پاپوا نیو گینی : ایپک اجلاس کے بعد 300 قیمتی گاڑیاں لاپتہ ہو گیئں

مسیراتی گاڑیاں تصویر کے کاپی رائٹ AIRBRIDGECARGO

پاپوا نیو گینی کی پولیس گذشتہ سال ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (ایپک) کے اجلاس کے دوران حکام کو دی جانے والی تقربیاً 300 لگژری گاڑیوں کی واپسی کے لیے کوشاں ہے۔

خیال رہے کہ لگژری گاڑیوں کا یہ بیٹرا غربت کا شکار پاپوا نیو گینی آنے والے رہنماؤں کے استعمال کے لیے درآمد کیا گیا تھا تاکہ وہ سٹائل کے ساتھ ملک میں سفر کر سکیں۔

لیکن پولیس کے ایک کمانڈر نے منگل کو بتایا کہ ان میں 284 گاڑیاں لاپتہ ہیں۔

سپرنٹنڈنٹ ڈینس کارکوران کا کہنا تھا کہ لاپتہ ہونے والی گاڑیوں میں لینڈ کروزر، فورڈ، مزدا اور پجارو شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فراری گاڑیوں کو ٹکر مارنے والے نوجوان کے لیے ہمدردی

پانچ بیش قیمت اشیا جو اب تک لاپتہ ہیں

پاپوا نیو گینی کے دارالحکومت پورٹ مورسبی میں ان گاڑیوں کو تلاش کرنے کے لیے پولیس کا ایک خاص یونٹ قائم کر دیا گیا ہے۔

سپرنٹنڈنٹ ڈینس کارکوران نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ’ایپک اجلاس کے دوران اہلکاروں کو 284 گاڑیاں ذاتی استعمال کے لیے جاری کی گئی تھیں جنھیں اب تک واپس نہیں کیا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ان کا مزید کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے ان قیمی گاڑیوں کا پتہ چل چکا ہے۔

ڈینس کے مطابق جن گاڑیوں کا پتہ چلا ہے ان میں مسیرات بھی شامل ہے اور ایک مسیرات کی قیمت ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 40 مسیرات گاڑیاں اور تین بینٹلیز گاڑیوں کی حالت بہت اچھی ہے اور انھیں پرانے گودام میں رکھا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق لاپتہ ہونے والی نو گاڑیاں چوری کی چکی ہیں اور کچھ حصوں کو نکالا جا چکا ہے۔

پاپوا نیو گینی کے رہنماؤں کو امید ہے کہ 73 لاکھ آبادی پر مشتمل اس ملک میں اس کانفرنس کا انعقاد سرمایہ کاروں کو اپنی جانب متوجہ کرے گی اور ملک کو بین الاقوامی توجہ ملے گی۔

اسی بارے میں