ہیومن رائٹس واچ: عراق اور کرد علاقوں میں 1500 بچے قید

قید تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ عراق اور اس کے کرد انتظامی علاقوں میں تقریباً ڈیڑھ ہزار بچوں کو نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ساتھ مبینہ تعلق کے الزام میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

اپنی ایک رپورٹ میں اس نے کہا کہ مشتبہ افراد کی گرفتاری میں من مانی کی جاتی ہے اور زبردستی اعتراف کرانے کے لیے انھیں ٹارچر کیا جاتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے عراقی اور کرد حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس قسم کی حراست کو ختم کرنے کے لیے انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ترمیم کریں جو ان کے مطابق بین الاقوامی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے۔ عراقی اور کرد حکام نے ابھی تک اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

اس سے قبل کرد حکومت نے ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ بچوں کو دولت اسلامیہ سے تعلق کا اعتراف کرنے کے لیے ٹارچر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عراق میں دولت اسلامیہ کے جوابی ہتھکنڈے

حکومت نواز عراقی ملیشیا پر قیدیوں کے قتل کا الزام

جنوری میں ایک اہلکار نے کہا تھا کہ مقامی حکام کی ایسے بچوں کی 'باز آباد کاری' کی پالیسی ہے، ٹارچر ممنوع ہے اور بچوں کو وہی حقوق حاصل ہیں جو دوسرے قیدیوں کو ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوام متحدہ کے مطابق 110 ملکوں سے 40000 سے زائد غیر ملکی جنگجوؤں نے دہشت گرد گروہ میں شمولیت کے لیے شام اور عراق کا سفر کیا

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟

53 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2018 کے اختتام پر عراقی اور کرد حکام نے تقریباً ڈیڑھ ہزار بچوں کو دولت اسلامیہ کے ساتھ مبینہ تعلق کے الزام میں حراست میں لے رکھا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے عراقی حکومت کے حوالے سے کہا ہے کہ تقریباً 185 غیر ملکی بچوں کو دہشت گردی کا مرتکب قرار دے کر انھیں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا مقامی حکام پر الزام ہے کہ وہ:

  • عام طور پر کسی بھی بچے کو دولت اسلامیہ کے ساتھ تعلق کے شبے میں گرفتار کرتے ہیں
  • ٹارچر کے ذریعے زبردستی ان سے اعتراف جرم کراتے ہیں اور
  • مشتبہ افراد کو جلد بازی میں غیر منصفانہ سماعت کے بعد سزا سناتے ہیں

ہیومن رائٹس واچ میں بچوں کے حقوق کی وکالت کے ڈائریکٹر جو بیکر نے کہا: 'سزا دینے کا یہ عمومی اپروچ انصاف نہیں ہے اور بعض بچوں پر ان کے تاحیات منفی اثرات مرتب ہوں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولت اسلامیہ کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی ہزاروں کی تعداد میں جہادیوں نے القائدہ میں شمولیت اختیار کر لی تھی

ہیومن رائٹس واچ نے کیا مثالیں پیش کیں؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ نومبر میں 29 بچوں کو دولت اسلامیہ کے ساتھ مبینہ تعلق کے لیے گرفتار کیا گیا۔

اس میں کہا گيا ہے کہ ان میں سے 19 بچوں نے بتایا ہے کہ انھیں ٹارچر کیا گیا جس میں پلاسٹک کے پائپس، بجلی کی تاروں اور لوہے کے سریوں سے پٹائی شامل ہے۔

عراقی حراست میں قید ایک 17 سالہ بچے نے بتایا کہ اسے بار بار کلائی سے باندھ کر دس دس منٹ کے لیے لٹکایا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن بچوں سے انٹرویو کیے جا سکے ان میں سے زیادہ تر نے کہا کہ انھوں نے پیسے کی ضرورت، اپنے ساتھی یا اہل خانہ کے دباؤ میں دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔

بعض نے گھریلو دباؤ اور مقامی سطح پر رتبہ حاصل کرنا وجہ بتائی۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ جو بچے رہا کر دیے گئے ہیں وہ دولت اسلامیہ کے ساتھ تعلق کے داغ اور انتقامی کارروائیوں کے ڈر سے اپنے گھر جانے سے خوفزدہ ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی نظر میں جن بچوں کو مسلح جنگجو تنظیموں میں بھرتی کیا جاتا ہے وہ بنیادی طور پر مظلوم ہیں جن کی بحالی کی جانی چاہیے اور سماج میں دوبارہ شامل کیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں