ہدیٰ موتہانہ: دولتِ اسلامیہ کی دلہن کے والد کا ان کی امریکہ واپسی کے لیے مقدمہ

ہدیٰ موتہانہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ سے فرار ہو کر دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے والی طالبہ ہدٰی موتہانہ کے والد اپنی بیٹی کی امریکہ واپسی کے حق کے لیے حکومت کے خلاف عدالت پہنچ گئے ہیں۔

احمد علی موتہانہ نے جمعرات کے روز ایک مقدمہ درج کروایا ہے جس میں ٹرمپ انتظامیہ پر ہدیٰ موتہانہ کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے ’غیر قانونی کوششوں‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اپنی واپسی پر ہدیٰ موتہانہ، فیڈرل چارجز کا سامنے کرنے پر رضامند ہیں۔

لیکن صدر ٹرمپ نے دولتِ اسلامیہ کی پروپیگینڈا کرنے والی طالبہ کا امریکہ میں داخلہ روکنے کے لیے حکام کو احکامات جاری کیے ہیں۔

ہدیٰ موتہانہ جو اب 24 سال کی ہیں، ریاست الابامہ میں پلی بڑھیں لیکن 20 سال کی عمر میں انہوں نے اپنے خاندان کو بتائے بغیر، کالج سے داخلہ واپس لیتے ہوئے اپنی ٹیوشن کے پیسوں سے ترکی کا ٹکٹ لے کر دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے لیے شام کا سفر کیا۔

اب ان کا ایک 18 ماہ کا بیٹا ہے اور وہ اس کے ساتھ ملک میں واپس داخل ہونے کے حق کے لیے لڑ رہی ہیں۔

مقدمہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ مس موتہانہ شام میں اپنے اعمال پر امریکی حکومت کی طرف سے کسی قسم کی پراسیکیوشن سے بچنے کے لیے بحث نہیں کر رہیں، لیکن وہ چاہتی ہیں کہ ان کی اور ان کے بچے کی امریکی شہریت قانونی طور پر تسلیم کی جائے۔

مقدمے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’مس موتہانہ نے عوامی طور پر اپنے اقدامات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی پوری ذمہ داری لی ہے۔‘

’مس موتہانہ کے الفاظ میں، وہ تسلیم کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی برباد کر لی ہے، لیکن وہ اپنے بچے کی زندگی برباد نہیں کرنا چاہتیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’اتحادی دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو واپس لیں‘

عراق، شام میں کتنے غیرملکی جنگجو باقی رہ گئے؟

’شمیمہ بیگم بنگلہ دیشی شہری نہیں‘

سیکرٹری آف سٹیٹ، مائیک پومپیو نے بدھ کے روز کہا کہ مس موتہانہ کوئی ’قانونی بنیاد‘، پاسپورٹ یا کسی قسم کے امریکی ویزا کا ’حق‘ نہیں رکھتیں۔

مسٹر پومپیو نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ کے اس فیصلے کے پیچھے، اقوام متحدہ کے یمنی سفارتکار کے طور پر ان کے والد کی سابقہ حیثیت تھی۔

امریکی قانون کے مطابق، سفیروں کے بچوں کو امریکی شہری نہیں سمجھا جاتا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے مسٹر موتہانہ کی ایک سفارتکار کے طور پر خدمت بند کرنے اور ان کی بیٹی کی پیدائش کے وقت کی عین ٹائم لائن پر لڑا جا رہا ہے۔

خاندان اس موقف پر قائم ہے کہ سنہ 2004 میں مس موتہانہ کو امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے شہری تسلیم کرتے ہوئے پاسپورٹ جاری کیا گیا تھا۔

اس ہفتے کے آغاز میں مس موتہانہ کے وکیل، حسن شبلی نے ایک تصویر ٹوئٹر پر شئیر کی جو ان کے مطابق ہدیٰ موتہانہ کی امریکی پیدائش کا سرٹیفکیٹ تھا۔

مس موتہانہ کے والد کی نمائندگی امریکی مسلمانوں کا آئین اور قانون سے متعلق سینٹر کر رہا ہے۔

سینیٹر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس خاندان کے معاملے کو لیا ہے کیونکہ آئین کے مطابق شہریت ایک ایسا اہم حق ہے جو ایک بار تسلیم ہونے کے بعد یک طرفہ ٹویٹ سے ختم کرنے کے قابل نہیں ہونا چاہیے۔ چاہے کسی شخص کا برتاؤ کتنا ہی قابلِ اعتراض کیوں نہ ہو۔

مس موتہانہ اور ان کا بیٹا فی الحال شام کے کرد کیمپ میں مقیم ہیں۔ سی این این کو دئیے گئے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ جب سالوں پہلے انہوں نے امریکہ چھوڑا وہ ایک ’سیدھی سادی، غصیلی اور گھمنڈی لڑکی‘ تھیں۔

’شام میں گزارے گئے سالوں کے دوران میں نے جس طرح کی زندگی اور جنگ کے خوفناک اثرات دیکھے اور ان سے گزری، اس سب نے مجھے بدل دیا ہے۔ خون خرابے کو اتنا قریب سے دیکھنے نے مجھے بدل دیا ہے۔ ماں بننے کے احساس نے مجھے بدل دیا ہے۔ دوستوں، بچوں اور جن مردوں سے میں نے شادی کی، ان سب کو مرتے ہوئے دیکھنے نے مجھے بدل دیا ہے۔‘

یہ مقدمہ برطانیہ میں پیدا ہونے والی لڑکی شمیمہ بیگم کے مقدمے سے مماثلت رکھتا ہے، جنہیں ان کی برطانوی شہریت سے محروم کردیا گیا ہے۔ شمیمہ بیگم نے سنہ 2015 میں برطانیہ سے فرار ہو کر دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر لی تھی لیکن اب وہ برطانیہ واپس آنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں