وینزویلا کو امریکی دھمکی: ’سفارت کاروں کے خلاف کسی بھی خطرے کا بھر پور جواب دیا جائے گا‘

وائٹ ہاؤس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ نے وینزویلا کو متنبہ کیا ہے کہ امریکی سفیروں یا اپوزیشن رہنما خوان گوئیدو کے خلاف کسی بھی خطرے کا ’بھر پور جواب‘ دیا جائے گا۔

امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا کہنا ہے اس طرح کی ’دھمکی‘ قانون کی حکمرانی پر ’ایک بڑا حملہ‘ ہو گا۔

جان بولٹن کی یہ دھمکی امریکہ اور 20 سے زیادہ ممالک کی جانب سے گوائیدو کو وینزویلا کا نگران صدر تسلیم کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

دوسری جانب گوئیدو نے بدھ اور سنیچر کو حکومت مخالف مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وینزویلا: مدورو کو اقتدار چھوڑنے کے بدلے معافی کی پیشکش

امریکہ نے وینزویلا کے نائب صدر پر پابندیاں عائد کر دیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وینزویلا میں جاری سیاسی بحران اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے اسی دوران جب حزبِ مخالف کے صدر مدورو کو اقتدار سے الگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ کے گوائیدو کو نگران صدر تسلیم کرنے کے بعد مدورو نے امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے امریکی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔

اس کے جواب میں امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی حکومت صدر مدورو کے ذرائع آمدن پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

صدر مدورو نے سنہ 2013 میں ہوگو شاویز کے مرنے کے بعد بحیثیت صدر ملک کا اقتدار سنبھالا تھا۔ مئی سنہ 2018 کے انتخابات کے بعد صدر مدورو نے دوسری مرتبہ اپنے عہدے کا حلف لیا تھا۔

وینزویلا کی حزب مخالف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اورصدر مدورو پر بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔

وینزویلا کی فوج کے ایک اعلیٰ نمائندے جوز لیوس سلوا نے اتوار کو صدر مدورو کی حکومت سے الگ ہو کر کہا کہ وہ

گوئیدو کو وینزویلا کا صدر تسلیم کرتے ہیں۔

امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ٹوئٹر پر واشنگٹن کی پوزیشن کی وضاحت کرتے ہوئے ’کسی کے خلاف تشدد اور دھمکی‘ کے حوالے سے خبردار کیا۔

اب کیا ہو گا؟

متعدد یورپی ممالک جن میں سپین، جرمنی، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں نے سنیچر کو کہا کہ اگر آٹھ روز میں انتخابات کروانے کا اعلان نہ کیا گیا تو وہ گوئیدو کو وینزویلا کا صدر تسلیم کر لیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

تاہم وینزویلا کے صدر مدورو نے یورپی ممالک کے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الٹی میٹم ہر صورت واپس لیا جانا چاہیے۔

انھوں نے اتوار کو سی این این ترک کو بتایا ’وینزویلا یورپ کے ساتھ منسلک نہیں ہے۔ یہ مکمل گستاخی ہے۔‘

مدورو کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ اپنی صدارت کے مخالفین کے ساتھ جامع مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔‘ اور انھوں نے صدر ٹرمپ کو ’متعدد پیغامات‘ بھیجے ہیں۔

صدر مدورو نے جمعرات کو امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے بعد امریکی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔

اسی بارے میں