فرانس: یہودی قبروں کی بے حرمتی کے خلاف ہزاروں کا احتجاج

یہودی قبروں کی بے حرمتی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہودی مخالفت اس ملک میں ایک زہر کی طرح' پھیل رہی ہے۔ وزیرِ داخلہ کرسٹوفر کاسٹانر

فرانس میں یہودی قبروں کی بے حرمتی کے خلاف ہزاروں افراد نے مختلف شہروں اور قصبوں میں احتجاج کیا ہے۔

بڑی مرکزی ریلی پیرس میں نکالی گئی جس میں منتظمین کے مطابق کم از کم بیس ہزار افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین کا نعرہ تھا کہ ’بس بہت ہو گیا‘۔

فرانس میں پارلیمنٹ کی کارروائی کئی گھنٹوں تک معطل رہی تاکہ زیادہ سے زیادہ ارکان اس احتجاج مں شرکت کر سکیں۔ کابینہ کے زیادہ تر ارکان نے احتجاج میں حصہ لیا۔

ٹیلی وژن پر خطاب میں فرانس کے وزیرِ اعظم نے کہا ان حملوں میں ملوث افراد کو سزا دینا ضروری ہے کیونکہ یہ فرانسیسی لوگوں کی عزت کا معاملہ ہے۔

مشرقی فرانس میں مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ایک یہودی قبرستان میں تقریباً 90 سے زائد قبروں کی بے حرمتی کر گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ: یہودی عبادت گاہ میں فائرنگ، 11 افراد ہلاک

یروشلم: فرانس کے صدر کا دارالحکومت کی منتقلی پر انتباہ

امام مسجد پر یہودیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کا الزام

’اگر امریکی مسلمانوں کا اندراج ہوا تو میں بھی مسلمان ہوں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانس پھر میں 70 مقامات پر مظاہرے ہوئے

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب فرانس میں آئندہ چند روز میں یہودیوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی تعداد میں اضافے کے پیشِ نظر قومی سطح پر متعدد مظاہرے منعقد کیے جا رہے ہیں۔

فرانس انفو نامی ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے حکام نے بتایا کہ یہ واقعہ کواٹزنہائم نامی گاؤں میں پیر اور منگل کی درمیانی شب پیش آیا۔

ایک معروف دانشور کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے کے بعد صدر میکرون نے یہوری مخالف واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔

اس اختتامِ ہفتہ پر فلسفی ایلن فلکنکراٹ پو جب پیرس میں ’ییلو ویسٹ‘ مظاہرین نے چیخنے اور نازیبا یہودی مخالف نعروں کا نشانہ بنایا تو بات اتنی بگڑ گئی کہ انھیں بچانے کے لیے پولیس کو آنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سوشل میڈیا پر متعدد مقامی حکام نے اس واقعے کی مذمت کی۔

ادھر وزیرِ داخلہ کرسٹوفر کاسٹانر نے خبردار کیا ہے یہودی مخالفت اس ملک میں ’ایک زہر کی طرح‘ پھیل رہی ہے اور گذشتہ ہفتے پیرس میں متعدد واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔

ان واقعات میں ہولوکاسٹ سے بچنے والوں کی تصاویر والے پوسٹ باکسوں پر نازی نشان سواسٹکا بنانا بھی شامل ہے۔

متعدد یہودی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یورپ میں انتہائی دائیں بازو کی قوتوں کے ابھرنے سے یہودی مخالف جرائم اور دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

جرمنی سے لیے گئے جرائم کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں یہودی مخالف جرائم میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں