سعودی عرب نے انسداد بدعنوانی مہم ختم کر دی

سعودی عرب تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ملک میں سال 2017 میں شروع کی جانے والی انسداد بدعنوانی کی مہم ختم کر دی گئی۔ اس مہم کی زد میں سینکڑوں شہزادے، مالدار شخصیات اور کاروباری مالکان آئے تھے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران ریاست نے سو بلین ڈالر کے اثاثے جن میں جائیداد اور پیسے شامل ہیں واپس حاصل کیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 87 افراد جنھوں نے سرکار کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو قبول کیا ان کے ساتھ تصفیہ کیا گیا۔ ان کے علاوہ آٹھ دیگر نے ایسا کرنے سے انکار کیا جنھیں سرکاری پراسیکیوٹر کے حوالے کر دیا گیا۔

سعودی عرب کی اینٹی کرپشن مہم کے بارے میں مزید پڑھیے!

سعودی عرب: کرپشن کےخلاف کریک ڈاؤن یا دشمنیاں

’سعودی شہزادوں، سابق وزراء کی مشروط رہائی پر غور‘

’کرپشن کے خلاف جنگ‘ یا ’شطرنج کی بازی‘

سعودی ’گیم آف تھرونز‘: اونٹ اب کس کروٹ بیٹھے گا؟

اس کے علاوہ 56 دیگر کیسز ایسے تھے جو مجرمانہ الزامات کی بنا پر تصفیہ طلب ہی رہے۔

یہ مہم نومبر 2017 میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے شروع کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY

اس مہم کے دوران دو سو سے زائد شہزادے، وزیر اور کاروباری شخصیات کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے زیادہ تر کو دارالحکومت ریاض کے ہوٹلوں جن میں فائیو سٹار رٹز کارلٹن شامل ہے میں رکھا گیا۔

لندن کے سیوائے ہوٹل کے مالک اور جریدے فوربس کے مطابق سترہ ارب ڈالر کے اثاثے رکھنے والے دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک شہزادہ الولید بن طلال بھی گرفتار کیے گئے شہزادوں میں شامل تھے۔

بی بی سی کے عرب امور کے مدیر سیبیسٹیئن اوشر کا کہنا ہے کہ یہ مہم سعودی عرب کی اعلیٰ شخصیات کے لیے سب سے بڑا جھٹکا تھے۔

بعض غیر ملکی سرمایہ دار بھی اس مہم کی لپیٹ میں آئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں