چین نے اویغور موسیقار کی ویڈیو جاری کر دی، ’عبدالرحیم حیات زندہ ہیں‘

screenshot of video appearing to show Abdurehim Heyit تصویر کے کاپی رائٹ CRI
Image caption 10 فروری کو بنائی گئی اس ویڈیو میں بظاہر عبد الرحیم حیات یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ان کی صحت ٹھیک ہے۔

چین میں ایک حراستی مرکز میں ملک کے معروف موسیقار عبد الرحیم حیات کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد چینی حکام نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں عبد الرحیم حیات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

10 فروری کو بنائی گئی اس ویڈیو میں بظاہر عبد الرحیم حیات یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ان کی صحت ٹھیک ہے۔

اطلاعات کے مطابق عبد الرحیم حیات چین کے سنکیانگ علاقے میں آٹھ سال کی سزا کاٹ رہے تھے اور ان کا تعلق اویغور برادری سے ہے۔

ایک اندازے کے مطابق چین کے ان حراستی کیمپوں میں تقریباً دس لاکھ اویغور مسلمانوں کو حراست میں رکھا گيا ہے۔

اس سے قبل ترکی نے چین سے اویغور مسلمانوں کے لیے بنائے جانے والے حراستی کیمپوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

سنیچر کو ترکی کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کو حراستی کیمپوں میں اذیتیں دی جارہی ہیں اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تاہم کچھ اویغور افراد نے ا ویڈیو کی صداقت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اویغور برادری کے حقوق کے لیے کام کرنے والی امریکہ میں تنظیم اویغور ہیومن رائٹس پروجیکٹ کے چیئرمین نوری ترکل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ویڈیو کچھ عناضر مشکوک ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اویغور مسلمانوں کے لیے ’سوچ کی تبدیلی‘ کے مراکز

کوئی مسلم ملک اویغور مسلمانوں کے لیے کیوں نہیں بولتا؟

اویغور مسلمانوں اور چین کے درمیان جھگڑا کیا ہے

ویڈیو میں ہے کیا؟

یہ ویڈیو چائنا ریڈیو انٹرنیشنل کی ترک سروس نے جاری کی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ ترکی کے چین کے حوالے سے خداشات نے بنیاد ہیں۔

اس ویڈیو میں بظاہر عبد الرحیم حیات بات کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ مبینہ طور پر قومی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے سلسلے میں زیرِ تفتیش ہیں۔

اویغور چین کے مغربی علاقے سنکیانگ میں آباد اقلیتی مسلم ہیں جو ترکی سے مماثل زبان بولتے ہیں۔

چینی حکومت اس کمیونٹی پر سخت نگرانی رکھتی ہے اور ان کی مذہبی آزادی پر بہت ساری پابندیاں عائد ہیں۔

ترکی نے کیا کہا؟

سنیچر کے روز جاری کردہ ایک بیان میں ترکی نے کہا کہ 'اب یہ کوئی راز نہیں ہے کہ حراست میں رکھے گئے دس لاکھ سے زائد اویغور مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا اور ان کا سیاسی طور پر برین واش کیا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنھیں حراست میں نہیں رکھا گیا ہے ان پر بھی شدید دباؤ ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان حامی اکسوی نے کہا: ’21 ویں صدی میں پھر سے کنسینٹریشن کیمپوں (عقوبت خانوں) کا قائم کیا جانا اور اویغور مسلمانوں کے خلاف حکومت کی پالیسیاں انسانیت کو شرمسار کرنے والی باتیں ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ عبدالرحیم حیات کی موت کی خبر سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ترک عوام کے ردعمل کو مضبوطی فراہم کرتے ہیں۔

انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گوتریز سے چین انسانی المیے کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے پر زور دیا۔

چین کے خفیہ کیمپ

چین کا کہنا ہے کہ سنکیانگ صوبے میں قائم کیے جانے والے کیمپ 'کاروباری تعلیم کے مراکز' ہیں جو علاقے کو انتہا پسندی سے پاک کرنے کے مقاصد کے تحت بنائے گئے ہیں۔

گذشتہ سال اکتوبر میں دینے جانے والے ایک بیان میں سرکردہ چینی اہلکار شہرت ذاکر نے کہا تھا کہ کیمپوں میں رکھے جانے والے لوگ اپنی غلطیوں کی اصلاح کے مواقع فراہم کرنے کے لیے حکومت کے شکار گزار ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ لوگوں پر فرد جرم عائد کیے بغیر غیر معینہ مدت کے لیے حراست میں لے لیا جاتا ہے۔ کئی بار ڈی این اے کا نمونہ دینے سے انکار کرنے پر یا پھر اپنی مادری زبان بولنے یا حکومت کے اہلکاروں سے بحث کرنے پر بھی حراست میں لے لیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دو اویغور مسلم روایتی دوتار موسیقی بجاتے ہوئےیہاں دیکھے جا سکتے ہیں

حیات کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

ابھی عبدالرحیم حیات کی موت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ وہ ان کے بارے میں فکر مند ہے۔

حیات معرف آلۂ موسیقی دوتار کے ماہر سازندے تھے۔ دو تاروں والے اس آلے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس پر مہارت حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔

ایک زمانے میں پورے چین میں ان کو عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ انھوں نے بیجنگ میں موسیقی کا مطالعہ کیا اور وہ چین کے قومی موسیقار گروپ کے رکن رہے۔

حیات کی حراست کا سبب بظاہر ان کا ایک گیت ہے جو انھوں نے اپنے آباؤ اجداد کو یاد کرتے ہوئے تیار کیا اور اس کا عنوان 'آبا' رکھا۔ اس میں اویغور نظم سے کچھ حصے لیے گئے تھے جس میں نوجوان نسل سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے آبا کی قربانیوں کی عزت کریں اور انھیں یاد رکھیں۔

لیکن اس گیت کے تین الفاظ 'جنگ کے شہدا' سے بظاہر چینی حکام نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حیات دہشت گردانہ خطرہ ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
اویغور برادری کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں پر اقوام متحدہ کی تشویش

اویغور کون ہیں؟

چین کے سنکیانگ صوبہ میں اویغور کی آبادی تقریباً 45 فیصد ہے۔

وہ خود کو تہذیبی اور نسلی طور پر وسط ایشیائی ممالک سے نزدیک کہتے ہیں اور ان کی زبان ترکی زبان سے بہت مماثل ہے۔

حالیہ دہائیوں میں چین کی ہان برادری (چین کی اکثریتی نسلی برادری) کے لوگ بڑی تعداد میں نقل مکانی کرکے سنکیانگ میں آباد ہوئے ہیں اور ان کی آمد سے اویغور کو یہ خوف ستا رہا ہے کہ ان کی تہذیب اور ان کے معاش کو خطرہ لاحق ہے۔

جنوب میں تبت کی طرح مغرب میں سنکیانگ سرکاری طور پر چین کا خود مختار علاقہ ہے۔

اسی بارے میں