دولت اسلامیہ سے منسلک کتنے غیرملکی جنگجو اب بھی عراق اور شام میں ہیں؟

جہادی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولت اسلامیہ کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی ہزاروں کی تعداد میں جہادیوں نے القائدہ میں شمولیت اختیار کر لی تھی

خیال کیا جاتا ہے کہ ہزاروں غیر ملکی باشندوں نے دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے عراق اور شام کا سفر کیا تھا۔

اب جب دولت اسلامیہ کی ’خلافت‘ کا خاتمہ قریب دکھائی دیتا ہے امریکہ میدانِ جنگ سے پکڑے گئے سینکڑوں مردوں، عورتوں اور بچوں کو واپس ان کے ملکوں میں بھیجنے کے لیے مطالبہ کر رہا ہے لیکن بہت سے ملک ابھی تک اس پر رضامند نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’شمیمہ بیگم کو برطانوی شہریت سے محروم کرنے کا فیصلہ‘

’دولت اسلامیہ کی مکمل شکست ایک ہفتے میں ممکن‘

’خلافت‘ کے خاتمے کا مطلب دولت اسلامیہ کا خاتمہ بھی ہے؟

وہ شام اور عراق کیوں جانا چاہتے تھے؟

2003 میں جب امریکہ کے عراق پر حملے کے نتیجے میں صدام حسین کی حکومت ختم ہوئی تو ملک میں سنّی مزاحمتی تحریک نے زور پکڑا۔ یہی وہ وقت تھا جب جہادیوں نے عراق کی طرف سفر کرنا شروع کیا۔ خیال ہے کہ ایسے ہزاروں افراد نے عراقی القاعدہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔

2011 میں جب شام میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو مزید بہت سے جہادیوں نے شام کا رخ کیا۔ ان کی موجودگی نے نہ صرف اس تنازعے کو مزید پیچیدہ بنایا بلکہ ساتھ ہی اسے فرقہ واریت کا رنگ بھی دیتے ہوئے ملک کی اکثریتی سنّی آبادی کو علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے صدر بشار الاسد کے خلاف کھڑا کر دیا۔

2014 میں جب دولت اسلامیہ نے شام اور عراق کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا تو انھوں نے مسلمانوں کو نئی 'خلافت' کی طرف ہجرت کرنے کی تلقین کی تھی۔ اس اعلان کے بعد غیرملکی باشندوں کی آمد میں بہت اضافہ دیکھنے کو ملا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوام متحدہ کے مطابق 110 ملکوں سے 40000 سے زائد غیر ملکی جنگجوؤں نے دہشت گرد گروہ میں شمولیت کے لیے شام اور عراق کا سفر کیا

کتنے غیرملکیوں نے دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی؟

اقوام متحدہ کے مطابق 110 ملکوں سے 40 ہزار سے زیادہ غیر ملکی جنگجوؤں نے دہشت گرد گروہوں میں شمولیت کے لیے شام اور عراق کا سفر کیا۔

جولائی 2018 میں لندن میں واقع کنگز کالج کے شدت پشندی پر تحقیق کے بین الاقوامی مرکز، انٹرنیشنل سنٹر فار سٹڈی آف ریڈیکلائزیشن (آئی سی ایس آر) نے ایک تحقیق کی۔

آئی سی ایس آر نے سرکاری اور محققین کی طرف سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر یہ نتیجہ نکالا کہ 80 ممالک سے تعلق رکھنے والے 41490 افراد دولت اسلامیہ سے وابستہ تھے۔ ان میں 32809 مرد تھے، 4761 عورتیں اور 4640 بچے تھے۔

محققین کے مطابق ان میں سے 18852 افراد کا تعلق مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے تھا۔ اس کے علاوہ 7252 مشرقی یورپ، 5965 وسطی ایشیا، 5904 مغربی یورپ، 1010 مشرقی ایشیا، 1063 جنوب مشرقی ایشیا، 753 امریکاز، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، 447 جنوبی ایشیا اور 244 صحرائے سہارا کے زیریں علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔

ان میں تقریباً 850 برطانوی باشندے بھی تھے، جن میں 145 عورتیں اور 50 بچے بھی شامل تھے۔

کتنے غیر ملکی ہلاک ہوئے؟

امریکہ کی سربراہی میں دولت اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے قائم اتحاد کا، جس نے عراق اور شام کی مقامی افواج کو سنہ 2014 سے فضائی مدد اور عسکری مشیر فراہم کیے ہیں، کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے بیشتر شدت پسند یا تو مارے جا چکے ہیں یا حراست میں ہیں۔ تاہم اتحاد نے مارے جانے والے غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد کے بارے میں اندازہ لگانے سے انکار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فرقہ واریت کے عنصر متعارف کر کے غیر ملکی جنگجوؤں نے شام کی سنی اکثریت عوام کو علوی شیعوں کے خلاف کھڑا کر دیا

2017 میں برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے سربراہ نے کہا کہ دولت اسلامیہ کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے شام اور عراق جانے والے 130 برطانوی باشندے ہلاک ہو چکے ہیں۔

جو حراست میں ہیں ان کا کیا بنا؟

امریکہ کے حمایت یافتہ کرد اور عرب ملیشیا کے اتحاد سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے ایک اہلکار نے 18 فروری کو کہا تھا کہ ان کے پاس 50 ملکوں سے تعلق رکھنے والے 800 کے قریب غیر ملکی جنگجو جیلوں میں قید ہیں۔

عبدالکریم عمر نے بتایا تھا کہ اس کے علاوہ کم از کم 700 خواتین اور 1500 بچوں کو نقل مکانی کرنے والے افراد کے کیمپ میں رکھا گیا ہے۔

ایس ڈی ایف کی حراست میں موجود چند برطانویوں کی ہی نشاندہی ہوئی ہے جن میں الشفیع الشیخ اور الیگزینڈرا کوٹے بھی شامل ہیں۔ ان دونوں پر الزام ہے کہ یہ دولت اسلامیہ کے جلادوں کے گروپ کا حصہ تھے۔ اس سیل کو 'دی بیٹلز' کے نام سے جانا جاتا تھا اور انھوں نے کم از کم 27 مغربی مغویوں کے سر قلم کیے تھے۔

عمر نے اس بات پر زور دیا کہ ایس ڈی ایف غیر ملکی جنگجوؤں کو واپس ان کے ملک بھیجنا چاپتی ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ وہ ایک 'ٹائم بم' ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کرد ملیشیا کے خلاف شمالی شام میں ترکی کا ایک حملہ افراتفری پھیلا سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں جہادی جنگجو ان کی حراست سے فرار ہو سکتے ہیں۔

لیکن ان غیر ملکیوں کے آبائی ممالک نے، دولت اسلامیہ کے ارکان کو واپس لینے پر اور ان کے خلاف عدالتی کاروائی شروع کرنے کے لیے شواہد اکٹھے کرنے کی مشکلات کے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قوام متحدہ کے سکٹری جنرل اینٹونیو گوتیرس نے سکیورٹی کاؤنسل کو بتایا کہ فروری 2018 کے شروع میں یہ اطلاعات تھیں کہ 14000 سے 18000 جنگجو عراق اور شام میں موجود ہیں جن میں 3000 غیر ملکی بھی ہیں

اقوام متحدہ کے مطابق مزید 1000 سے زیادہ جنگجو عراق میں زیرِحراست ہیں۔ ان کا متعدد قومیتوں سے تعلق ہے اور کچھ کی قومیت کا ابھی بھی پتا نہیں چل سکا۔

یہ واضح نہیں کہ کیا ان اعداد و شمار میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں لیکن 1300 افراد پر مشتمل ایک گروہ کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ وہ 2017 میں تلعفر کے قریب زیر حراست لیے گئے۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا تھا کہ جون 2018 تک کم از کم 72 خواتین کے خلاف عدالتی کارروائی شروع ہوئی ہے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ غیر قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہوئیں اور انھوں نے دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی یا اس کی سہولت کار بنیں۔

ایچ آر ڈبلیو نے مزید بتایا کہ عدالت ان کو قصوروار ٹھہرایا اور انھیں یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان کا متعدد ملکوں سے تعلق تھا جن میں ترکی، روس، فرانس اور جرمنی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نو سال سے زیادہ عمر کے بچوں کے خلاف بھی عدالتی کارروائی کی گئی۔

کتنے جنگجو اب بھی جنگ کا حصہ ہیں؟

پانچ سال کی طویل، سخت اور خونی جنگ کے بعد عالمی حمایت کے ساتھ شامی اور عراقی فورسز نے دولت سلامیہ کو شکست دے کر اس کے زیرِ قبضہ علاقوں سے تقریباً نکال دیا ہے۔

لیکن اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ فروری 2018 کے شروع میں یہ اطلاعات تھیں کہ 14000 سے 18000 جنگجو عراق اور شام میں موجود ہیں جن میں 3000 غیر ملکی بھی ہیں۔

گوتیرس نے اپنی تحقیق تب شائع کی جب ایس ڈی ایف نے شام میں دولت اسلامیہ کے آخری ٹھکانوں پر کارروائی شروع کی ہوئی تھی۔

باغوز کے گاؤں کے گرد میدانِ جنگ سے بھاگنے والے جن غیر ملکیوں کو ایس ڈی ایف نے زیر حراست لیا ان میں برطانوی لڑکی شمیمہ بیگم بھی شامل ہیں۔ ان کی عمر 15 برس تھی جب انھوں نے مشرقی لندن سے بھاگ کر دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔

کیا ان میں سے کچھ واپس اپنے ملک گئے ہیں؟

آئی سی ایس آر کے محققین نے یہ معلوم کیا ہے کہ کم از کم 7366 غیر ملکی جن کا تعلق دولت اسلامیہ سے تھا اپنے ملکوں میں واپس چلے گئے۔ ان میں 256 عورتیں تھیں اور 1180 بچے بھی شامل تھے۔

جون 2018 تک، 3906 غیر ملکی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ، 1765 مغربی یورپ، 784 مشرقی یورپ، 338 وسطیٰ ایشیا، 308 جنوب مشرقی ایشیا، 156 جنوبی ایشیا، 97 امریکاز، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور 12 صحرائے سہارا کے زیریں علاقوں میں واقع اپنے ملکوں میں واپس گئے۔

آئی سی ایس آر کے مطابق برطانیہ میں واپس آنے والے 425 افراد میں صرف چار بچے اور دو عورتیں شامل تھیں۔

اقوام متحدہ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ واپس آنے والے یہ لوگ جیل سے رہا ہونے کے بعد یا دوسری وجوہات کی بنا پر پھر سرگرم ہوسکتے ہیں۔ تنظیم نے یہ بھی کہا ہے کہ شدت پسند خواتین اور خوفزدہ بچے شاید خطرہ بھی بن سکتے ہیں۔

اسی بارے میں