بھارت کے زیر انتظام کشمیر: وزیرخارجہ نے میرواعظ کو فون کیوں کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیری قیادت پاکستان سے مذاکرات کی حامی ہے

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے علیحدگی پسند اتحاد کے کلیدی رہنما میرواعظ عمرفاروق کو فون کرکے یقین دلایا ہے کہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کسی طور خاموش نہیں رہے گا اور اس مسئلہ کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند رہنماوں اور پاکستانی حکمرانوں کے درمیان ماضی میں دلی اور اسلام آباد میں ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ تاہم نریندر مودی نے اقتدار میں آنے کے بعد اس سلسلے کو بند کر دیا تھا۔

کئی برس بعد یہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ نے براہ راست کشمیری قیادت سے رابطہ کی ہے۔ میرواعظ عمر مشترکہ مزاحمتی فورم کے اہم رہنما ہیں اور ان کے علاوہ اس فورم میں سید علی گیلانی اور یاسین ملک بھی ہیں۔

انہوں نے پاکستان کے وزیر خارجہ کی طرف سے کشمیر کی قیادت سے براہ راست رابطہ کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

تاہم پاکستانی حکومت کا اس طرح میرواعظ عمر فاروق کو فون کرنا اور اس فون کال کو عام کرنا کئی پہلووں کے اعتبار سے معنی خیز ہے۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان کی عسکری قیادت اور عمران خان نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعہ تنازعات حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

حالانکہ بھارت نے اس فون کال پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اسے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تاہم اکثر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ میرواعظ کو فون کرکے نئی دلی کو یہ پیغام دیا گیا کہ کشمیریوں کی غالب اکثریت کے جذبات کی نمائندگی کرنے والوں کو مستقبل کی کسی بھی مذاکراتی کوشش میں تیسرے فریق کی نشست دی جائے گی۔

بعض دیگر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستانی وزیر خارجہ کی فون کال دراصل مقامی سطح پر جماعت اسلامی اور دیگر اپوزیشن گروپوں کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے تھا۔

حالیہ دنوں میں جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما مولانا سراج الحق نے الزام عائد کیا تھا کہ کشمیریوں کے ساتھ کیے جانے والے مظالم پر عمران خان کی حکومت زبانی جمع خرچ سے کام چلا رہی ہے۔

سینٹرل یونیورسٹی میں شعبہ قانون کے سربراہ ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کہتے ہیں: ’عمران خان چاہتے ہیں کہ مستقبل قریب میں وہ بھارت اور کشمیر کے بارے میں جو بھی پالیسی بنائیں اس پر پورے ملک کا اتفاق ہو۔‘

قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ 44 سال سے پاکستان میں ہر سال پانچ فروری کو سرکاری سطح پر ’یوم یکجہتی کشمیر‘ منایا جاتا ہے۔

فروری سنہ1975 میں جب اُس وقت کے کشمیری رہنما شیخ محمد عبداللہ نے اندرا گاندھی کے ساتھ سمجھوتہ کرکے رائے شماری کی تحریک لپیٹ دی تھی تو اُس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ہر سال پانچ فروری کو یوم کشمیر منانے کا اعلان کیا۔

اس دن کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا بڑے پیمانے پر اظہار کیا جاتا ہے۔ بعض حلقے کہتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت کو سراج الحق کے بیان سے لگا ہوگا کہ یوم کشمیر کے موقع پر جماعت اسلامی اور دوسرے اپوزیشن گروپ وزیراعظم کو ہدف تنقید نہ بنائیں۔

جہاں تک شاہ محمود قریشی کا تعلق ہے، پرویز مشرف کے دور میں بھی کشمیر کے حوالے سے انہیں سخت گیر موقف کے لیے مشرف کی کابینہ کے ساتھ اختلاف ہوا تھا۔ اُن کا میرواعظ کو فون کرنا اس بات کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ پاکستان افغانستان سے فراغت حاصل کررہا ہے، لہذا اب یک سوئی کے ساتھ کشمیر پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔

لیکن اس کی نوعیت کیا ہوگی اس پر ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ پاکستانی قیادت نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ بھارت میں قومی انتخابات کے اختتام تک مذاکراتی کوششوں میں تیزی نہیں لائی جاسکتی کیونکہ بھارت میں انتخابات کا اہم مدعا کشمیر بھی ہوتا ہے اور بی جے پی اس الزام کی متحمل نہیں ہوسکتی کہ اس نے کشمیر کے معاملہ پر پاکستان کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ لہذا اگلے چند ماہ تک کشمیر کا مسئلہ ٹھنڈے بستے میں ہی رہے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں