صدر ٹرمپ: یورپی ممالک دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں پر اپنے ملکوں میں مقدمات چلائیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی خلافت ' گرنے کے قریب' ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ اور دوسرے یورپی اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے ممالک سے تعلق رکھنے والے دولتِ اسلامیہ کے 800 سے زیادہ جنگجوؤں کو واپس لیں اور اُن پر مقدمات چلائیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ بات اپنی ٹوئٹ میں کہی ہے۔ اِسی دوران امریکی حمایت والی کرد فورسز شام اور عراق کے سرحدی علاقے میں دولتِ اسلامیہ کے بچے کُچے جنگجوؤں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر رہی ہیں۔

شمیمہ کی برطانیہ واپسی کے لیے خاندان کی حکومت سے اپیل

’دولت اسلامیہ کے پاس امریکی اور سعودی اسلحہ‘

یہ جنگجو شام میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کے آخری مرحلے کے دوران گرفتار ہوئے ہیں۔ اِن جنگجوؤں کا تعلق مختلف یورپی ممالک سے ہے اور یہ اِس وقت کرد فورسز کی قید میں ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ دولتِ اسلامیہ کی خلافت ' گرنے کے قریب' ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں مزید کہا 'امریکہ یہ نہیں دیکھنا چاہتا کہ دولتِ اسلامیہ کے یہ جنگجو یورپ کا رخ کریں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں اِن کے جانے کی توقع ہے۔ ہم بہت کچھ کرتے ہیں اور بہت خرچ کرتے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ دوسرے سامنے آئیں اور اپنا کام کریں جو وہ بہت اچھی طرح کر سکتے ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ دوسری صورت میں امریکہ اِن جنگجوؤں کو چھوڑ دینے پر مجبور ہو گا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں نے اخبار سنڈے ٹیلی گراف سے اِس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے بعض جنگجوؤں کو اگر انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا تو وہ یورپی ممالک کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے الفاظ برطانیہ کے انٹیلیجنس چیف ایلکس ینگر کے بیان سے مطابقت رکھتے ہیں جنھوں نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ شام میں شکست کے باوجود دولت اسلامیہ مزید حملوں کے لیے خود کو دوبارہ سے منظم کر رہی ہے۔

انھوں نے ایسے جہادیوں کی یورپ واپسی کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا جن کے پاس خطرناک تربیت اور نیٹ ورک ہے۔

صدر ٹرمپ کی یہ ٹوئٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانیہ میں شمیمہ بیگم کے معاملے پر ایک تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ شمیمہ بیگم اُن تین لڑکیوں میں سے ایک تھیں جو دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے 2015 میں لندن سے شام چلی گئی تھیں۔

شمیمہ بیگم نے کہا ہے کہ وہ برطانیہ واپس آنا چاہتی ہیں۔ برطانوی حکومت اِس سلسلے میں کوئی اقدامات نہیں کر رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں