بے ریاست ہونے کا کیا مطلب ہے؟ دنیا میں ایسا کہاں ہوتا ہے؟

شمیمہ بیگم
Image caption شمیمہ بیگم ۔ جنہوں نے لندن سے فرار ہو کر دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر لی تھی، اب واپس پرطانیہ آنا چاہتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق، بے ریاست ایسا شخص ہوتا ہے جسے ’کسی بھی ریاست کے قوانین کے تحت شہری تسلیم نہیں کیا جاتا۔‘

دوسرے الفاظ میں، ایسا شخص جو کسی ملک کی شہریت نہیں رکھتا۔

زیادہ تر افراد کو، جہاں وہ پیدا ہوئے ہوں ان کی پیدائش کے ساتھ ہی شہریت مل جاتی ہے یا والدین کی وراثت کی وجہ سے وہ شہریت حاصل کر لیتے ہیں۔

لیکن اقوام متحدہ (سنہ 2014 کے ڈیٹا) کے اندازوں کے مطابق، دنیا بھر تقریباً 10 ملین افراد بے ریاست ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ایسی آبادیوں میں رہتے ہیں جہاں ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے یا وہ قانون میں اچانک تبدیلیوں کے تابع ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’شمیمہ بیگم بنگلہ دیشی شہری نہیں‘

امریکہ کا ہدیٰ موتہانہ کو اپنا شہری ماننے سے انکار

عراق، شام میں کتنے غیرملکی جنگجو باقی رہ گئے؟

شمیمہ بیگم کے کیس نے شہریت پر کی جانے والی بحث کو بڑھا دیا ہے۔

مثال کے طور پر میانمار میں تقریباً 8000000 روہنگیا افراد بے ریاستی کی حالت میں رہ رہے ہیں۔

جبکہ ڈومینکن ریپبلک میں ایک قانونی فیصلہ، جو سنہ 1929 سے لے کر بعد والے بغیر کاغذات تارکینِ وطن کے بچوں کو ڈومینکن شہریت لینے سے روکتا ہے، کے تحت شاید دس لاکھ ہیشین افراد بھی بے ریاستی کی حالت میں رہ رہے ہوں۔

سیاست اور تنازعات کی زد میں آکر بھی کچھ لوگ بے ریاست ہوگئے ہیں۔ اکثر اوقات وہ پناہ گزین ہوتے ہیں، اور تمام پناہ گزین بے ریاست نہیں ہوتے۔

ایسے بھی بے ریاست افراد ہیں جنہوں نے کبھی کوئی بین الاقوامی سرحد پار نہیں کی۔ شاید ایسی نسلی اقلیتیں بھی ہوں جن کا وجود نہیں رہا اور جس سر زمین پر وہ رہتے ہوں اس کی ملکیت تبدیل ہو گئی ہو یا ان کی قوم جنگ میں شکست کھا گئی ہو۔

اور دوسرے اوقات، لوگ بے ریاست ہو جاتے ہیں کیوں کہ ان کا ملک انہیں شہریت سے محروم کر دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سنہ 2015 میں شمیمہ بیگم کی عمر 15 سال تھی جب وہ لندن سے فرار ہو کر شام گئیں

شمیمہ بیگم۔ ایک برطانوی لڑکی جس نے لندن سے فرار ہو کر دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر لی۔ حالی میں واپس آنے کی خواہش ظاہر کرنے کے بعد ان کو برطانیہ کی شہریت سے محروم کر دیا گیا ہے۔

کسی کو شخص کو اس کی برطانوی شہریت سے محروم کرنا تب ہی ممکن ہے اگر وہ کہیں اور شہریت کے قابل ہوں ۔ اور یوکے ہوم آفس کا خیال ہے کہ شمیمہ بیگم شاید بنگلہ دیشی شہری ہوسکتی ہیں کیوں کہ وہ ایسی ماں سے پیدا ہوئیں جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ بنگلہ دیشی ہیں۔

تاہم بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے انہیں بنگلہ دیشی شہری ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے کا 'سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔'

قانونی ماہرین نے بی بی سی کو بتایا کہ بنگلہ دیشی قانون کے تحت شمیمہ بیگم کی طرح کا ایک برطانوی شہری جس کے والدین بنگلہ دیشی ہوں، خود بخود بنگلہ دیشی شہری بن جاتا ہے۔ لیکن 21 سال کی عمرمیں اس کی بنگلہ دیشی شہریت ختم ہوجاتی ہے (شمیمہ بیگم 19 سال کی ہیں)، جب تک وہ اسے فعال اور اسے برقرار رکھنے کی کوششیں نہ کریں۔

بے ریاست افراد کو کیا حقوق حاصل ہیں؟

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ برطانوںی حکومت نے کسی فرد کی شہریت ختم کرنے کی کوشش کی ہو۔ سنہ 2017 میں وہ ایک اپیل کیس ہار گئے تھے جس میں دو بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہریوں کی شہریت، ان کے بیرونِ ملک ہونے کے باعث ختم کردی گئی تھی۔

فارن پالیسی تھنک ٹینک چوٹھم ہاؤس میں بین الاقوامی قوانین کے ماہر، روما منڈال کہتے ہیں 'عام طور پر بے ریاست ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس کوئی شناختی دستاویزات نہیں ہیں۔'

تو ایک بے ریاست فرد کے پاس کیا انسانی حقوق رہ جاتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اندازے کے مطابق تقریباً 8000000 روہنگیا افراد میانمار میں بے ریاستی کی حالت میں رہ رہے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد بنگلہ دیش میں سرحد کے دونوں جانب پناہ گزینوں کے طور پر رہ رہے ہیں

اور اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ان کو یہ حقوق ملیں ؟

شہریت کہ بغیر ان کو پاسپبرٹ کون فراہم کرے گا، ان کی شناخت کی تصدیق کون کرے گا، یا صحت، رہائش اور تعلیم تک رسائی کی ضمانت دے گا؟

ایک درست پاسپورٹ یا دستاویزات کے بغیر، قانونی طور پر سرحدوں کے پارسفر ناممکن ہے۔ یہ بچے کی پیدائش کے اندراج سے لے کر سکول اور ہسپتالوں کے استعمال، نوکری کے حصول اور ادائیگی، مراعات کا حصول حتی کہ گاڑی یا گھر تک کرائے پر لینے کو انتہائی ناممکن بنا دیتا ہے۔

بے ریاستی کا تعین

کچھ یورپی ممالک میں ایسا نظام ہے جسے ’بے ریاستی کا تعین‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کے تحت ایسے افراد کو ریزیڈینسی کاغذات اور بیرونِ ملک سفر کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں جو کوئی شہریت نہیں رکھتے۔ پناہ گزینوں کے لیے قائم کیے گئے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمیشنر آفس کے خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ ممالک اسے اپنائیں، لیکن وسیع پیمانے پریہ پریکٹس رائج نہیں۔

سنہ 1954 میں اقوامِ متحدہ نے بے ریاست افراد کے ساتھ کم سے کم معیار کا سلوک قائم کرنے کے لئے ایک کنونشن نکالا: یعنی تعلیم، روزگار اور رہائش کا حق۔ یہ بے ریاست افراد کو بھی شناخت، سفری دستاویزات اور انتظامی مدد کی ضمانت دیتا ہے۔

بے ریاست افراد کی تعداد کو روکنے اور کم کرنے کے مقصد کے تحت، سنہ 1961 میں ایک نیا کنونشن لایا گیا جس میں شہریت کے لیے ہر بے ریاست فرد کے حقوق یقینی بنانے کے لیے، ایک بین الاقوامی فریم ورک قائم کیا گیا۔

اس کنونشن میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر انہوں نے کوئی دوسری قومیت حاصل نہیں کی تو بچوں کو اسی ملک کی شہریت حاصل ہوگی جس میں وہ پیدا ہوئے ہیں، اور شہریت سے دستبرداری یا کسی اور وجہ پر کی بنا پر ہوئی بے ریاستی کی روک تھام کے لیے، یہ کنونشن اہم حفاظتی اقدامات کا تعین بھی کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہدیٰ موتہانہ ایک 24 سالہ لڑکی ہیں جو الابامہ ریاست میں پلی بڑھی لیکن 20 سال کی عمر میں انہوں نے دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے لیے شام کا سفر کیا

لیکن یہ کنونشن ایسے مواقع کا تعین بھی کرتا ہے جب ریاست کسی شخص کو اس کی شہریت سے محروم کر سکتی ہے، چاہے اس کے نتیجے میں وہ بے ریاست ہو جائیں۔ اور ایسے افراد پائے جاتے ہیں جن کے خلاف اس طرح کی کاروائی کی گئی اور وہ بے ریاست ہو گئے۔

سنہ 2003 میں ان قوانین کے تعارف کے بعد، جو دہری شہریت والے ایسے افراد کی برطانوی شہریت ختم کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جن کے بارے میں یہ خیا ل ہو کہ انہوں نے کوئی ایسا کام کیا ہو جو برطانیہ کے اہم مفادات کے خلاف ہے، متنازعہ بنیاد پرست مسلمان ملا شیخ ابو حمزہ کو ان کی برطانوںی شہریت سے محروم کردیا گیا تھا۔

لیکن سنہ 2010 میں وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل جیت گئے جس میں ان کے ’بے ریاست‘ ہونے پر بحث کی گئی تھی کیوں کہ وہ اپنی مصر کی شہریت بھی کھو چکے تھے۔

امریکہ دولتِ اسلامیہ کی دولہنوں سے کیسے نمٹ رہا ہے؟

یہ بحث امریکہ میں بھی بڑھ رہی ہے کہ ایسے شہری جو شام جا کر اسلامی ریاست گروپ میں شمولیت کے بعد واپس آنا چاہتے ہیں، ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ ہدیٰ موتہانہ ایک 24 سالہ لڑکی ہیں جو الابامہ ریاست میں پلی بڑھی لیکن 20 سال کی عمر میں انہوں نے دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے لیے شام کا سفر کیا۔

اب ان کا ایک 18 ماہ کا بیٹا ہے اور وہ امریکا واپس آنا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں دولتِ اسلامیہ میں شمولیت پر بہت پچھتاوا ہے اور انہوں نے اپنی ان سوشل میڈیا پوسٹس پر معافی بھی مانگی ہے جن میں انہوں نے گروپ اور اس کے مقاصد کی تشہیر کی تھی۔

لیکن امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے دولتِ اسلامیہ کی پروپیگینڈا کرنے والی بننی کے لیے امریکا چھوڑا اور انہیں واپسی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے سیکرٹری آف سٹیٹ، مائیک پومپیو کو ’ہدیٰ موتہانہ کے ملک میں واپس نہ آنے کی اجازت‘ دینے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

مائیک پومپیو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مس موتہانہ امریکی شہری نہیں تھیں اور نہ ہی انہیں مانا جائے گا۔ تاہم، ہدیٰ موتہانہ کا خاندان اور ان کے وکیل موتہانہ کے امریکی شہری ہونے کے بیان پر قائم ہیں۔ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کی موقلہ چاہتی ہیں کے ان کے ساتھ مروجہ طریقہ کار کے مطابق سلوک کیا جائے اور اگر وہ قصوروار قرار دی جائیں تو اس صورت میں وہ جیل جانے پر بھی رضامند ہیں۔

انہوں نے کہا ’ہم اس پوائنٹ پر نہیں جا سکتے جہاں ہم قانون توڑنے والے افراد کو شہریت سے محروم کردیں۔ امریکا ایسا نہیں ہے۔‘

تاہم مسٹر پومپیو کا کہنا تھا کہ ’مس موتہانہ کے پاس کوئی قانونی بنیاد نہیں، درست امریکی پاسپورٹ نہیں، پاسپورٹ کا حق بھی نہیں، نہ ہی ان کے پاس امریکا کے سفر کے لیے ویزا ہے‘ ان کا مذید کہنا تھا کہ ’ہدیٰ موتہانہ امریکی شہری نہیں ہیں اور نہ ہی ان کو امریکا میں تسلیم کیا جائے گا۔`

اسی بارے میں