کم جونگ اُن اور ٹرمپ کی ملاقات کے لیے ویتنام کا انتخاب ہی کیوں؟

ٹرمپ اور کم جانگ ان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ چاہتا ہے کہ شمالی کوریا اپنے تمام جوہری اثاثوں اور تنصیبات کی تفصیلات منظر عام پر لائے اور انھیں ترک کرنے کے لیے حامی بھرے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان سے ان کا دوسرا سربراہی اجلاس ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں ہوگا۔ اس ملاقات کے ویتنام کا انتخاب کیا صرف اس لیے ہے کہ اس ملک کے امریکہ اور شمالی کوریا دونوں کے ساتھ ہی خوشگوار تعلقات ہیں یا اس کے پیچھے کوئی خاص پیغام بھی ہے؟

دونوں سربراہان 27 اور 28 فروری کو میں ملیں گے۔ اس ملاقات کا مقصد شمالی کوریا کی کمیونسٹ ریاست کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔ ویتنام کے ساتھ خوشگوار امریکی تعلقات کو شمالی کوریا اور امریکہ کے تعلقات کے لیے ایک ماڈل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی وفد کی شمالی کوریا کے حکام کے ساتھ نئے سربراہی اجلاس منعقد کرنے کے لیے کی گئی ملاقات مثبت رہی۔

اس سے پہلے جب دونوں رہنماؤں نے پہلے سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی تو اسے نہ صرف دنیا بھر میں پذیرائی ملی بلکہ اسے مثبت انداز میں بھی دیکھا گیا۔ تاہم اس سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہ ہوا۔ دونوں ملکوں نے اس ڈی نیوکلیئرائیزیشن یعنی جوہری ہتھیاروں کا استعمال کا ترک کرنے کا کہا لیکن اس عمل کو کب اور کیسے کیا جائے گا اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔

اسی بارے میں

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی دوبارہ ملاقات بہت جلد

’اکیسویں صدی کا سب سے اہم سیاسی جوا‘

’کم سے ایمانداری سے لگی لپٹی رکھے بغیر بات ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 1965 کی اس تصویر میں امریکن فوجی ’ویتنام وار‘ کے دوران ایک جلتے ہوئے گاؤں کے سامنے کھڑا ہے۔

ہنوئی ہی کیوں؟

صدر ٹرمپ نے جب اپنے سٹیٹ آف دی یونین حطاب میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ کم جانگ ان سے ویتنام میں ملیں گے تو انھوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ ملاقات ویتنام میں کہاں ہوگی۔

پھر جمعے کی شب واشنگٹن سے ٹویٹ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ یہ ملاقات ہنوئی میں ہوگی تاکہ 'امن قائم کرنے کے مقصد کو آگے بڑھایا جائے'۔

ہنوئی کمیونسٹ شمالی ویتنام کے دور میں ان کا دارالحکومت تھا۔ یہ 1965 اور 1973 کے درمیان کا وہی دور ہے جسے امریکی اب 'ویتنام وار' اور ویتنامیز اسے 'امیریکن وار' کے نام سے یاد رکھتے ہیں۔

اس جنگ میں لاکھوں کی تعداد میں فوجی اور عام شہری ہلاک ہوئے۔ ویتنام کے دونوں حصے یکجا ہوئے اور اس نئے ویتنام کے امریکہ کے ساتھ تعقلات مستحکم ہوئے۔

اگر شمالی کوریا پر نظر ڈالیں تو انھوں نے 1953 میں 'کورین وار' کے اختتام پر خود کو باقی دنیا سے الگ کردیا۔ اس نے اپنے ہمسائے اور امریکی اتحادی جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا عمل حال ہی میں شروع کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کے صدارتی ترجمان نے اس ہفتے کہا کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان دوسرا سربراہی اجلاس منعقد کرنے کے لیے ویتنام سب سے اچھا مقام ہے کیونکہ امریکہ اور ویتنام پہلے 'ایک دوسرے پر چھری اور بندوق تانتے تھے'۔

ویتنام کی سیاسی اور معاشی اصلاحات کو بھی شمالی کوریا کے لیے ایک ممکنہ ماڈل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

امریکی براڈکاسٹر سی بی ایس کو وائٹ ہاؤس کے ایک ذرائع سے ملنے والی خبروں کے مطابق ویتنام کو اس ملاقات کے لیے اس چنا گیا ہے کیونکہ اس کے امریکہ اور شمالی کوریا دونوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہنوئی کمیونسٹ شمالی ویتنام کے دور میں ان کا دارلحکومت تھا۔ یہ 1965 اور 1973 کے درمیان کا وہی دور ہے جسے امریکی اب 'ویتنام وار' اور ویتنامیز اسے 'امیریکن وار' کے نام سے یاد رکھتے ہیں۔

کیا تیاریاں ہورہی ہیں؟

امریکی ایلچی سٹیون بیگن جزیرہ نما کوریا میں مذاکرات کے لیے تین دن رکے اور شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں وہ اپنے ہم منصب کم ہیوک چول سے ملے۔ امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق فریقین نے سنگاپور میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں طے پانے والے ڈی نیوکلیئرائزیشن کے موضوع پر بات کی۔

دونوں ایلچی دوسرے سربراہی اجلاس سے پہلے ایک بار پھر ملاقات کریں گے۔ مسٹر بیگن نے خبردار کیا ہے کہ اس عرصے میں شمالی کوریا کے ساتھ مل کر انھیں بہت زیادہ کام کرنا ہے۔

ادھر جنوبی کوریا میں امریکی ایلچی ان کے وزیرِ خارجہ سے ملے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہویے انھوں نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ اگر دونوں فریقین پر عزم رہیں تو پیش رفت یقینی ہے۔

صدر ٹرمپ نے بعد ازاں ٹویٹ کیا کہ جنوبی کوریا 'معاشی راکٹ' بن سکتا ہے۔

کیا ہم پر امید ہوسکتے ہیں؟

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے دعووں کے باوجود کہ ،شمالی کوریا کوئی خطرہ نہیں ہے، کمیونسٹ ریاست نے ابھی تک خود یہ کبھی نہیں کہا کہ وہ اپنا جورہی پروگرام ترک کریں گے۔

امریکہ چاہتا ہے کہ شمالی کوریا اپنے تمام جوہری اثاثوں اور تنصیبات کی تفصیلات منظر عام پر لائے اور انھیں ترک کرنے کے لیے حامی بھرے۔ وہ بھی بین الاقوامی عملے کی نگرانی میں۔

امریکی یونیورسٹی سٹین فورڈ میں ایک خطاب کے دوران امریکی ایلچی سٹیون بیگن نے کہا کہ امریکہ شمالی کوریا پر لگائی گئی پابندیاں تب تک نہیں ہٹائے گا جب تک وہ اپنا جوہری پروگرام ترک نہیں کرتے تاہم انھوں نے اشارہ دیا کہ امریکہ دوسرے طریقوں سے شمالی کوریا کی مدد کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا 'ہم نے یہ تو نہیں کہا کہ ہم تب تک کچھ نہیں کریں گے جب تک آپ سب کچھ نہیں کرتے'۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی کوریا اپنا جوہری پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے اور پابندیوں کی خلاف ورزی بھی کررہا ہے۔

اسی بارے میں