موت کے منھ میں مسکرانے والی پاکستانی نژاد فاطمہ علی کون تھیں؟

فاطمہ علی تصویر کے کاپی رائٹ Chris Scott

بین الاقوامی شہرت کی حامل پاکستانی نژاد 29 سالہ امریکی شیف یا ماہر طباخ فاطمہ علی کی کینسر کے ہاتھوں المناک موت پر پوری دنیا میں ان کے چاہنے والے، دوست، ساتھی غم اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔

فاطمہ علی پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی کی صاحبزادی تھیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق وہ 18 سال کی عمر میں نیویارک منتقل ہو گئیں جہاں انھوں نے شیف کے شعبے کا انتخاب کیا۔

فاطمہ علی کو بین الاقوامی شہرت سنہ 2017 میں امریکہ کے مشہور پروگرام 'ٹاپ شیف' میں شرکت سے ملی تھی۔ وہ اس پروگرام میں دسمبر 2017 سے مارچ 2018 تک شریک رہیں۔

فاطمہ علی یہ پروگرام جیت تو نہ سکیں مگر ان کا شمار آخری سطح تک مقابلہ کرنے والوں میں ہوتا ہے۔ پروگرام کے دوران یہ خیال ظاہر کیا جاتا رہا کہ وہ ممکنہ طور پر مقابلہ جیتنے والوں کی دوڑ میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’دو دریا‘ مسمار کرکے وہاں کیا بنایا جائے گا؟

پاکستانی ڈاکٹر برطانیہ کی نئی ’ماسٹر شیف‘

اسی پروگرام میں ان کے ساتھ شریک امریکہ کے کرس سکاٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ فاطمہ علی کے ساتھ ان کا پہلا تعارف 'ٹاپ شیف' پروگرام ہی میں ہوا تھا۔ پروگرام کے آغاز ہی میں ایک دوسرے سے تعارف حاصل کرنے کے لیے منتظمین نے ایک چیلنج رکھا تھا جس میں ایک دوسرے سے تعارف حاصل کرنے کے لیے الفاظ کا سہارا لیے بغیر کھانا پکا کر پیش کرنا تھا اور یہی کھانا ایک دوسرے سے تعارف کا ذریعہ تھا۔

کرس سکاٹ کا کہنا تھا کہ 50 آدمیوں کا کھانا پکانے کے لیے ایک گھنٹہ کا وقت تھا۔ اس دوران ہم سب بھاگ دوڑ کر رہے تھے۔ کبھی ادھر اور کبھی ادھر آ جا رہے تھے۔ فاطمہ علی بھی ان میں شامل تھیں۔ اس موقع پر کسی کو کسی کی مدد کرنے کا کیا ہوش ہوتا مگر جب مجھے ایک دو مرتبہ مدد کی ضرورت پڑی تو میں نے طلبگار نظروں سے دیکھا تو فاطمہ سمجھ گئیں اور انھوں نے میری مدد کی۔

ایسے موقعے پر جب ہر کسی کو صرف اپنی پڑی ہو مدد تو صرف وہ ہی کر سکتا ہے جو انتہائی حساس دل اور دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ رکھتا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرس سکاٹ کا کہنا تھا کہ وقت ختم ہونے پر فاطمہ نے مشہور پاکستانی کھانا بناسپتی چاول پلاؤ، مرغی اور سبزی پیش کی تھی۔ میں خود 30 سال سے شیف ہوں مگر میں نے اس سے پہلے اتنا لذیذ کھانا نہیں کھایا تھا اور اس کے بعد بھی نہیں کھایا ہے۔ 'یہ ایک ایسی خاتون سے میرا تعارف تھا جس کے بارے میں اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ صرف چند ماہ کی مہمان ہیں۔ جس کے ساتھ میں نے پروگرام میں بھرپور وقت گزارا۔ شاید وہ لمحات ہی میری زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں'۔

ان کا مزید کہنا تھا 'مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب شو کے بعد پتہ چلا کہ فاطمہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکی ہیں تو میں اس سے ملنے گیا تھا۔ ملاقات سے پہلے میں سوچ رہا تھا کہ میں فاطمہ کو بہت زیادہ حوصلہ دوں گا۔ مگر جب انھوں نے مسکراتے ہوئے میرا استقبال کیا تو میرا حوصلہ ٹوٹ گیا، میں زارو قطار رو رہا تھا اور وہ مجھے حوصلہ دے رہی تھیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ جب دوبارہ کینسر حملہ آور ہوا تو میں ان کی موت کے دو ہفتے پہلے اس سے ملنے گیا۔ وہ بہت زیادہ کمزور اور ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھیں مگر ان کا حوصلہ پہاڑوں کو شکست دے رہا تھا۔ 'میں نے آج تک فاطمہ سے زیادہ حوصلہ مند انسان نہیں دیکھا۔'

اسی پروگرم میں فاطمہ علی کے ساتھ چھ ہفتے تک ایک ہی کمرے میں رہنے والی خاتون شیف تانیہ اولاند نے بی بی سی کو بتایا کہ فاطمہ زندگی سے بھرپور خاتون تھیں جس کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی اور وہ ہر وقت دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتی تھیں۔

'میں فاطمہ کے ساتھ چھ ہفتے تک ایک ہی کمرے میں رہی۔ اس دوران فاطمہ نے میری ہر ممکنہ مدد کی۔ ان کے پاس ڈھیر ساری لپ سٹک تھیں جن میں گلابی رنگ کی کثیر تعداد تھی۔ گلابی رنگ میرا پسندیدہ رنگ ہے جب فاطمہ کو پتہ چلا تو انھوں نے مجھے ڈھیر ساری قیمتی لپ سٹکس تحفے میں دے دیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Chris Scott

تانیہ اولاند کے مطابق ’وہ موت کے منہ میں بھی مسکرا رہی تھیں۔ پروگرام کے فوراً بعد جب پتہ چلا کہ انھیں کینسر ہے تو میں ان سے ملنے گئی۔ اس موقعے پر انھوں نے انتہائی جرات سے کہا تھا کوئی بات نہیں یہ تو زندگی ہے جو ہونا ہے ہو کر رہے گا کیوں نہ یہ دن ہنس کھیل کر گزارے جائیں۔ پھر پتہ چلا کہ وہ صحت مند ہو چکی ہیں مگر تھوڑے ہی عرصے بعد وہ دوبارہ اسی مرض میں مبتلا ہو گئیں۔

ان کی موت سے چند دن قبل میری ان سے ملاقات ہوئی تو فاطمہ نے کہا تھا 'کیا فرق پڑتا ہے تھوڑا جیے یا زیادہ ایک دن تو مرنا ہی ہے ناں۔'

فاطمہ علی کے پروگرام میں ایک اور ساتھی ڈیوڈ پیو کا کہنا تھا کہ اس طرح کے ریئلٹی پروگراموں میں ہر کوئی ٹینشن میں رہتا ہے۔ اتنا عرصہ ساتھ رہنے سے بہت سے چہرے کھل کر سامنے آ جاتے ہیں مگر میں نے فاطمہ علی جسے میں فاطی کہتا تھا ہمیشہ ہنستے مسکراتے دیکھا۔ وہ جتنی اچھی انسان تھیں اتنی اچھی شیف بھی تھیں۔

’افسوس کہ ہم لوگ ایک اچھی دوست ایک اچھی بہن سے جدا ہو چکے ہیں جس کا کوئی ازالہ نہیں ہے۔ ‘

تانیہ اولاند، ڈیوڈ اور کرس سکاٹ کا کہنا تھا کہ فاطمہ ہمیشہ انھیں پاکستان کی باتیں بتایا کرتی تھی۔ وہ اپنے ہنر کے ذریعے امریکہ میں پاکستانی کھانے اور کلچر کو متعارف کروا رہی تھیں۔ انھیں اپنے خاندان اور ملک سے عشق تھا۔ وہ اکثر انھیں لاہور اور کراچی کے قصے سنایا کرتی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Chris Scott

فاطمہ علی کے خاندانی ذرائع کے مطابق انھیں ہڈی میں ایوئنگ سارکوما کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس مرض کی تشخیص پہلی مرتبہ سنہ 2018 میں پروگرام کے اختتام کے فورا بعد ہو گئی تھی مگر علاج کے بعد ڈاکٹروں نے انھیں صحت یاب قرار دیا تھا مگر پھر اکتوبر سنہ 2018 میں مرض دوبارہ لوٹ آیا اور ڈاکٹروں نے انھیں بتایا کہ ان کے پاس زیادہ سے زیادہ ایک سال ہے۔ جس کا اعلان انھوں نے خود ایک مضموں لکھ کر کیا تھا۔

موذی مرض فاطمہ علی کا حوصلہ نہیں توڑ سکا تھا۔ سنہ 2018 میں انھوں نے معروف امریکی کامیڈین ایلن ڈی جینرس کے شو 'دی ایلن شو' میں شرکت کرتے ہوئے خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ ایک سال میں دنیا بھر گھومنے کے ساتھ ساتھ ہر جگہ کے کھانوں سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہیں۔ جس کے بعد ان کے دوستوں اور ساتھیوں نے 'گو فنڈ می' نامی پیج بھی بنایا۔ تاہم مشہور امریکن میزبان ایلن نے انھیں اپنے پروگرام میں بلا کر 50 ہزار ڈالر کا چیک دیا تھا۔

موت سے چند دن قبل فاطمہ علی نے انسٹاگرام پر اپنی آخری پوسٹ لکھی: 'میں جانتی ہوں کہ کوئی پوسٹ کیے عرصہ ہو گیا اور بیشتر جاننا چاہتے ہوں گے ایسا کیوں ہوا۔ میں بیمار ہوں اور بدقسمتی سے اور زیادہ بیمار ہوچکی ہوں، اس وقت مجھے دعاؤں کی ضرورت ہے، دعا بہت سادہ ہوتی ہے، کیونکہ ایک خواہش دیگر پر بہت زیادہ ذمہ داری ڈال دیتی ہے، میں توقع کرتی ہوں کہ اگر میں نے کسی کو تکلیف پہنچائی ہو تو وہ مجھے معاف کردے گا۔ میں آپ کا لاکھوں بار شکریہ ادا کرتی ہوں، جنھوں نے مجھے خوشی دی ہے، میں ہر ایک کو اپنی حالت سے باخبر رکھنے کی کوشش کروں گی۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں