور خاص ایک ایسے ملک میں جہاں 40 فیصد لوگوں کے پاس غیر متوقع 400 امریکی ڈالر خرچے کے لیے پیسے موجود نہیں ہوتے۔

ریجنل ایکنامک مالڈلز اِنک کے سربراہ ماہر معاشیات فریڈرک ٹریز کے مطابق واشنگٹن کے علاقے میں جہاں ایک اندازے کے مطابق چھ میں سے ایک ملازم اس سے متاثر ہوا ہے اگر شٹ ڈاؤن مارچ تک جاری رہتا تو علاقے کی سہ ماہی اقتصادی ترقی کی شرح میں 2.5 فیصد کمی آتی۔

یہ وہ شعبہ ہے جس میں سنہ 2017 میں 2.1 فیصد کی توسیع ہوئی تھی۔

اس تکلیف کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کو ’سنگدل انتظامیہ‘ کے طور پر پیمانے پر تنقید ہوئی اور اس مسئلے نے صدر ٹرمپ کی ریٹنگ کو نقصان پہنچانا شروع کردیا۔

وزیر تجارت ولبر راس کے بیان کو بھی کافی تنقید کا سامنا رہا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ جن لوگوں کو رقم کی کمی کا سامنا ہے وہ بینکوں سے قرضہ لے لیں۔

3. فیڈرل ریزرو آنکھیں بند کیے آُڑنے لگا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فیڈرل ریزرو کے صدر نے ممکنہ معاشی تباہ کاری کا اشارہ دیا ہے

شٹ ڈاؤن کا وقت معیشت کے لیے نہایت اہم تصور کیے جانے والے وقت کے ساتھ آيا جس کے نتیجے میں آنے والے معاشی اشاروں نے اس بحث کو شدید بنا دیا کہ فیڈرل ریزرو رواں سال سود کی شرح میں کتنا اضافہ کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے متعدد بار فیڈرل ریزرو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے ’غلط قدم‘ کےخلاف متنبہ کیا ہے۔

لیکن پالیسی میں غلطی کے متعلق وسیع پیمانے پر خدشات بڑھنے لگے کیونکہ تعطل نے دھیان سے دیکھنے والے اعدادوشمار کی ریلیز روک دی جن میں مجموعی ملکی پیداوار کے اعداد و شمار بھی شامل ہوتے ہیں۔

سونیکون ایل ایل سی کے چیئرمین رابرٹ شپیرو نے اس ہفتے بروکنگز انسٹیٹیوشن کے لیے لکھا کہ 'امریکی معیشت انکھیں بند کیے آُڑ رہی ہے۔'

در حقیقت مجموعی ملکی پیداوار کے قابل اعتماد تخمینے اور اس کے لوازمات کی عدم موجودگی سے صرف مزید معاشی غیر یقینی بڑھے گی اور اس کے ساتھ غلط کاروباری فیصلے لیے جائیں گے۔

اسی دوران آنے والے اعداد و شمار سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ شٹ ڈاؤن بھی مددگار ثابت نہیں ہو رہا ہے۔

رواں ماہ آنے ولے یونیورسٹی آف میشیگین کے کنزیومر سینٹیمنٹ کے سروے کے مطابق جب سے صدر ٹرمپ حکومت میں آئے ہیں یہ پہلی بار ہے کہ شٹ ڈاؤن کے سبب صارفین کا جوش اپنی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اعلی مشیر نے رواں ہفتے کہا کہ شٹ ڈاؤن کی وجہ سے معاشی ترقی اس سہ ماہی میں صفر رہ جائے گی۔

معاشی ماہرین نے بھی تنبیہ کی تھی کہ طویل تعطل امریکہ کو کساد بازاری کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

4. زیادہ تکلیف عیاں ہونے کو تھی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکومتی پابندیوں کے باعث کاروبار پرمٹ کے منتظر ہیں

زیادہ تر عوام کو شٹ ڈاؤن کے اثرات سے بچانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے کافی محنت کی اور ملازمین کو ٹیکس سے متعلق کام کے لیے واپس بلایا۔

لیکن تعطل جاری رہنے کی صورت میں اس کے اثرات کو نظر انداز کرنا مشکل ہوگیا تھا۔

فیڈرل کورٹ نے تنبیہ کی کہ رواں ماہ ان کا فنڈ ختم ہوجائے گا اور کم آمدن کے خاندانوں کے لیے کھانے پر ملنے والی چھوٹ بھی فروری تک ختم ہوجائے گی۔

کئی قسم کے کاروبار تذبذب کا شکار رہے کیونکہ حکومت کی تخفیف نے فشری کے پرمٹ، شراب اور بیئر کے لیبل کی منظوری اور سٹاک ایکسچينج کی لسٹنگ کو روک دیا۔

بلومبرگ نیوز کے مطابق شٹ ڈاؤن کی وجہ سے متاثرہ ایجنسیوں کو خدمات پیش کرنے والے ٹھیکیدار روزانہ 20 کروڑ ڈالر نقصان اٹھانے لگے۔

گریگ فِیٹزجیرالڈ ورجینیا کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کوئلیشن کے صدر ہیں۔

جمعہ کو چیمبر آف کامرس کی تقریب میں انھوں نے کہا کہ حکومت نے اب تک ان کے ادارے کو دسمبر کے کام کے واجبات نہیں دیے جس کے باعث 350 میں سے 200 ملازمین کو چُھٹی پر بھیجنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حقیقت ہے. ایسے بہت سے گھرانے ہیں جن کو بہت بڑی قربانیاں دینی پڑیں گی حالانکہ اس میں اُن کی کوئی غلطی بھی نہیں۔‘

اسی بارے میں