ایران فی الوقت جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا: امریکی انٹیلیجنس رپورٹ

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty
Image caption صدر ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کو ختم کر دیا تھا

امریکی انٹیلیجنس کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے شواہد نہیں ملے ہیں وہیں ٹرمپ انتظامیہ کی امیدوں کے باوجود اس بات کے امکانات کم ہیں کہ شمالی کوریا اپنے تمام جوہری ہتھیار تلف کر دے گا۔

حال ہی میں جاری کی جانے والی 'ورلڈ وائیڈ تھریٹ اسیسمنٹ' رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین اور روس کی جانب سے سائبر حملوں کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں اور یہ دونوں ممالک 2020 کے امریکی انتخابات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ایران جوہری معاہدے کے بارے میں پڑھیے

ایران جوہری معاہدہ تھا کیا؟

ٹرمپ کی دھمکی کے باوجود ایران کا میزائل تجربہ

’ایران جوہری معاہدے کو ختم کرنے سے جنگ کا خطرہ‘

یہ رپورٹ نیشنل اینٹیلیجنس ڈارئیکٹر ڈین کوٹس اور دوسرے اینٹیلیجنس سربراہان نے منگل کے روز امریکی سینیٹ میں پیش کی۔

رپورٹ میں ایران کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اندازہ یہی ہے ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے سلسلے میں فی الوقت کام نہیں کر رہا۔ تاہم رپورٹ کے مطابق ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام جو کہ خطے میں سب سے بڑا ہے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے مسلسل خطرہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے خلا میں مشن بھیجنے کے پروگرام سے بھی اس کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے پروگرام کی ٹائم لائن مختصر ہو گئی ہے کیونکہ سپیس لانچ وہیکل اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل میں ایک جیسی ٹیکنالوجی ہی استعمال ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ کے نیشنل اینٹیلیجنس ڈارئیکٹر ڈین کوٹس نے یہ رپورٹ سینیٹ کے سامنے پیش کی

امریکی رپورٹ میں ایران پر کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کے تحت اس پر عائد ذمہ داریاں پورا نہ کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ خدشات موجود ہیں کہ ایران جارحانہ مقاصد کے تحت کیمیائی مواد تیار کر رہا ہے اور اس نے اپنے تمام کیمیائی مواد کو ظاہر نہیں کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ایران ابھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا، لیکن تہران کے ’خطے میں عزائم اور بہتر فوجی صلاحیتیں‘ مستقبل میں امریکی مفادات سے متصادم ہو سکتے ہیں۔

2018 میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے کیے جانی والے جوہری معاہدے کو ختم کر دیا تھا اور اس پر اور بھی سخت پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

سینیٹ کی کارروائی کے دوران سی آئی اے کی ڈایئرکٹر جینا ہیسپل نے کہا کہ ایران اب بھی ’تکنیکی طور پر‘ جوہری معاہدے کی ’پابندی‘ کر رہا ہے۔

شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شمالی کوریا کے سفیر کم یونگ چول حال ہی میں امریکہ کے دورے پر گئے تھے

رپورٹ کے مطابق جب تک شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کی جزوی تخفیفِ کے حوالے سے بات چیت میں لگا ہوا ہے، ’ایسا نہیں لگتا کہ وہ اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے یا پیداواری صلاحیت کو ترک کرے گا۔‘

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے نزدیک یہ ہتھیار اس کی موجودہ حکومت کی بقا کے لیے لازمی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جانگ اُن کی پچھلے سال سنگاپور میں ہونے والی ملاقات میں جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے بارے میں بات چیت ہوئی تھی۔

دونوں رہنماؤں نے ایٹمی ہتھیاروں کی مکمل تخفیف پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس ملاقات کے بعد اس مسئلے پر کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں

شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار کیوں چاہییں؟

شمالی کوریا: جوہری تجربات روکنے کا عالمی سطح پر خیر مقدم

’شمالی کوریا جوہری ہتھیار ختم کر سکتا ہے‘

شمالی کوریا نے ہمیشہ اصرار کیا ہے کہ وہ صرف اس صورت اپنے جوہری ہتھیار ترک کرے گا اگر امریکہ بھی ایسا ہی کرے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ایک اور ملاقات فروری میں متوقع ہے، لیکن اس کے محرکات ابھی تک طے نہیں ہو پائے۔

رپورٹ کے مطابق چین اور روس دونوں کے پاس ’سائبر جاسوسی‘ کی صلاحیتیں موجود ہیں، جن کی مدد سے وہ 2020 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں