ایپل نے آئی فون کی قیمتوں میں کمی کا اشارہ دے دیا

ٹم کُک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹم کُک ایپل کی ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے۔

ایپل کے سربراہ ٹم کُک نے اشارہ دیا ہے آئی فون کی فروخت میں کمی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کچھ ملکوں میں اس کی قیمت کم کی جا سکتی ہے۔

کمپنی کے تازہ ترین مالی تجزیے کے مطابق آئی فون سے حاصل ہونے والی آمدنی میں گذشتہ مالیاتی چوتھائی کے مقابلے میں 15 فیصد کمی آئی ہے جبکہ آئی فون ہی کمپنی کا سب سے زیادہ منافع بخش ’پروڈکٹ‘ ہے۔

مجموعی طور پر کمپنی کی آمدن میں پچھلے سال کے مقابلے میں پانچ فیصد کمی آئی ہے اور اس وقت کی آمدن تقریباً 84 ارب 30 کروڑ ڈالر ہے۔

اسی بارے میں

کیا فیس بک کی ریگولیشن ممکن ہے؟

فیس بک کے پنجے کہاں کہاں

سمارٹ فون اتنا سمارٹ کیسے بنا؟

یہ صورتحال پہلے سے متوقع تھی کیونکہ کمپنی نے رواں ماہ کے آغاز میں سرمایہ کاروں کو مطلع کر دیا تھا کہ آمدن توقع سے کم اور 84 ارب ڈالر کے لگ بھگ رہے گی۔

کمپنی نے اس صورت حال کا جزوی طور پر ذمہ دار چین میں اقتصادی سست روی کو قرار دیا ہے۔

تاہم ٹم کُک نے یہ بھی کہا ہے کہ گاہک کمپنی کی جانب سے رکھی جانے والی مہنگی قیمتوں کی وجہ سے بھی مشکلات کا شکار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ڈالر کی باقی کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوطی کی وجہ سے ان کی مصنوعات ابھرتی معیشت والے ممالک میں مہنگی ہوتی ہیں اور اس کا اثر ان بازاروں میں ان مصنوعات کی فروخت پر پڑ رہا ہے۔

ٹم کُک نے کہا کہ ان کی کمپنی رواں ماہ سے اپنے فونز کی قیمتوں کو دوبارہ طے کر رہی ہے تاکہ صارفین کو کرنسیوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات سے بچایا جا سکے۔

'ہم نے جنوری میں کچھ مصنوعات اور کچھ مقامات کے لیے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں کہ وہ گذشتہ سال کے مقابلے میں کرنسی کے اتار چڑھاؤ کو جذب کر لیں گے۔'

منڈی کے حالات کا تجزیہ کرنے والی کمپنی کینلیس کے مطابق ایپل کی یہ مشکل صرف ان تک محدود نہیں ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی سمارٹ فونز کی ترسیل میں پانچ فیصد کمی آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google

فیس ٹائم تنازعٰ

یہ خبر تب منظر عام پر آئی ہے جب ایپل نے اپنے فیس ٹائم سافٹ ویئر میں موجود اس خرابی کا اعتراف کیا ہے جس کی وجہ سے اگر فیس ٹائم سے ملائی گئی کال نہ بھی اٹھائی جائے تو کال کرنے والا کچھ دیر کے لیے دوسری جانب موجود شخص کی باتیں سن سکتا ہے۔

بعض معاملوں میں کال وصول کرنے والے کے آئی فون سے ان کے علم کے بغیر ویڈیو بھی چلی جاتی ہے۔

کمپنی نے کہا ہے کہ اس مسئلے کی درستگی سے متعلق اپڈیٹ تیار کرلی گئی ہے اور جلد لوگوں تک پہنچا دی جائے گی۔

’نائن ٹو فائیو میک بلاگ‘ نامی ویب سائٹ نے سب سے پہلے اس مسئلے کی نشاندہی کی تھی۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ اسی صورت میں پیش آتا ہے جب دونوں ہی صارفین ایپل کا 12.1 یا اس سے نیا آپریٹنگ سسٹم استعمال کر رہے ہوں۔

کال پر دو ہی صارفین موجود ہونے کے باوجود خرابی کے باعث گروپ میں بات چیت والا فنکشن آن ہوجاتا ہے۔ سافٹ ویئر کال نہ اٹھانے کی صورت میں بھی کال وصول کرنے والے کا مائک آن کردیتا ہے۔

متعدد گھنٹوں کے بعد کال ڈراپ ہونے تک دوسری طرف سے آواز آتی رہتی ہے۔

ایپل نے کہا ہے کہ اپڈیٹ اس ہفتے جاری کردی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایپل نے یہ بل بورذ لاس ویگس میں منعقد ہونے والے کنزیومر الیکٹرانک شو میں اویزاں کیا

’قومی یوم پرائیویسی‘

’نائن ٹو فائو میک‘ کے مطابق متعدد بار بٹن دبا کر کال منقطع کرنا یا فون بند کرنا صارف کو مزید مہنگا پڑ سکتا ہے۔ یہ کرنے سے آڈیو کے علاوہ کال کرنے والے صارف کو ویڈیو بھی چلی جائے گی۔

ایپل نے صحافیوں کو جاری کردہ بیان میں کہا: ’ہمیں اس مسئلے سے متعلق آگاہی ہے اور اس کو ٹھیک کرنے والی اپڈیٹ اس ہفتے کے اختتام پر جاری کردی جائے گی۔'

سوشل میڈیا پر ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو جیک ڈورسی سمیت بہت سے فکرمند صارفین نے فیس ٹائم کے فنکشن کو فون کی سیٹنگز میں جا کر ڈِس ایبل کرنے کی تجویز دی ہے۔

اس مسئلے کی نشاندہی اسی روز کی گئئ جب امریکہ میں ایپل کے سربراہ ٹم کک کی کوششوں سے ’قومی یوم پرائیویسی‘ کا دن منایا جا رہا تھا۔

انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا: ’ڈیٹا کی پرائیویسی کے دن پر ہم سب کو پرائیویسی کے تحفظ کے لیے اصلاحات پر زور دینا چاہیے۔'

’خطرات حقیقی ہیں اور اس کے نتائج سے روگردانی نہیں کی جاسکتی۔'

حال ہی میں ایپل نے لاس ویگس کے کنزیومر ایلیکٹرانک شو میں اپنی پرائیویسی کی نمائش کی۔

کمپنی نے تقریب میں شرکت نہیں کی مگر جہاں تقریب منعقد ہو رہی تھی وہاں ایک بل بورڈ لگایا جس پر لکھا تھا ’آپ کے آئی فون پر جو ہوتا ہے وہ آئی فون پر ہی رہتا ہے۔'

اسی بارے میں