امریکہ میں سرد ترین موسم کی لہر: پولر وورٹیکس کے غیر معمولی اثرات

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی مڈ ویسٹ یعنی ملک کے وسطی اور مغربی شہر اس وقت شدید ترین ٹھنڈ کی لہر سے گزر رہے ہیں۔ قطب شمالی سے آنے والے برفیلے 'پولر وورٹیکس' کے نتیجے میں زمین جم کر پھٹنے لگی ہے، ریلوے ٹریک جلائے جا رہے ہیں اور یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا امریکی باشندہ ’نرم‘ پڑ رہا ہے۔

’فراسٹ کوئے کس‘ (زمین کا جم کر پھٹنا)

کرائیوسیزم، جنھیں ’فراسٹ کوئے کس‘ بھی کہا جاتا ہے، کی اطلاعات اوہائیو اور پینسلوینیا کی ریاستوں سے مل رہی ہیں جہاں کہ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انھیں زمین کی تہہ سے اونچی اونچی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

زمین کے اس طرح سرکنے کی وجہ بارش اور برف باری کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر زمین پر نمی کا پڑنا ہے، اور پھر جب درجہ حرارت تیزی سے گرتا ہے تو اس کی وجہ سے برف دھماکوں کے ساتھ زمین میں پھیلتی ہے۔

پینسلوینیا کی رہائیشی مشیل ٹیبیٹس نے ڈبلیو ایک مقامی ٹی وی چینل کو بتایا: ’ایسی آوازیں آئیں جیسے ہمارا کوئی فرنیچر گر رہا ہے۔‘

سٹیون ٹیبیٹس کا کہنا تھا کہ ’ایسے لگتا جیسے کوئی دھماکہ ہوا ہے اور پھر ہمارے گھر میں جھٹکے محسوس ہوتے۔‘

امریکہ نرم پڑ رہا ہے؟

کینٹکی کے گورنر میٹ بیوِن، جن کی ریاست میں اس وقت درجہ حرارت منفی 14 ہے، نے منگل کو ایک ریڈیو انٹرویو کے دوران سکولوں کو بند کرنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ امریکہ کو کیا ہو گیا ہے؟ ہم نرم پڑ رہے ہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے میں تھوڑا مذاق کر رہا ہوں، لیکن مجھے اس بات پر تشویش ہو رہی ہے کہ اس یا کسی دوسرے محاذ پر ہم اپنے نوجوانوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ جہاں زندگی تھوڑی سی بھی سخت ہو تو ہم کسی گرم جگہ پر گھس کر سروں کو گھٹنوں میں چھپا لیں، اور برے وقت کے ٹلنے کا انتظار کریں گے۔ لیکن یہ حقیقت نہیں ہے، بالکل نہیں ہے۔‘

بدھ کو این بی سی نیوز کے نیشنل میٹرالوجسٹ ایل روکر نے گورنر بیوِن کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ’احمق گورنر‘ کہا، جبکہ سوشل میڈیا پر بعض کا کہنا تھا کہ بیوِن صاحب گھر سے باہر اس سردی میں صرف 15 منٹ گزار کے دکھائیں!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ریلوے ٹریکس پر آگ

شکاگو میں مسافر ٹرین کی پٹڑیوں پر آگ لگا دی گئی ہے تاکہ لوہا جمے نہیں اور ٹرینیں چلتی رہیں۔

نیوز چینل کے ہیلی کاپٹر سے بنائی گئی ویڈیو میں پٹڑیوں سے لپکتے آگ کے شعلے دیکھے جا سکتے ہیں۔

’میٹرا کمیوٹر ریل کی ترجمان میل رایئلی نے شکاگو ٹریبیون کو بتایا: ’بنیادی طور پر یہ آگ گیس سے چلنے والے ہیٹرز کی ہے اور آپ جو دیکھ رہے ہیں یہ بڑی گیس کی جالی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ آگ کی گرمی لوہے کو جمنے سے روکتی ہے، جس کی وجہ سے پٹڑیاں ٹوٹ سکتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کانٹوں کو جمنے یا ٹریک کے پیچ نکلنے سے بھی روکتی ہے۔

کوئی ڈاک نہیں

کم از کم دس امریکی ریاستوں کے رہائشی بدھ کے روز ڈاک وصول نہیں کر پائیں گے کیونکہ سرد موسم میں یو ایس پوسٹل سروس بند ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ موسم کی وجہ سے ڈاک پہنچانے کا عمل روک دیا گیا ہو، لیکن عام طور پر اس کی وجہ ٹھنڈی ہواؤں کے نتیجے میں سڑکوں پر بڑی تعداد میں جمنے والی برف ہوتی ہے۔

کوئی کلام بھی نہیں!

سرکاری موسمیاتی ادارے (نیشنل ویدر سروس) نے آئیووا میں لوگوں کو گہرے سانس لینے سے خبردار کیا ہے اور سردی میں کم گفتگو کرنے کا کہا ہے۔

امریکہ کی لنگ ایسوسی ایشن نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’خشک، انتہائی سرد ہواؤں سے پھیپھڑوں کو نقصان ہو سکتا ہے، اور سانس میں دقت اور ایستھما کے اٹیک ہو سکتے ہیں۔‘

ماہرین نے کہا ہے کہ اگر آپ کا باہر جانا بہت ضروری ہے تو اپنے چہرے کو ڈھانپ کر نکلیں۔

برفانی ریچھوں کے مزے

نیویارک کے چڑیا گھر کو بھی بدھ کے روز موسم کی شدت کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے، لیکن وہاں کے ایک رہائشی کے لیے یہ موسم کوئی مسئلہ نہیں۔

اور وہ ہے برفانی ریچھ۔

شکاگو کے بروکفیلڈ اور لنکولن پارک کے چڑیا گھروں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ دونوں مقامات بند کر دیے گئے ہیں اور زیادہ تر جانوروں کو چھت تلے لایا جا رہا ہے۔

لیکن برفانی ریچھوں اور دوسرے ایسے جانور جن کے لیے اس طرح کا موسم کوئی مسئلہ نہیں، جیسے کہ برفانی بھیڑیے اور پینگوئنز، وہ برف میں باہر ہی رہیں گے۔

جما ہوا گرم پانی

انٹرنیٹ پر لوگ گرم پانی ہوا میں پھینک رہے ہیں، جس سے پانی فوراً ہی برف میں تبدیل ہو کر کرسٹل کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

یہ وائرل ویڈیوز خاص طور پر ماہرین موسمیات، سائنس کے استادوں اور ان بچوں میں مشہور ہو رہی ہیں جو سرد موسم کی وجہ سے گھروں میں بند ہیں۔

دیگر لوگ اپنے گھروں میں پانی والی بندوقوں میں گرم پانی بھر کر نئے تجربے کر رہے ہیں۔

’اسے جانے دیا!‘

مک کلین پولیس نے ڈزنی فلم ’فروزن‘ کی سنو کوئین یعنی ایلسا کو گرفتار کرنے کا ڈرامہ کرنے کی ایک تصویر بھی شیئر کی ہے۔

اس تصویر کے ساتھ فیس بک پر لکھا: ’شدید سرد موسم کی وجہ سے تمام مجرمانہ سرگرمیاں اور بیوقوفی، پاگل پن والے عمل روک دیے گئے ہیں، یہاں تک کہ ایلسا کو بھی حراست میں لیا گیا ہے اور اگلے نوٹس تک ان کی ضمانت نہیں ہو سکتی۔‘

یہ تصویر اصل میں پہلی بار 2015 میں جنوبی کیرولینا کے پولیس اہلکاروں نے پوسٹ کی تھی۔

اسی بارے میں