میکسیکو سرحدی دیوار: ایمرجنسی نافذ کرنے پر امریکی ریاستوں کا ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمہ

People protest against Donald Trump's National Emergency declaration, February 18, 2019, outside City Hall in Los Angeles تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف لوگ بھر سڑکوں پر نکل آئے

امریکہ میں 16 ریاستوں کے اتحاد نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہنگامی حالت کے نفاذ پر ہر جانے کا دعوی کر دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈ حاصل کرنے کی غرض سے یہ ہنگامی حالت نافذ کی ہے۔

یہ قانونی مقدمہ کیلیفورنیا کے شمالی ضلعے کی ایک عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کی دیوار کی راہ میں حائل چھ رکاوٹیں

دیوارِ ٹرمپ دیگر دیواروں کے سامنے کیسی؟

صدر ٹرمپ نے ایمرجنسی نافذ کرنے کی تصدیق کر دی

میکسیکو سرحد پر مزید 2000 امریکی فوجی بھیجنے کا اعلان

امریکی صدر نے یہ اقدام سرحدی دیوار کے فنڈز کے حصول کے لیے کانگرس کے سامنے پیش ہونے کے بجائے اپنے اختیارات بڑھانے کے لیے اٹھایا۔

کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل زیویئر بیکیرا کا کہنا تھا وہ صدر ٹرمپ کو عدالت لے کر جائی گے ’تاکہ ان کی جانب سے صدارتی اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکا جاسکے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم صدر ٹرمپ کو ٹیکس دہندگان کی رقوم پر ڈاکہ ڈالنے سے روکیں گے جو وہ کانگرس کو بائی پاس کر کے کر رہے ہیں۔‘ یہ مقدمہ پیر کو دائر کیا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہنگامی حالت کا اعلان اس وقت کیا جب کانگرس نے سرحدی دیوار کے لیے رقوم کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔

امریکی صدر کے خلاف پہلا مقدمہ جمعے کو دائر کیا گیا۔ پبلک سٹیزن نامی ایک گروہ نے قدرتی وسائل اور تین زمین مالکان کی جانب سے یہ مقدمہ دائر کیا جن کی حدود سے یہ دیوار گزرنی تھی۔

کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے امریکی صدر کے فیصلہ کب ’سیاسی تھیٹر‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا جبکہ نیویارک کے اٹارنی جنرل لٹیٹیا جیمز نے بھی اس فیصلہ کے خلاف قانونی جنگ کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں