وارسا کانفرنس: ایران پر خاموشی کیوں؟

Member of staff removes the Iranian flag from the stage after a group picture with foreign ministers and representatives of Unites States, Iran, China, Russia, Britain, Germany, France and the European Union during the Iran nuclear talks at Austria International Centre in Vienna, Austria on 14 July 2015. تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشرقِ وسطٰی پر وارسا میں ہونے والی کانفرنس ایران کے معاملے پرامریکہ اور یورپ کے درمیان اختلافات کو اور زیادہ واضح کرے گی

مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ایک سربراہی کانفرنس کرانے کا فیصلہ سفارتی حلقوں میں ایک توجہ طلب بات بن گئی ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ مشرقِ وسطٰی کے بارے میں مغربی ممالک کے رہنماؤں اور عرب حکمرانوں کی کانفرنس پولینڈ کے دارالحکومت میں منعقد کیوں کی جارہی ہے؟

پولینڈ وہ ملک ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے ان گنت مسائل میں گہری دلچسپی لینے کے حوالے سے جانا تو نہیں جاتا ہے۔لیکن پولینڈ نیٹو اس تنظیم کا ایک فعال رکن ہے، اور اس کے روس کے تسلط کے دنوں کے تجربات اِسے امریکہ کے قریب لے جاتے ہیں۔ پولینڈ میں امریکہ کا یورپ میں اینٹی بیلِسٹک میزائل کا اڈا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پولینڈ کے کئی شہری اپنے ملک میں امریکہ کے اڈوں کو بخوشی قبول کرتے ہیں، بعض تو انھیں اپنی سرزمین پر ٹرمپ کا قلعہ کہتے ہیں۔ اس لیے امریکہ کی اس شاندار کانفرنس کی شریک میزبانی کرنا ان کے لیے ایک بامقصد بات ہو۔

لیکن کانفرنس کی ایک بات جو پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یورپ میں امریکہ کا کوئی بھی اتحادی اس کانفرنس کی میزبانی کے لیے بے تاب نہ تھا۔

اس کانفرنس نے یورپ کے سفارتی حلقوں میں اجتماعی سطح پر ایک یاد دہانی کرائی ہے کہ اچھا یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔ یہاں تک کہ ابھی بھی یہ یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا ہے کہ اس کانفرنس میں کون کون سے یورپی رہنما شرکت کریں گے اور یہ ممالک اس کانفرنس میں کس سطح کے وفود بھیجیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

غیرمستحکم مشرق وسطیٰ میں ایک بھونچال

روس اور سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی قربتیں

’مشرق وسطیٰ میں پناہ گزینوں کے بحران کا سبب امریکہ‘

امریکہ کی نہ ختم ہونے والی جنگیں اور صدر ٹرمپ

اس کانفرنس کے منعقد کرنے کا خیال امریکہ کی اس تجویز سے پیدا ہوا تھا کہ ایک ایسی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے جس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہو۔ لیکن اس خیال پر فوراً ہی نظرِ ثانی کی گئی کیونکہ امریکہ کے یورپی اتحادیوں نے اس خیال پر کوئی خاص دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔

یہ بات فوراً ظاہر ہو گئی کہ ایران کو موضوعِ سُخن بنانے سے صدر ٹرمپ کے امریکہ کے یکطرفہ طور پر ایران کے جوہری معاہدے سے الگ ہوجانے کے بعد اپنے اتحادیوں سے اختلاف پیدا ہوئے وہ دوبارہ سے سامنے آجائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گزشتہ برس مئی میں صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری منصوبے کے بارے میں عالمی معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔

لہٰذا اب اس مذکورہ کانفرنس کو ایک وزارتی سطح کی کانفرنس کہہ کر اس کا ایجنڈا وسیع کردیا گیا اور نام دیا گیا کہ ’مسشرقِ وُسطیٰ میں امن اور استحکام کا مستقبل۔‘

اب اس کانفرنس کے ایجنڈے پر ایران کا نام نہیں ہے، اب اس میں انسانی امداد، مہاجروں کے مسائل، میزائلوں کا پھیلاؤ اور اکیسویں صدی کے سائبر جُرائم اور دہشت گردی جیسے موضوعات ایجنڈے میں شامل ہیں۔

اسرائیلی اور فلسطینی تنازع اس کانفرنس کے ایجنڈے پر موجود ہی نہیں ہے۔ فلسطینی اس کانفرنس میں شرکت نہیں کر رہے ہیں کیونکہ وہ صدر ٹرمپ کی حکومت کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔

کون کون اس کانفرنس میں کس کس سطح کا وفد بھیجے گا؟

اس بارے میں حتمی طور پر اُس وقت تک کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے جب تک وزرا یا سفارتی اہلکاران اس میں شرکت کے لیے آ نہیں جاتے ہیں۔

امریکہ کی نمائندگی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کریں گے لیکن امریکی نائب صدر مائیک پینس اور صدر ٹرمپ کے داماد جیریڈ کُشنر (جنھیں امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ کی اُس پالیسی کا بنانے والا کہا جاتا ہے جسے تاحال منکشف نہیں کیا گیا) کے شرکت کرنے کے امکانات ہیں۔

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ جیریمی ہنٹ کم از کم اس کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے۔

دوسرے مغربی ممالک شاید اس سے بھی نچلے درجے کے افسران اس کانفرنس میں بھیجیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر ٹرمپ کے داماد جیریڈ کُشنر کے وارسا کانفرنس میں شرکت کے امکانات ہیں۔

پولینڈ کے باخبر ذرائع کے مطابق، اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامِن نتن یاہو وارسا کی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے آرہے ہیں۔ جبکہ کئی ایک عرب ممالک کی نمائندگی ان کے وزارا کریں گے، ان میں سعودی عرب، یمن، اردن، کویت، بحرین، مراکش، اومان اور متحدہ عرب امارات ہیں۔ البتہ مصر اور تیونس نائب وزرا کی سطح کے وفود بھیجیں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ سنہ انیس سو نوے کی دہائی کی میڈریڈ کانفرنس کے بعد پہلی کانفرنس ہو گی جس میں اسرائیل عرب ممالک کے شانہ بشانہ شریک ہوکر مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی سلامتی پر بات کرے گا۔

اس کانفرنس کے مذکورہ شرکا میں ایک بنیادی اختلاف ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور کئی عرب ممالک ایران کو خطے میں برا اثر پیدا کرنے والا ملک سمجھتے ہیں جو اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے کسی بھی موقع کو ضائع نہیں کرتا ہے۔ یہ وہ دھڑا ہے جو سنہ 2015 کے ایران کے جوہری معاہدے کو پسند نہیں کرتے ہیں جس کا مقصد ایران کی جوہری سرگرمیوں کو روکنا تھا۔

اس موقف پر اسرائیل، سعودی عرب کے ہمراہ امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے۔

اسرائیل اب شام اور لبنان میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر کو چیلینج کر رہا ہے۔ وہ خطے میں ایران اور اس کی حامی مسلح قوتوں کے خلاف فوجی کاروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

نتن یاہو کا استدلال یہ ہو گا کہ ایران کے جوہری معاہدے کے بارے میں امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان موجودہ اختلافِ رائے کے حوالے سے بات نہ کی جائے۔

بلکہ وہ یہ کہیں گے کہ یورپی اقدار کو خطرہ ہے۔ ایران کا رویہ، اُس کی دہشت گردی کے لیے حمایت، ایران میں انسانی حقوق کی پامالی، غیر ملکیوں کی گرفتاریاں، یہ وہ معاملات ہیں جن پر یورپی حکومتوں کو غور کرنا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کا خیال ہے کہ وہ اسرائیلی وزیرِاعظم نتھن یاہو کے ہمراہ وارسا کانفرنس میں ایران کے خلاف ایک بڑا اتحاد قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے وزارئے خارجہ خطے میں ایران کے رویے اور اُس کے میزائلوں کے پھیلاؤ کی پالیسی پر تشویش میں مبتلا ہیں۔ لیکن اس بارے میں کوئی نہیں جانتا ہے کہ وہ ان معاملات کے بارے میں کر کیا سکتے ہیں۔

یورپی ممالک کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو آگے نہ بڑھنے دیں۔ جبکہ امریکہ، اسرائیل اور عرب اتحادیوں کے لیے یہ کافی نہیں ہے۔

اس وقت یورپ بریگزٹ سمیت کئی اور مسائل میں گِھرا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور اُن کی پالیسیوں میں مسلسل عدم ستحکام، پھر ان کا اپنے اتحادیوں سے مشاورت کے بغیر شام سے امریکی فوجوں کے انخلا کا فیصلہ، یہ ایسی باتیں ہیں جنھوں نے امریکہ اور یورپ کے تعلقات کو خراب کیا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری، پھر روس کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کے خاتمے کے معاہدے سے علیحدگی، یہ وہ اہم معاملات ہیں جو یورپی ممالک میں امریکہ پر اعتماد نہ کرنے کے چند کلیدہ نکات بن چکے ہیں۔

لہٰذا مشرقِ وُسطیٰ میں جو بھی مسائل ہوں، وارسا میں ہونے والی کانفرنس بحرِ اوقیانوس کے ممالک کے درمیان اختلافات کو اور زیادہ واضح طور پر ظاہر کرے گی جو بہتر ہونے کے بجائے اب بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں