تھائی لینڈ: شہزادی کو نامزد کرنے والی پارٹی کو تحلیل کرنے کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تھائی لینڈ میں الیکشن کمیشن حکام نے تجویز دی ہے کہ جس سیاسی جماعت نے ملک کے شاہی خاندان کے رکن کا نام وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے اسے ختم کر دیا جائے۔

انتخابی حکام نے شہزادی بولرتانا ماہیڈول کی نامزدگی کو آئینی شہنشاہیت کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

تاہم تھائی لینڈ کے بادشاہ واجیرالنونگ کورن کی بہن شہزادی بولرتانا ماہیڈول کا کہنا ہے کہ وہ ان کی جانب سے ملک کی وزیراعظم بننے کی کوشش پر آنے والے ردعمل پر ’غمگین‘ ہیں۔

پارٹی کی نامزدگی واپس لیکن شہزادی اپنے فیصلے پر قائم

تھائی لینڈ کی شہزادی وزیرِ اعظم بننے کی خواہشمند

شہزادی بولرتانا ماہیڈول کو ملک کے الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دیا دیا تھا جو اب ان کو نامزد کرنے والی سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا چاہتی ہے۔

ان کی نامزدگی سے شاہی خاندان کی عوامی سیاست سے باہر رہنے کی روایت ٹوٹ جاتی۔

تھائی لینڈ کے بادشاہ نے اپنی بہن کی جانب سے اس کوشش کو ’انتہائی غیرمناسب‘ قرار دیا۔

اس طرح کے ردعمل پر تھائی شہزادی نے اپنے نجی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لکھا: ’ملک اور ہمارے لیے کام کرنے کی مخلصانہ نیت پر تھائی لینڈ والوں کی جانب سے مسئلہ بنانے پر غمگین ہوں، حالانکہ اس دور میں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘

بولرتانا ماہیڈول کی نامزدگی کیسے ہوئی؟

تھائی لینڈ کی سیاست میں حالیہ برسوں میں کئی انوکھے واقعات پیش آئے ہیں لیکن شہزادی بولرتانا کا وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار بننا یقیناً ان میں سب سے عجیب سمجھا جا رہا ہے۔

شہزادیبولرتانا ماہیڈول سنہ 1951 میں پیدا ہوئیں اور وہ شاہی خاندان کی سب سے بڑے اولاد ہیں۔

سنہ 1972 میں ایک امریکی سے شادی کرنے کے بعد انھوں نے اپنا شاہی لقب چھوڑ دیا اور امریکہ منتقل ہو گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تھائی لینڈ کے بادشاہ نے اپنی بہن کی جانب سے اس کوشش کو 'انتہائی غیرمناسب' قرار دیا

طلاق کے بعد وہ واپس تھائی لینڈ لوٹ آئیں اور پھر سے شاہی زندگی میں شرکت کرنا شروع کر دی۔

انھیں تھائی شاہی خاندان کی سب سے رنگین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا کی سرگرمیوں میں پھرپور شرکت کرتی ہیں اور کئی تھائی فلموں میں اداکاری بھی کر چکی ہیں۔

بولرتانا ماہیڈول کو آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں رسکا چارٹ پارٹی نے گذشتہ ہفتے نامزد کیا تھا۔ تھائی رسکا چارٹ پارٹی متنازع سابق وزیر اعظم تھاکسن شیناوترا کی اتحادی ہے۔

اگلے ماہ ہونے والے انتخابات کو بہت گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ پانچ سال کی فوجی آمریت کے بعد تھائی لینڈ میں جمہوریت کو واپس آنے کا پہلا موقع ملے گا۔

ان کی نامزدگی پر ردعمل

ان کی نامزدگی کے اعلان کے فوراً بعد ہی شاہی خاندان اور انتخابی حکام نے اس کی مذمت کر دی۔

ملک کی الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ انھوں نے شہزادی کا نام نکال دیا ہے کیونکہ :’شاہی خاندان کا ہر رکن اس زمرے میں آتا ہے جس کے تحت شہنشاہیت سیاسی غیرجانبدار اور سیاست سے بالاتر ہے۔‘

جبکہ شاہی حکم میں کہا گیا تھا کہ ’شاہی خاندان کے کسی بھی معزز رکن کا کسی بھی صورت میں سیاست میں حصہ لینا، قوم کی روایات، رسم و رواج اور ثقافت کے منافی تصور کیا جاتا ہے لہذا اس فیصلے کو انتہائی غیر مناسب مانا جاتا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں