شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے آخری گڑھ سے شہریوں کا انخلا شروع

دولت اسلامیہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

اقوام متحدہ نے باغز میں پھنسے 200 سے زائد خاندانوں کی قسمت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا

شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے زیر قبـضہ آخری علاقے سے بسوں کے ذریعے لوگوں کا انخلا شروع ہو گیا ہے۔ سرحد پر موجود صحافیوں نے عراقی سرحد کے قریب باغز کے گاؤں سے کم از کم دس گاڑیوں کو لوگوں کو نکالتے دیکھا ہے۔

امریکی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) اتحاد کے ترجمان، جس کے جنگجوؤں نے علاقے کو گھیرے میں لیا ہوا ہے، کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کو علاقے سے نکال رہے ہیں۔

منگل کے روز اقوام متحدہ نے باغز میں مبینہ طور پر پھنسے 200 سے زائد خاندانوں کی قسمت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔

انسانی حقوق کی سربراہ مشیل بائچلیٹ نے کہا کہ ان افراد کو بظاہر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے نکلنے سے دانستہ طور پر روکا جا رہا ہے اور ان افراد کو شامی جنگجوؤں اور امریکی اتحادی افواج کی طرف کی جانے والی شدید بمباری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

انھوں نے جنگی فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ جو افراد وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں ان کو محفوظ راستہ دیا جائے اور جو وہاں رکنا چاہتے ہیں ان کو بھی جہاں تک ممکن ہو سکے تحفظ فراہم کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

صحافیوں نے عراقی سرحد کے قریب باغز کےگاؤں سے کم از کم دس گاڑیوں کو لوگوں کو نکالتے دیکھا ہے

بائچلیٹ کے بیان کے گھنٹوں بعد عسکریت پسندوں کی بیویوں اور بچوں کو نکالنے کے ایک معاہدے کی غیر مصدقہ اطلاعات کے پیش نظر تقریباً 50 بسوں کا قافلہ باغز کے مضافات میں پہنچا ہے۔ تاہم روئٹرز خبر رساں ادارے کے مطابق کوئی بھی بس شام تک وہاں سے نہیں نکلی تھی۔

بدھ کے روز پہلی بس کے انخلا سے قبل امریکی اتحادی افواج نے علاقے کو فضائی حملہ سے نشانہ بنایا تھا

پانچ سال قبل، شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ مغربی شام سے لے کر مشرقی عراق تک 88000 مربع کلومیٹر کے وسیع علاقے پر قابض تھی۔ جہاں اس نے تقریباً 80 لاکھ افراد پر بہیمانہ طریقے سے حکمرانی کرنے کے ساتھ ساتھ تیل کے ذخائر، بھتہ خوری، راہزنی اور اغوا برائے تاوان سے اربوں ڈالر کمائے تھے۔ اب ایک اندازے کے مطابق آدھے کلومیٹر مربع کے علاقے میں 300 شدت پسند موجود ہیں۔