امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے سعودی عرب میں امریکی جوہری منصوبے کی تحقیقات

US President Donald Trump is seated during the Arab Islamic American Summit at the King Abdulaziz Conference Center in Riyadh in 2017 تصویر کے کاپی رائٹ MANDEL NGAN VIA GETTY IMAGES
Image caption صدر ٹرمپ سنہ 2017 میں ریاض میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران

امریکی کانگریس کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو حساس جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کے ایک ڈیمو کریٹ پینل نے وائٹ ہاؤس کے سعودی عرب میں جوہری ری ایکٹر تعمیر کرنے کے منصوبہ کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اس حوالے سے خبردار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مشرق وسطی میں عدم استحکام پیدا ہوگا اور جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو بڑھاوا ملے گا۔

ایوانِ نمائندگان کی نگراں کمیٹی کے مطابق اس معاملے کی ’تحقیقات خاص طور پر ضروری ہیں کیونکہ بظاہر انتظامیہ کی جانب سے سعودی عرب کو امریکہ کی حساس جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

خاشقجی قتل: ٹرمپ انتظامیہ کا قاتل کی نشاندہی سے انکار

امریکہ کی نہ ختم ہونے والی جنگیں اور صدر ٹرمپ

اسرائیل شام میں ’ایرانی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 فروری کو وائٹ ہاؤس میں جوہری توانائی پر کام کرنے والوں سے ملاقات کی اور سعودی عرب سمیت مشرق وسطی کے ممالک میں جوہری پلانٹس لگانے کے حوالے سے بات چیت کی۔

صدر ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاوس کے مشیر جیرڈ کشنر بھی رواں ماہ مشرق وسطی کا دورہ کریں گے تاکہ ٹرمپ انتطامیہ کے امن منصوبے کے معاشی پہلوؤں کے بارے میں تبادلۂ خیال کر سکیں۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اسے اپنی توانائی کے ذرائع بڑھانے کے لیے جوہری توانائی کی ضرورت ہے۔

تاہم امریکی میڈیا کے مطابق اس کی حریف ریاست ایران کی جوہری ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے اس حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی امریکی جوپری ٹیکنالوجی تک رسائی خطے میں ہتھیاروں کی ایک خطرناک دوڑ شروع کر سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاوس کے شمیر جیرڈ کشنر بھی رواں ماہ مشرق وسطی کا دورہ کریں

رپورٹ کیا کہتی ہے؟

یہ رپورٹ وسل بلوئر یعنی خبردار کرنے والوں کے کچھ بیانات اور دستاویزات پر مبنی ہے جن میں ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں اور جوہری کمپنیوں کے درمیان رابطوں کی تفصیلات ہیں۔

اس کے مطابق امریکہ کے اندر کچھ مضبوط نجی کمرشل سطح پر اس حوالے دلچسپی پائی جاتی ہے اور وہ شدت سے حساس جوہری ٹینالوجی کے سعودی عرب منتقل کیے جانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

یہ کمرشل ادارے سعودی عرب میں ان جوہری سہولیات کی تعمیر کے کنٹریکٹس کی مدد سے اربوں ڈالر کما سکتے ہیں۔ ’

رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سارے معاملے میں براہِ راست ملوث ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں