امریکہ نے روس کے صدر پوتن کے حلیف کی کمپنیوں پر سے پابندیاں ہٹا دیں

دیریپاسکا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روسی تجارتی شخصیت اولیگ دیریپاسکا

ٹرمپ انتظامیہ نے ان تین کمپنیوں پر سے پابندی اٹھا دی ہے جن کا تعلق صدر پوتن کے حامی روسی ارب پتی تجارتی شخصیت اولیگ دیریپاسکا سے ہے۔

ایلومینیم کمپنی یو ایس رسل، ای این پلس اور جے ایس سی یورو سب اینرگو پر سے اس وقت پابندیاں ہٹائی گئی جب دیریپاسکا ان کمپنیوں پر کنٹرول سے دست بردار ہو گئے۔

اولیگ دیریپاسکا کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے کہ انھوں نے روسی انتخابات میں مداخلت کی تھی اور ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان چاہتے ہیں کہ یہ پابندیاں برقرار رہیں۔

لیکن امریکی وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ خود دیریپاسکا پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیے

’روس پر عائد پابندیاں ختم نہ کریں‘، اوباما کی ٹرمپ کو تنبیہ

امریکی صدر ٹرمپ کا غصہ، ’کہاں ہے روسی سازش؟‘

پوتن کا ٹرمپ سے ملاقات کے امریکی ناقدین کو سخت جواب

ان کمپینوں پر گذشتہ اپریل میں اس وقت پابندیاں لگی تھیں جب ٹرمپ انتظامیہ نے ان لوگوں اور کمپنیوں کو ہدف بنایا تھا جو اس کے بقول روسی حکومت کی جانب سے دنیا بھر میں کی جانے والی 'مضر سرگرمیوں' میں ملوث رہے تھے۔

ان میں 2016 میں ہونے والے روسی انتخابات میں مداخلت اور کئی بین الاقوامی سائبر حملے بھی شامل ہیں۔

تاہم اسی ماہ کی ابتدا میں امریکی سینیٹ میں رپبلکن پارٹی نے دیریپاسکا سے متعلق دنیا میں ایلومینیم بنانے والی دوسری بڑی کمپنی رسل پر پابندیاں جاری رکھنے کی کوشش مسدود کر دی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ اور ان کی دلیل تھی کہ ان پابندیوں سے دنیا بھر کی ایلومینیم کی صنعت متاثر ہو رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ دیریپاسکا نے رسل اور دوسری کمپنیوں میں اپنے حصص کم کر دیے ہیں اس لیے اب وہ ان کمپنیوں کو کنٹرول نہیں کر رہے، جس کا مطلب ہے کہ پابندیاں کام کر رہی ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ پر تجارتی گروپس کی جانب سے دباؤ تھا کہ وہ ان تین کمپینوں پر پابندیاں ہٹا دیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پابندیوں کے اعلان کے بعد سے دنیا بھر میں ایلومینیم کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔

لیکن جب وزارتِ خزانہ نے دسمبر میں یہ پابندیاں ہٹانے کا عندیہ دیا تو سیاست دانوں نے اس پر شور مچایا تھا۔ وہ چاہتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اس تفتیش کے ختم ہونے کا انتظار کرے جس کے تحت صدر ٹرمپ کی 2016 کی صدارتی مہم میں روس کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اب ان پاپندیوں کے اٹھنے کے بعد سے توقع ہے کہ مزید سوال اٹھائے جائیں گے کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ 2016 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کرنے کے الزام میں روس کو کس قدر سزا دینا چاہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیرِ خارجہ سٹیون منوچن نے گذشتہ سال دیریپاسکا کی کمپنیوں پر پابندیوں کا اعلان کیا تھا

ملر کی تفتیش

لندن میں واقع توانائی کی کمپنی ای این پلس نے واشنگٹن سے آنے والی اس خبر کا خیرمقدم کیا ہے۔ دیریپاسکا کے اس کمپنی میں اتنے حصص ہیں کہ اس کا کنٹرول ان کے پاس ہے۔ گذشتہ سال پابندیوں کی خبر کے بعد سے ای این پلس کے حصص تیزی سے گرے تھے جو اب تک بحال نہیں ہو سکے۔

کمپنی کے چیئرمین لارڈ بارکر نے کہا: 'یہ پہلا موقع ہے کہ لندن میں واقع ایک کمپنی کے خودمختار ڈائریکٹروں نے امریکی پابندیوں کے نتیجے میں اکثریتی شیئر ہولڈرز سے کنٹرول لے لیا ہے۔'

تاہم قانون سازوں نے کہا ہے کہ یہ غیر مناسب ہے کہ اولیگ دیریپاسکا سے منسلک کمپنیوں پر سے اس دوران پابندیاں ہٹا دی جائیں جب 2016 کے انتخابات میں روسی مداخلت کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دیریپاسکا کے صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم کے چیئرمین پال مینافورٹ سے تعلقات تھے۔ ستمبر 2018 میں مینافورٹ نے شواہد میں تحریف اور امریکہ کے خلاف سازش کے جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔

اسی بارے میں