سعودی عرب نے جمال خاشقجی قتل کی تحقیقات میں رکاوٹیں ڈالیں: اقوام متحدہ

اجنس کالمارڈ تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY

اقوام متحدہ کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کرنے کی ترکی کی صلاحیت کو ’کم اور کمزور کرنے کی سنجیدہ‘ کوشش کی۔

جمال خاشقجی قتل کی ابتدائی رپورٹ کا کہنا ہے کہ ترکی کو استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے جہاں سعودی صحافی کو قتل کیا گیا 13 دن تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

واضح رہے کہ سعودی صحافی کو گذشتہ سال دو اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ 59 سالہ جمال خاشقجی سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے نقاد تھے۔

جمال خاشقجی کے بارے میں مزید پڑھیے

خاشقجی قتل: سعودی ولی عہد کے مبینہ کردار کی تحقیقات کا مطالبہ

خاشقجی کے قتل کی آڈیو ٹیپ نہیں سنوں گا: ٹرمپ

ہم نے جمال خاشقجی کے قتل کی ’ریکارڈنگ‘ سنی ہے: وزیراعظم ٹروڈو

جمال خاشقجی قتل سے متعلق آڈیو ٹیپ امریکہ کے حوالے

جمال خاشقجی قتل: امریکہ اور سعودی عرب کے بدلتے بیانات

اطلاعات کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے آپریشن کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن سعودی حکام اس بات پر مصر ہیں کہ جمال خاشقجی کا قتل سعودی ایجنٹوں کی ’روگ‘ یعنی بلا اجازت باغیانہ کارروائی ہے جو ولی عہد کے احکامات پر عمل نہیں کرتے۔

سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار 11 افراد کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے اور ان میں سے پانچ کے لیے سزائے موت تجویز کی ہے۔

رپورٹ کیا کہتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی اجنس کالمارڈ، جو جمال جاشقجی قتل کی بین الاقوامی انکوائری کی قیادت کر رہی ہیں نے 28 جنوری سے 3 فروری کے درمیان ترکی کا دورہ کیا۔

جمال خاشقجی قتل کی تحقیقات کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ’خاشقجی سعودی حکام کے ظالمانہ، پیش بندی اور طے شدہ منصوبے کا شکار تھے۔‘

ابتدائی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کرنے کی ترکی کی صلاحیت کو ’کم اور کمزور کرنے کی سنجیدہ‘ کوشش کی اور ترک تفتیش کاروں کو 13 دن استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے کی رسائی نہیں دی گئی۔‘

اجنس کالمارڈ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ’اگرچہ جمال خاشقجی کا قتل دو اکتوبر کو ہوا تاہم حکام کو سفارت خانے تک 15 اکتوبر کو رسائی دی گئی جبکہ سفارت کار کی رہائش تک 17 اکتوبر تک رسائی نہیں دی گئی جس نے خاص طور پر فورینسک تحقیقات کو متاثر کیا۔‘

اجنس کالمارڈ نے جمال خاشقجی قتل کے ذمہ دار 11 مشتبہ افراد کے مقدمے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقدمے کی شفافیت پر ’بڑے سوالات‘ اٹھائے ہیں۔

انھوں نے لکھا ’میں نے سعودی عرب کا سرکاری دورہ کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ وہاں کے حکام مجھے براہ راست متعلقہ ثبوت فراہم کر سکیں۔‘

انکوائری رپورٹ کے مطابق حقیقت یہ کہ جمال خاشقجی کی لاش ابھی تک نہیں ملی جس سے ان کے ’پیاروں کی تکالیف‘ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

جمال خاشقجی قتل کی حتمی رپورٹ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ادارے کو رواں برس جون میں پیش کی جائے گی۔

اسی بارے میں