امریکہ میں ’پولر وورٹیکس‘ کے باعث شدید ترین سردی کی لہر، کم از کم آٹھ افراد ہلاک

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ منظر کسی فلم کا نہیں بلکہ شکاگو شہر کا ہے جہاں اس وقت قطب شمالی اور قطب جنوبی سے بھی زیادہ سردی پڑ رہی ہے

امریکی مڈ ویسٹ یعنی ملک کے وسطی اور مغربی شہر اس وقت شدید ترین ٹھنڈ کی لہر سے گزر رہے ہیں۔ قطب شمالی سے آنے والی اس برفیلے موسم کو 'پولر وورٹیکس' کہا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں اب تک آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ کے تیسرے بڑے شہر شکاگو میں درجہ حرارت گر کر منفی 30 تک پہنچ گیا تھا جبکہ شمالی ڈاکوٹا میں درجہ حرارت منفی 37 تک گر گیا تھا۔ یہ دونوں اس وقت دنیا کے سب سے ٹھنڈے مقام، قطب جنوبی کے کچھ علاقوں سے بھی زیادہ سرد ہیں۔

اموات کیسے واقع ہوئیں؟

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

خبروں کے مطابق امریکی ریاست مشی گن میں دو افراد کی سردی کی وجہ سے موت ہو گئی کیونکہ وہ سخت ٹھنڈ میں بغیر حفاظتی اقدامات کیے باہر نکل گئے تھے۔

منگل کو ریاست وسکونسن کے شہر ملواؤکی میں ایک 55 سالہ شخص اپنے گیراج میں گر گر مر گیا۔ حکام نے بتایا کہ وہ اپنے گھر کے باہر جمی ہوئی برف کی صفائی کر رہا تھا۔

الے نوائے ریاست کے شہر پیکن میں خبروں کے مطابق ایک 82 سالہ شخص ہائپو تھرمیا یعنی جسم کا درجہ حرارت کم ہوجانے کی وجہ سے ہلاک ہو گیا۔

اس کے علاوہ شکاگو میں بھی ایک 75 سالہ شخص کی موت ہو گئی اور شمالی انڈیانا میں ایک مرد اور عورت سردی کی وجہ سے پیش آنے والے ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو گئے۔

آیوا یونی ورسٹی میں بھی ایک طالبعلم کی سردی کی وجہ سے موت واقع ہو گئی۔

اگلے چند دنوں میں موسم کی پیش گوئی کیا ہے؟

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

موسمیاتی اداروں کے مطابق آنے والے دنوں میں 'گریٹ لیکس' یعنی امریکہ اور کینیڈا کی سرحد کے نزدیک قائم پانچ بڑی جھیلوں والے علاقوں میں برفباری کے خدشات ہیں۔ ریاست وسکونسن میں 24 انچ برفباری کے امکانات ہیں جبکہ الےنوائے میں چھ انچ برفباری کے امکانات ہیں۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وسکونسن، الےنوائے اور مشی گن سمیت پانچ ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کری گئی ہے۔

ان امریکی علاقوں میں سردی اس قدر شدید ہے کہ قومی موسمیاتی ادارے کے مطابق صرف دس منٹ باہر سردی میں کھڑے رہنے کے باعث فراسٹ بائٹ ہو سکتا ہے۔

آنے والے دنوں میں ہفتے کے اختتام تک امریکہ بھر میں کم سے کم دو کروڑ افراد سخت سردی سے متاثر ہو سکتے ہیں جہاں درجہ حرارت گر کر منفی 28 تک پہنچ سکتا ہے۔

شکاگو میں کیا ہو رہا ہے؟

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سخت سردی کے باعث دریائے شکاگو جم گیا ہے

شکاگو میں سخت سردی ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اس کے باوجود شہر کے باسیوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اس دفعہ حالات کافی مختلف ہیں اور سردی خطرناک حد تک ہونے والی ہے۔

شہر کے دو مرکزی ایئر پورٹس پر اب تک 1500 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔

مشی گن جھیل سے آنے والی برفیلی ہواؤں کے باعث شہر میں ہونے والی سردی اتنی ہوگی جیسے وہاں کا درجہ حرارت منفی 45 ڈگری تک پہنچ گیا ہو۔

شہر میں اسی ہزار بے گھر افراد کو گرم رکھنے کے لیے عارضی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ قطب شمالی یا قطب جنوبی کے پاس کسی گلیشیئر کی نہیں بلکہ امریکہ میں واقع لیک مشی گن کی ایک تصویر ہے جو 30 جنوری کو لی گئی تھی۔

’ہڈیوں میں گودا منجمد کر دینے والی سردی‘

موسم کی پیشنگوئی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس ہفتے امریکی باشندے ’ہڈیوں میں گودا منجمد کر دینے والی سردی‘ کی لہر کی لپیٹ میں ہوں گے۔

خطے میں درجہ حرارت اتنا کم ہو جائے گا کہ ایسا محسوس ہوگا کہ منفی 53 سیلسیئس ہو گیا ہے اور اس کی وجہ ’پولر وورٹیکس‘ ہے جو دراصل انتہائی سرد قطبی ہواؤں کا بگولا ہے۔

درجہ حرارت نقتہ انجماد سے نیچے گرنے کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی زندگی مفلوج ہو جائے گی۔

امریکی ریاست آیووا میں حکام نے لوگوں کو گہرا سانس نہ لینے اور کم بات چیت کرنے کی تاکید کی ہے۔

موسم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شکاگو میں ایک شخص اپنے بچوں کے ساتھ برف میں ڈھلوان پر سلیڈ چلاتے ہوئے

موسم کی پیشنگوئی کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ امریکی ریاست الینوائے کے شہر شکاگو میں ماؤنٹ ایوریسٹ اور انٹارٹیکا سے بھی زیادہ ٹھنڈ پڑے گی۔

مِڈ ویسٹ اور گریٹ لیکس سب سے شدید برفباری کا نشانہ بنیں گی، جس کی وجہ سے سفر کرنا پُرخطر یا ناممکن ہو جائے گا۔

سی این این کے مطابق درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گرنے کی وجہ سے امریکہ کی 75 فیصد آبادی متاثر ہو گی۔

موسم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہوائی جہازوں پر برف کو جمنے سے روکنے کے لیے کیمیکل سپرے کیا جاتا ہے

حکام کا کہنا ہے کہ شہر کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 32 ہو گا لیکن یخ بستہ ہواؤں کی وجہ سے درجہ حرارت منفی 45 جیسا محسوس ہو گا۔

گلوبل وارمنگ

پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید سردی کی لہر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کے وجود پر سوالیہ نشان اٹھایا۔

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@realDonaldTrump

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا ’اگلے چند روز میں دلکش مِڈ ویسٹ میں ہوا کا درجہ حرارت منفی 60 سے بھی نیچے گر جائے گا جو آج تک کا سب سے کم درجہ حرارت ہے اور لوگ چند منٹ کے لیے بھی باہر نہیں جا پائیں گے۔ آخر گلوبل وارمنگ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ پلیز جلدی سے واپس آؤ، ہمیں تمہاری ضرورت ہے۔‘

موسم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کینیڈا کے صوبے مانٹریال میں ایک عورت انتہائی سرد دوپہر میں سودا سلف لا رہی ہے

لیکن فضا اور دریاؤں سے متعلق قومی ادارے نووا کی شائع کی گئی رپورٹ کو لوگوں نے حکمران کی بات کی تردید تصور کیا۔

منگل کو حکومتی ادارے نے ٹویٹ کیا ’برفانی طوفان یہ ثابت نہیں کرتے کہ گلوبل وارمنگ نہیں ہو رہی۔‘

موسم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی ریاست منیسوٹا میں واقع منجمند جھیل ہیرئیٹ کا ایک منظر

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیشنل اوشیانِک اینڈ ایٹموسفیریک ایڈمنسٹریشن کے سربراہ ڈیرک ایرنت کا کہنا تھا ’آرکٹک کی سرد ہواؤں کے امریکہ میں داخل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پوری دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ پولر وورٹیکس ایک مقامی واقعہ ہے اور امریکہ کا مِڈ ویسٹ دنیا کا بہت چھوٹا سا حصہ ہے۔

موسم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈرائیوروں کو مزید احتیاط کرنے کی ہدایت کی گئی ہے

ایرنت کہتے ہیں کہ امریکہ اور کینیڈا کے کچھ حصوں میں انتہا کی سردی پڑ رہی ہے لیکن باقی دنیا گرم ہی ہے اور اگر آپ اوسط نکالیں تو آپ دیکھیں گے کہ دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔

دنیا کے جانے مانے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں نے موسمیاتی تبدیلی کو جنم دیا ہے اور دنیا مستقبل میں بھی شدید سردی کی لپیٹ میں آئے گی۔

اسی بارے میں