کیا وجہ ہے کہ یہ پرتشدد جہاد بہت سارے لوگوں کے لیے اب بھی کشش رکھتا ہے؟

جہاد، تشدد دولت اسلامیہ طالبان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دولتِ اسلامہ کی ’خلافت‘ اب تقریباً ختم ہو چکی ہے مگر اس کے پُر تشدد جہاد کی اپیل ختم نہیں ہوئی ہے

دولتِ اسلامیہ کہلانے والے گروپ مشرق وسطیٰ میں قلیل مدت کے بعد ہی اپنی ’خلافت‘ کھو بیٹھا ہے مگر اپنے پیچھے سینکڑوں، یا شاید ہزاروں جہادیوں کو ایک مخمصے میں چھوڑ گیا ہے جو نہیں جانتے کہ اب انھیں کدھر کا رخ کرنا ہے، مگر گرفتاریوں کے خدشے کے باوجود یہ لوگ اپنے گھر واپس لوٹنا چاہتے ہیں۔

تاہم پُر تشدد جہاد کے حملوں کا خطرہ ٹلا نہیں ہے۔ ایسے جہادی جس چیز کو بھی اپنے خیالات یا عقائد کے مطابق غیر اسلامی سمجھتے ہیں اُس پر حملہ کرنا جائز سمجھتے ہیں۔

دو ہفتے قبل نیروبی میں ایک ہوٹل پر القاعدہ سے وابسطہ الشہاب گروپ کا حملہ اس تشدد کے تسلسل کی یاد دلاتا ہے۔ شمال مغربی افریقہ کے کئی ایک خطے اس وقت غارت گری کرنے والے جہادیوں کے حملوں کی زد میں ہیں۔ صومالیہ، یمن اور افغانستان اس وقت ان جہادیوں کی بہترین محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔

تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ پرتشدد جہاد بہت سارے لوگوں کے لیے اب بھی کشش رکھتا ہے؟

یہ بھی پڑھیے

’دولت اسلامیہ کے پاس امریکی اور سعودی اسلحہ‘

دولت اسلامیہ 5600 جنگجو: گھروں کو لوٹ گئے

’دولت اسلامیہ کے آخری گڑھ دیر الزور پر فوج کا قبضہ‘

اپنے طبقے کے ارکان کا دباؤ

عموماً ایک قانون کا احترام کرنے والی زندگی، اپنے پیاروں کو چھوڑنا اور ایک قلیل مدت کے لیے پُر خطر زندگی اختیار کرنا ایک انفرادی فیصلہ ہوتا ہے۔ جہادی سرگرمیوں میں بھرتی کرنے والے اس قسم کے افراد کے اس احساس کا استحصال کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ بہت ظلم ہورہا ہے اور انھیں مذہب کی خاطر ایک بڑے مقصد کے لیے قربانی دینی چاہیے۔

تقریباً گزشتہ 20 برسوں سے انٹرنیٹ ایسی ویڈیو فلموں سے بھر گیا ہے جن میں مسلمانوں پر لرزا دینے والے مظالم کی کہانیوں کا پراپیگینڈا کیا جا رہا ہے۔ کچھ ویڈیو فلموں میں دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر ہونے والے اجتماعی مظالم کی کہانیاں ہیں، جبکہ کچھ میں مسلمانوں کے دشمن سمجھے گئے اہداف پر حملوں کی ویڈیوز ہیں جن میں انھیں اسلام دشمنی کی سزائیں دی گئیں ہیں۔

ان سے دو مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں۔ پہلا مقصد تو یہ ہے کہ ان کے ذریعے ویڈیو دیکھنے والوں کے ذہن میں ایک ہمدردی پیدا کی جاتی ہے اور پھر ایک شرم دلائی جاتی ہے کہ وہ مزے سے اپنے گھر میں لیپ ٹاپ کھولے بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ شام، چیچنیا اور فلسطینی علاقوں میں اس کے دینی ’بہن اور بھائی قتل کیے جا رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیروبی میں حملہ کرنے والوں نے اپنے امریکہ کے یروشلم میں اپنے سفارت خانے کو منتقل کرنے کو حملے کا جواز بنا کر پیش کیا

دوسرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انتقام والی ویڈیوز، خاص طور پر وہ جن میں انتہائی اذیت ناک انتقام دکھایا گیا ہو، اکثر ایسے لوگوں کے لیے باعثِ کشش ہوتی ہیں جو مجرمانہ ریکارڈ (یا ذہنیت) رکھتے ہیں۔

پھر اپنے طبقے کے ارکان کا دباؤ، اپنے جیسے لوگوں کا دباؤ کہ کچھ کرو، یہ تیزی سے ارداوں کو بدل دیتا ہے اور یہ متاثرین مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر صرف غصہ کرنے سے بڑھ کر تشدد کرنے کے لیے ذہنی طور تیار ہو جاتے ہیں۔

میں نے اُردن میں ایک ایسے ہی جہادی کا انٹرویو کیا جو ایک جیل میں سزا کاٹ رہا تھا، جِسے اُس کے بچپن کے ایک بہترین دوست نے آمادہ کیا کہ وہ شام میں دولتِ اسلامیہ کے جہاد میں شامل ہوجائے۔ وہ شامل ہوگیا، مگر اب وہ پچھتاتا ہے۔ وہ بھاگ کر اُردن واپس آگیا، لیکن اُسے اس جہاد میں شامل ہونے کے جرم میں پانچ برس قید کی سزا دی گئی۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ نوجوان عورتیں اور مرد جو ان جہادی سرگرمیوں کی کشش کا شکار ہوتے ہیں وہ ایک ایسے ماحول میں پلے بڑھے ہوتے ہیں جہاں وہ اپنے خاندانوں اور معاشرتی ماحول میں میل ملاپ نہیں رکھتے تھے۔

ایسی عورتوں اور مردوں کے لیے کسی خفیہ گروہ یا غیر قانونی تنظیم سے رابطہ رکھنا، جو اُن کو بہت اہمیت دیتی ہے، اُن کے لیے ایک متبادل کے طور پر دلکش ہوسکتی ہے۔ اور اگر ان عورتوں اور مردوں سے یہ کہا جائے کہ وہ اپنے جسم سے خودکُش جیکٹ باندھ کر کسی مارکیٹ میں خود کو دھماکے سے اڑا دیں تو وہ اس کے لیے بھی آمادہ ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’میں پہلے جہادی تھی اب جہاد کے خلاف ہوں‘

’حافظ سعید نے گلاسگو میں جہاد کی ترغیب دی‘

بُری گورنینس نظام یا اس کا فقدان

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ اتنے عرصے سے عالمی جہاد میں شامل ہونے والوں کا سب سے بڑا اور بنیادی مرکز رہا ہے۔ بدعنوان، غیر جمہوری، اور اکثر جابرانہ نظامِ حکومت، عوام کے لیے پُر امن طریقے سے اختلافِ رائے کے راستے مسدود کردیتا ہے اور پھر یہ لوگ زیرِ زمین سرگرمیوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔

اکیسیوں صدی میں شام اس کی ایک واضح مثال ہے۔ تقریباً آٹھ برس کی خانہ جنگی کے بعد شام کے صدر بشارالاسد اب اپنے مخالفین کے خلاف ایک فاتح بن کر اُبھرے ہیں۔ اُن کے مخالفین باغی کہلائے اور یہ وہ شہری تھے جو جیلوں میں ڈال دیے گئے اور پھر یہ انتہا پسند گروہوں میں بھرتی ہونے کے لیے ذہنی طور پر آمادہ بو چکے تھے۔

عراق میں سنہ 2003 کی بدقسمت امریکی مداخلت کے بعد اس ملک کی سیاست تہہ و بالا ہوگئی، سیکولر بنیادوں پر امتیازی سلوک نے القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ کے عروج میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی دباؤ سے کیا مذہبی شدت پسندی کم ہو گی؟

ہادیہ کا اسلام ’لو جہاد‘ کی مثال؟

آٹھ برس تک عراق کی سُنّی اقلیت پر شیعہ اکثریتی حکومت کا جبر اتنا زیادہ تھا کہ دولتِ اسلامیہ اپنے آپ کو ایک ایسی تنظیم کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب ہو گئی جو عراقی سنیوں کو شیعوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے اور ملک کے بڑے حصہ پر قبضہ کر سکتی ہے۔ اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے عناصر سنیوں کی شکایتوں کو استعمال کر کے اپنے لیے مستقبل میں دوبارہ کشش پیدا کریں۔

یمن، افغانستان، صومالیہ اور ساحل (مالی، بُرکینو فاسو، چاڈ اور موریطانیہ) ایسے ممالک ہیں جن کے کئی علاقوں میں حکومت نہ ہونے کے برابر ہے یا شورش میں گھری ہوئی ہے۔ ایسے علاقوں میں جہادی باآسانی مقامی لوگوں کو اپنے گروہوں میں شمولیت کے لیے آمادہ کرلیتے ہیں جن کو وہ تربیت دیتے ہیں اور پھر ان سے حملے کرواتے ہیں۔

افغانستان میں اربوں ڈالرز کی بیرونی امداد مقامی سطح پر ایسا نظام قائم کرنے میں ناکام ہوئی ہے جس کی طالبان کو جڑ سے اکھاڑ پھیینکنے کے لیے شدید ضرورت ہے۔ کرپشن جڑوں میں بیٹھی ہوئی ہے اور مقامی پولیس پر کوئی اعتبار نہیں کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کچھ لوگ اس لیے شدت پسندی کی طرف راغب ہو جاتے ہیں کیونکہ خوراک وغیرہ پہنچانے والے جیسے بنیادی کام کرنے والا کوئی سرکاری ادارہ وہاں موجود نہیں ہوتا ہے (فائل فوٹو)

انٹرنیشنل کرائیسس گروپ کا کہنا ہے کہ ریاستی ادارے انتے کمزور اور غیر مؤثر ہیں کہ وہ لوگوں کی اکثریت کو بنیادی خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ افغانستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی لوگ طالبان کے ظالمانہ عدالتی اور حکمرانی کے نظام کو حکومت کے نظام پر ترجیح دیتے ہیں۔

شدید غربت، روز گار کے ذرائع کا نہ ہونا اور عدمِ حکومت یا غیر مؤثر حکومت جیسے عوامل نے مل جل کر شمال مغربی افریقہ کے ساحل کے خطے میں ایک ایسا ماحول پیدا کردیا ہے جو جہادی گروہوں کے لیے بہت زرخیز ہے۔ بہت سے لوگ ان شدت پسند گروہوں میں کسی نظریے کی وجہ سے شامل نہیں ہوتے ہیں بلکہ اُن کی نظر میں یہ غربت و افلاس کا ایک واحد متبادل ہے۔

مذہبی ذمہ داری

القاعدہ، دولتِ اسلامیہ، طالبان اور ایسے ہی کئی دوسرے جہادی گروہ نوجوان مردوں اور عورتوں کو شامل کرنے کے لیے ان کے مذہبی خیالات کا استحصال کرتے ہوئے انھیں بتاتے ہیں کہ اِن کے احکامات کو تسلیم کرنا اُن کا مذہبی فریضہ ہے۔

شدت پسندی کے امور کی ایک ماہر ڈاکٹر ايرين سالتمان کہتی ہیں کہ انتہا پسند گروپس جدوجہد، عظیم قربانیوں اور روحانی ذمہ داریوں کے ایک ایسے بیانیے کو فروغ دیتے ہیں جس سے وہ اپنی سرگرمیوں کو جائز تسلیم کرواتے ہیں اور بھرتی ہونے کا رجحان رکھنے والوں کو متاثر کر لیتے ہیں۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ جہادیوں نے صدر ٹرمپ کے امریکی سفارت خانے کو اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب سے یروشلم میں منتقل کرنے کے اقدام کو نیروبی میں حملے کے لیے ایک جواز کے طور پر پیش کیا۔ یروشلم میں مکہ اور مدینہ کے بعد مسلمانوں کی تیسری بڑی مقدس مسجد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیروبی میں 15 جنوری کو 20 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے

یروشلم کا قضیہ مشرق وسطیٰ میں کئی لوگوں کے لیے ایک اہم کسوٹی رہا ہے اور شاید اب الشباب صومالیہ سے باہر بھی اپنی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کر رہا ہے۔

پُر تشدد جہاد کے پسِ پُشت کارفرما نظریہ شاید ابھی مزید کچھ عرصے تک مؤثر رہنے کا امکان ہے، باوجود اس کے کہ پُرامن مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت اس کی حامی نہیں ہے۔

القاعدہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے باوجود تاحال برقرار ہے اور اس کی کچھ شاخیں ایشیا اور افریقہ میں کام کررہی ہیں۔ دولتِ اسلامیہ کے بھی برطانیہ سمیت کئی جگہوں میں پیروکار ہیں۔ اگرچہ اب دولتِ اسلامیہ ایک ’خلافت‘ سے محروم ہو چکی ہے، لیکن یہ نئے بھرتی ہونے والوں کے لیے اپنی کشش برقرار رکھ سکے گی۔

عالمی سطح پر پُر تشدد جہاد پر قابو پانے اور اسے کم کرنے کے لیے ایک اچھی انٹیلیجنس اور پولیس کے کاموں سے زیادہ کچھ اور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے بہتر اور منصفانہ حکومتی نظام کی ضرورت ہے تاکہ ان عوامل کا خاتمہ کیا جا سکے جن کی وجہ سے لوگ ایسے تشدد کی طرف جاتے ہیں جن کی وجہ سے کئی زندگیاں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔

اسی بارے میں