وینزویلا: سپریم کورٹ نے اپوزیشن رہنما ہوان گوائدو پر سفری پابندیاں عائد کر دیں

یوان گائیڈو تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption وینزویلا کے اپوزیشن رہنما ہوان گوائدو نے گذشتہ ہفتے اپنی نگران صدارت کا اعلان کیا تھا

وینزویلا کی سپریم کورٹ نے حزبِ اختلاف کے رہنما ہوان گوائدو پر سفری پابندیاں عائد کرتے ہوئے ان کے تمام بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔

ہوان گوائدو نے گذشتہ ہفتے اپنی نگران صدارت کا اعلان کیا تھا۔

امریکی حمایت یافتہ گوائدو کا کہنا ہے کہ اگر صدر نِکولس مدورو اقتدار چھوڑ دیں تو اُن کو معافی دی جا سکتی ہے۔ تاہم شمالی اور جنوبی امریکی ممالک نے کسی بھی قسم کی بیرونی فوجی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وینزویلا بھی انڈیا کے نقشِ قدم پر، بڑے نوٹ بند

وینزویلا: مدورو کو اقتدار چھوڑنے کے بدلے معافی کی پیشکش

’سفارت کاروں کو خطرے کی صورت میں وینزویلا کو بھر پور جواب دیں گے‘

پیرو کے وزیر خارجہ نیسٹر پاپولیزو کا کہنا ہے کہ کینیڈا سمیت 14 ممالک پر مشتمل لیما گروپ بھی اس تنازعے کا پر امن حل چاہتا ہے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے مسئلے کے حل کے تمام آپشنز زیر غور ہیں۔

وینزویلا کے صدر نکولس مدورو نے سنہ 2013 میں اوگو چاویز کے مرنے کے بعد بحیثیت صدر ملک کا اقتدار سنبھالا تھا۔ سنہ 2018 کے انتخابات کے بعد صدر مدورو نے دوسری مرتبہ اپنے عہدے کا حلف لیا تھا۔

وینزویلا کی حزب مخالف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اورصدر مدورو پر بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وینزویلا صدر مدورو کے دور حکومت میں معاشی بدحالی کا شکار رہا ہے

اقوام متحدہ کے مطابق 21 جنوری سے لے کر اب تک وینزویلا میں جاری احتجاج کے دوران 40 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 100 سے زائد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

وینزویلا صدر مدورو کے دور حکومت میں معاشی بدحالی کا شکار رہا ہے۔ افراط زر میں ہوش ربا اضافہ، بجلی کی بندش اور بنیادی ضروریات زندگی کی اشیا کی قلت نے لاکھوں افراد کو ملک سے نقل مکانی پر مجبور کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے احکامات کیا ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یوان گوئیدو وینزویلا کی قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ہیں

سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق اپوزیشن رہنما ہوان گوائدو کو نہ صرف ملک سے باہر سفر کرنے سے روکا گیا ہے بلکہ ان کے بینک اکاونٹس کو بھی منجمد کر دیا گیا ہے۔ صدر مدورو کی حامی سپریم کورٹ کے مطابق گوائدو کے خلاف ملک کا امن خراب کرنے کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی جن کے مکمل ہونے تک وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔

دوسری طرف گوائدو کا کہنا ہے کہ ملک کے امن کو ان سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ وہ اپنا کام کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے وینزویلا میں موجود امریکی بینک کا کنٹرول گوائدو کے حوالے کرنے کے اعلان کے فوراً بعد آیا ہے۔

امریکہ کی دھمکی

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے اپنی ٹویٹ میں سپریم کورٹ کے احکامات پر ردعمل دیتے ہوئے جمہوریت کو سبوتاژ اور گوائدو کو نقصان پہنچانے والوں کو سنگین نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption وینزویلا کے صدر نکولس مادورو

گوائدو کی جانب سے قائم مقام صدر بننے کے اعلان کے 35 منٹ بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ طور پران کو صدر تسلیم کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں صدر مدورو کی حکومت کو 'غیرقانونی' قرار دیا۔ بیان میں مدورو کو کہا گیا کہ وہ وینزویلا کے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں مت ڈالیں ورنہ ان پر مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائی پر غور نہیں کر رہے لیکن 'تمام آپشنز موجود ہیں۔'

امریکہ وینزویلا کو یہ بھی متنبہ کر چکا ہے کہ امریکی سفیروں یا ہوان گوائدو کے خلاف کسی بھی خطرے کا 'بھر پور جواب' دیا جائے گا۔

صدر نکولس مدورو کا ردعمل

امریکہ کے گوائدو کو نگران صدر تسلیم کرنے کے بعد صدر نکولس مدورو نے امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے امریکی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔

سپین، جرمنی، فرانس اور برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں دوبارہ انتخابات کروانے کا اعلان نہ کیا گیا تو وہ گوائدو کو وینزویلا کا صدر تسلیم کر لیں گے۔ تاہم وینزویلا کے صدر مدورو نے یورپی ممالک کے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الٹی میٹم ہر صورت واپس لیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں